Thursday , October 18 2018
Home / دنیا / بنگلہ دیش ڈیجیٹل سیکوریٹی ایکٹ پر نظرثانی کرے : امریکہ

بنگلہ دیش ڈیجیٹل سیکوریٹی ایکٹ پر نظرثانی کرے : امریکہ

صدر عبدالحمید کے ذریعہ قانون سازی بین الاقوامی قانون کی سراسر خلاف ورزی
میڈیا اور آزادی اظہارخیال پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا بیان
واشنگٹن ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے بنگلہ دیش سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے متنازعہ نئے قانون پر نظرثانی کرے جس کے تحت میڈیا کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملک کے ذریعہ کی جانے والی انسانی حقوق والے بین الاقوامی اور سیاسی آزادی والے قوانین سے مربوط کرے۔ یاد رہے کہ 8 ستمبر کو بنگلہ دیش کے صدر عبدالحمید نے نئے ڈیجیٹل سیکوریٹی ایکٹ پر دستخط کرتے ہوئے اسے باقاعدہ ایک قانون میں تبدیل کردیا جو سامراجی دور کے سرکاری سیکریٹس ایکٹ کو نئے اور سخت قوانین جیسے بغیر وارنٹ کے گرفتاری سے مربوط کرتا ہے۔ اس قانون کے چند انتہائی غیرانسانی پہلو یہ ہیں 1971 میں پاکستان سے آزادی کے لئے بنگلہ دیش کی جنگ کا پروپگنڈہ کرنے والے کو جیل کی سخت سزائیں اور جارحانہ اور خوفزدہ کرنے والی معلومات کو شائع کرنے پر تین سال کی سزاء دی جائے گی۔ دریں اثناء امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بنگلہ دیش حکومت کے اس قانون کو بنگلہ دیش کے بین الاقوامی وعدے جو اس نے انسانی، سیول اور سیاسی حقوق سے متعلق کر رکھے ہیں، کو ان ہی کے تحت رکھنے کی پُرزور اپیل کرتے ہیں۔ اس قانون کے ذریعہ میڈیا ارکان کی حرکات و سکنات کو محدود کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے نئے قانون پر نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونی ممالک میں بھی تنقیدیں کی جارہی ہیں جن میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ اور یوروپی یونین شامل ہیں حالانکہ ہم ڈیجیٹل سیکوریٹی کے تحفظ کو مسلمہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ ہم اس تشویش کو بھی شیئر کرتے ہیں جہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ بنگلہ دیش کے ڈیجیٹل سیکوریٹی ایکٹ کے ذریعہ آزادی اظہارخیال کو سلب کرلیا جائے گا جو بنگلہ دیش کی جمہوری اقدار، ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرسکتی ہے۔ امریکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اظہارخیال کی آزادی جن میں آن لائن اظہار بھی شامل ہے، کی ہمیشہ سے وکالت کرتا آیا ہے اور بنگلہ دیش سے ایک بار پھر درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل سیکوریٹی ایکٹ پر نظرثانی کرے۔ بغیر وارنٹ کے گرفتاری والے معاملات پر بھی نظر رکھے کیونکہ اس طرح پولیس کو بیجا اختیارات حاصل ہوجائیں گے جو بالآخر عوامی ناراضگی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ دوسری طرف ہیومن رائٹس واچ کے ایشیاء ڈائرکٹر براڈ آڈمس نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیا ڈیجیٹل قانون بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کا بیجا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں یوروپی یونین رکن ممالک کے سربراہان مشن، یوروپی یونین وفد اور ناروے اور سوئٹزرلینڈ کے سربراہان مشن نے بھی ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے آزادی اظہارخیال پر پابندی اور میڈیا کی آزادی والے قانون پر شدید نکتہ چینی کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اس سے عدلیہ کے ذریعہ دی جانے والی طمانیت شک و شبہات کے دائرہ میں آجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT