Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / بنگلہ دیش کے جماعت اسلامی سربراہ کی سزائے موت برقرار

بنگلہ دیش کے جماعت اسلامی سربراہ کی سزائے موت برقرار

جنگی جرائم کے آخری مجرم کیسپریم کورٹ میں اپیل مسترد‘ پھانسی پر لٹکانے کی راہ ہموار
ڈھاکہ۔6جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش کے سپریم کورٹ نے بنیاد پرست جماعت اسلامی کے ایک سرکردہ لیڈر کو 1971ء میں پاکستان کے خلاف لڑی گئی جنگ آمادی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب پر دی گئی سزائے موت کو آج جائز قرار دیا جس کے ساتھ ہی  انہیں پھانسی پر لٹکائے جانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ جسٹس ایس کے سہنا کے زیرقیادت چار رکنی بنچ نے جماعت اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمن کی اپیل مسترد کردی ۔ مطیع الرحمن نظامی نے اپنی بے رحم و رسوائے زمانہ تنظیم البدر ملیشیاء کا استعمال کرتے ہوئے 1971میں بنگلہ دیش کی کئی انتہائی قابل اور ذہین شخصیات کا قتل عام کیا تھا ۔ استغاثہ کے سینئر وکیل جید الملوم نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’ عدالت عظمی نے ان ( مطیع ) کی سزائے موت پر مہر ثبت کردی ۔ قبل ازیں جنگی جرائم کے بین الاقوامی ٹریبیونل نے انہیں یہ سزائے موت دی تھی ‘‘ ۔ اس فیصلے کے خیرمقدم کیلئے عوام کی کثیر تعداد عدالت کے احاطہ میں جمع ہوچکی تھی جہاں سخت ترین پہرہ دیا جارہا تھا ۔ عدالت نے 73سالہ مطیع الرحمن نظامی کو تین الزامات پر سزائے موت اور دیگر دو الزامات پر ضعیف العمری کو ملحوظ رکھتے ہوئے عمرقید دی تھی ۔ بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف جرائم کے باقیماندہ مجرمین میں مطیع الرحمن نظامی آخری مجرم تھے ۔ نظامی 1971 میں اسلامی چھاترا سانگھا کے صدر تھے ۔ بنگلی بغاوت کو کچلنے کیلئے پاکستانی فوج کی طرف سے تشکیل دی گئی البدر ملیشیاء کی قیادت کی تھی ۔
یمن پر سعودی فضائی حملوں میں شدت
صنعا ۔ 6 ۔ جنوری  (سیاست ڈاٹ کام) یمن سیکوریٹی عہدیداروں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے زیر قیادت عرب فوجی اتحاد نے حوثی کہلائے جانے والے شیعہ باغیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دارالحکومت صنعاء پر کئے جانے والے فضائی حملوں میں شدت پیدا کردی۔ ان عہدیداروں نے کہا کہ صدارتی عمل اور ایرپورٹ کے بشمول صنعا میں باغیوں کے کئی ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روزے کئے گئے فضائی حملوں میں کم سے کم 20 حوثی ہلاک ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT