Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / بنگلہ دیش کی مختلف یونیورسٹیوں میں احتجاجی مظاہرے ، 100 زخمی

بنگلہ دیش کی مختلف یونیورسٹیوں میں احتجاجی مظاہرے ، 100 زخمی

ڈھاکہ ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ڈھاکہ کی ایک یونیورسٹی کے ہزاروں طلباء نے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیئے جس کی وجہ سے رونما ہوئی جھڑپوں میں 100 طلباء کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس نے احتجاجی طلباء کو منتشر کرنے کیلئے ربر کی گولیاں چلائیں۔ طلباء کو شکایت ہیکہ حکومت کے ’’جاب کوٹہ‘‘ میں ایک مخصوص گروپ کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ کہا جارہا ہیکہ وزیراعظم شیخ حسینہ کے دس سالہ دوراقتدار میں یہ اعظم ترین احتجاجی مظاہرہ تھا جبکہ آج ایک وزیر کو احتجاجی طلباء سے ملاقات کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ دریں اثناء پولیس اور میڈیا نے بتایا کہ ملک گیر پیمانے پر چٹگانگ، کھلنا، راج شاہی، باریسال، رنگ پور، سیلہٹ اور ساور میں واقع یونیورسٹیوں کے طلباء نے احتجاج اور دھرنے کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ جہانگیر یونیورسٹی میں زائد از 1000 طلباء نے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی۔ جھڑپوں کی وجہ سے ڈھاکہ یونیورسٹی ایک میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ طلباء دراصل اس لئے ناراض ہیں کہ ملک کی جدوجہد آزادی کے مجاہدین کے ارکان خاندان کیلئے یونیورسٹی میں داخلہ کیلئے 30 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ کے مرحوم والد شیخ مجیب الرحمن بنگلہ دیش کی آزادی کے روح رواں تھے۔ شیخ حسینہ نے طلباء کے مجاہدین آزادی کے ارکان خاندان کیلئے مختص 30 فیصد کوٹہ میں کمی کے مطالبہ کو مسترد کردیا۔

TOPPOPULARRECENT