Tuesday , November 21 2017
Home / عرب دنیا / بنگلہ دیش پولیس کی بلاگرس کو حد سے تجاوز نہ کرنے کی ہدایت

بنگلہ دیش پولیس کی بلاگرس کو حد سے تجاوز نہ کرنے کی ہدایت

مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، سرورکائنات ؐ نے بھی میانہ روی کا درس دیا ہے، امریکی سراغ رسانوں کی بنگلہ دیشی سراغ رسانوں سے ملاقات
ڈھاکہ ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش پولیس نے آج سیکولر بلاگرس کو ہدایت کی ہیکہ وہ اپنے حدود سے تجاوز نہ کریں کیونکہ جب وہ مذہبی امور پر کچھ بھی تحریر کرتے ہیں تو حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں جبکہ حکام نے اب تک چوتھے بلاگر کے قتل کا معمہ سلجھانے میں کوئی پیشرفت نہیں کی ہے جسے القاعدہ سے مربوط مشتبہ اسلام پسندوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ دریں اثناء انسپکٹر جنرل آف پولیس اے کے ایم شہید الحق نے کہا کہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا انتہائی غیرمناسب حرکت ہے۔ مذہبی امور پر اگر کوئی بات ضبط تحریر میں لائی جاتی ہے تو اس میں میانہ روی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہر وہ کام اور ہر وہ چیز جو اپنی حدود سے تجاوز کرجاتی ہے، وہ تکلیف دہ بن جاتی ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش نیوز نے بھی مسٹر حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آزاد خیال ہیں اوران کی سوچ دوسرے لوگوں سے مختلف ہے، انہیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی ضرور ہے لیکن مذہب کے نام پر کسی کی دلآزاری کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حضوراکرم حضرت محمد ؐ نے بھی دنیا کا ہر کام کرنے میں میانہ روی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بلاگر نیلائے چکربرتی نیل کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹر حق نے بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ جمعہ کے روز نیل کے فلیٹ میں چار افراد نے گھس کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور جاریہ سال ہلاک ہونے والا یہ چوتھا بلاگر ہے۔ قتل کے کچھ دیر بعد ہی القاعدہ کی برصغیر میں چلائی جارہی شاخ انصار الاسلام نے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی اور نیل کو دشمن اسلام قرار دیا تھا تاہم پولیس کا یہ کہنا ہے کہ ممنوعہ انصار الاسلام کے اس قتل میں ملوث ہونے کی توثیق نہیں ہوئی ہے۔ دریں اثناء ایف بی آئی (امریکہ) کے سراغ رسانوں کی ٹیم سے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش سراغ رسانوں سے ملاقات کی جو اپنی تکنیکی مہارت کا تبادلہ بنگلہ دیشی سراغ رسانوں کی ٹیم کے ساتھ کرنا چاہتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر (ڈیٹکٹیو برانچ) محبوب عالم نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ علاوہ ازیں دونوں ٹیموں کے درمیان سیکولر مصنف اویجپت رائے کے قتل میں کی جانے والی تحقیقات کے موقف پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مسٹر محبوب نے مزید کہا کہ پولیس دراصل اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ نیل کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جو ای میل روانہ کیا گیا ہے وہ کسی بیرون ملک سے نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے ہی کسی مقام سے روانہ کیا گیا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر محبوب نے کہا کہ جائے واردات پر خون کے دھبوں سے بھرا ہوا جوٹی شرٹ دستیاب ہوا ہے وہ اس کیس کی تحقیقات میں مددگار ثابت ہوگا اور پولیس کیلئے ایک کلیدی ثبوت ہے۔ وزیر صنعت امیر حسین نے کل ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ بلاگرس کی ہلاکتوں کے پس پشت سیاسی محرکات کارفرما ہیں اور یہ منصوبہ بند قتل ہیں اور اس میں ایسے لوگ ملوث ہیں جو تشدد کے ذریعہ ملک کے استحکام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT