Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / بنگلہ دیش کے ہندو تارکین کو ہندوستان میں بسانے کی تائید

بنگلہ دیش کے ہندو تارکین کو ہندوستان میں بسانے کی تائید

سلچر ۔ /22 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے آج کہا کہ بنگلہ دیش سے نقل مقام کرتے ہوئے ہندوستان میں داخل ہونے والے ہندوؤں کو اس ملک میں رکھ لیا جانا چاہئیے اور اگر ایک مرتبہ ان (مودی) کی پارٹی برسراقتدار آجائے گی تو غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو رکھنے کیلئے استعمال کئے جانے والے حراستی مرا

سلچر ۔ /22 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے آج کہا کہ بنگلہ دیش سے نقل مقام کرتے ہوئے ہندوستان میں داخل ہونے والے ہندوؤں کو اس ملک میں رکھ لیا جانا چاہئیے اور اگر ایک مرتبہ ان (مودی) کی پارٹی برسراقتدار آجائے گی تو غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو رکھنے کیلئے استعمال کئے جانے والے حراستی مراکز بند کردیئے جائیں گے ۔ نریندرمودی نے آسام کے رام نگر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جیسے ہی بی جے پی مرکز میں برسراقتدار آجائے گی بنگلہ دیشی ہندوؤں کو رکھنے کیلئے بنائے گئے تمام حراستی مراکز برخاست کردیئے جائیں گے ‘‘ ۔

مودی نے کہا کہ ’’دوسرے ملکوں میں ہراساں کئے جانے والے ہندوؤں کے تیئں ہماری ذمہ داری ہے ۔ وہ (ہندو) کہاں جائیں گے ۔ ان کے لئے ہندوستان ہی واحد مقام ہے ۔ ہماری حکومت انہیں ہراساں نہیں کرسکتی بلکہ انہیں یہاں رہنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئیے ‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آسام ہی سارا بوجھ برداشت کرے ۔ یہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ بلکہ بنگلہ دیشی ہندووں کو سارے ملک میں بسایا جائے اور نئی زندگی شروع کرنے تمام سہولتیں مہیا کی جائیں ‘‘ ۔

مودی نے کہا کہ قبل ازیں پاکستانی ہندو ‘ گجرات اور راجستھان میں پہونچے تھے اور اٹل بہاری واجپائی اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ان ہندوؤں کو ملک کی تمام ریاستوں میں بسانے کیلئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا تھا ۔ مودی نے الزام عائد کیا کہ حکومت آسام نے ووٹ بینک سیاست کے ایک حصہ کے طور پر بنگلہ دیش سے نقل مقام کرنے والے ہندوؤں کو حراستی مراکز میں رکھتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے ۔ ’’ مشتبہ ووٹرس ‘‘ کے مسئلہ پر مودی نے کہا کہ یہ بھی کانگریس کی ووٹ بینک سیاست کا ایک حصہ ہے جس کے تحت عوام کے ایک طبقہ کو حق رائے دہی سے محروم رکھا جارہا ہے ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ ’’ مشتبہ ووٹرس‘‘ کی اصطلاح کو حذف کیا جائے ۔ آزادانہ و غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ان افراد کو بھی حق رائے دہی کا موقع فراہم کیا جائے ۔ مودی نے کہا کہ دو قسم کے افراد بنگلہ دیش سے آسام پہونچتے ہیں ۔

ایک تو کسی مخصوص سیاسی جماعت کی ووٹ بینک سیاست کے تحت لائے جاتے ہیں ۔ دوسرے وہ ہیں جو پڑوسی ملک میں ہراسانی کے سبب یہاں آئے ہیں ۔ ووٹ بینک سیاست اور اسمگلنگ کے ذریعہ لائے جانے والوں کو دوبارہ بنگلہ دیش واپس بھیج دینا چاہئیے ۔ دوسرے زمرہ کے افراد کو اس ملک میں رہنے کی اجازت دی جائے ۔ نریندر مودی نے کہا کہ ’’ بنگلہ دیش ‘ آسام سے متصل ہے اور پاکستان ‘ گجرات سے متصل ہے ۔ آسام ‘ بنگلہ دیش سے پریشان ہے اور پاکستان مجھ (مودی) سے پریشان ہے‘‘۔ انہوں نے پاسی گھاٹ (اروناچل پردیش) میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ پالیسی پر پہلی مرتبہ لب کشائی کی ۔ انہوں نے چین سے خواہش کی کہ وہ اپنی ’’توسیع پسندانہ ذہنیت‘‘ ترک کرے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو ہندوستان کے ساتھ باہمی روابط ‘ دونوں اقوام کے مابین امن اور خوشحالی کیلئے اقدامات کرنے چاہیے ۔

تیسرا محاذ ’ نقل مقام کرنے والا پرندہ ‘ : مودی
اگرتلہ ۔ 22 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بی جے پی وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی نے مجوزہ تیسرے محاذ کا ’ نقل مقام کرنے والے پرندوں ‘ سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد یہ ’تیس نشستوں کا محاذ ‘ بن جائے گا ۔ انہوں نے تریپورہ میں ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں انہوں نے دیکھا کہ پرندے سرما سے قبل آتے اور موسم گزرتے ہی یہاں سے چلے جاتے ہیں ۔ تیسرا محاذ بھی نقل مقام کرنے والے ان پرندوں کی طرح ہے جو انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گا ۔ یہ صرف 30 لوک سبھا نشستوں تک محدود رہے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT