Saturday , June 23 2018
Home / کھیل کی خبریں / بنگلہ دیش ۔ ہندوستان آج ٹسٹ کا آغاز

بنگلہ دیش ۔ ہندوستان آج ٹسٹ کا آغاز

فتح اﷲ ۔9 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کے واحد ٹسٹ کا کل یہاں فتح اﷲ میں آغاز ہورہا ہے اور نو برس بعد یہاں میزبان ٹیم ٹسٹ مقابلے میں کسی ملک کی میزبانی کررہی ہے ۔ مہندر سنگھ دھونی کی جانب سے ٹسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کے بعد ویراٹ کوہلی پہلی مرتبہ کسی دورہ پر ٹیم کی قیادت کریں گے حالانکہ دورۂ آسٹریلیا کے م

فتح اﷲ ۔9 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کے واحد ٹسٹ کا کل یہاں فتح اﷲ میں آغاز ہورہا ہے اور نو برس بعد یہاں میزبان ٹیم ٹسٹ مقابلے میں کسی ملک کی میزبانی کررہی ہے ۔ مہندر سنگھ دھونی کی جانب سے ٹسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کے بعد ویراٹ کوہلی پہلی مرتبہ کسی دورہ پر ٹیم کی قیادت کریں گے حالانکہ دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر وہ سڈنی ٹسٹ میں ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں لیکن دورۂ آسٹریلیا پر مہندر سنگھ دھونی ٹیم کے کپتان تھے لیکن انھوں نے تیسرے ٹسٹ کے بعد اچانک اور غیرمتوقع طورپر ٹسٹ کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ خان صاحب عثمان علی اسٹیڈیم میں کل دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا واحد ٹسٹ شروع ہوگا جس میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت ویراٹ کوہلی کررہے ہیں تو دوسری جانب میزبان ٹیم کے کپتان مشفیق الرحیم ہوں گے ۔ ویراٹ کوہلی کیلئے یہ بھی ایک اعزاز ہوگا کہ وہ ہندوستان کے سب سے کامیاب ترین سابق کپتان سورو گنگولی کی طرح ہی بنگلہ دیش کے خلاف بحیثیت کپتان اپنے کیرئیر کا آغاز کریں گے لیکن دونوں کپتانوں میں صرف فرق یہ ہوگا کہ گنگولی نے بنگلہ دیش کے خلاف بحیثیت کپتان ٹسٹ کیرئیر کا آغاز کیا تھا جبکہ ویراٹ کوہلی بنگلہ دیش سے قبل آسٹریلیا کیخلاف دو مقابلوں میں ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں ۔

کوہلی کیلئے یہ ایک نئے باب کا آغاز ہے کہ وہ انفرادی بہتر مظاہروں کیلئے ٹیم کی کامیابی میں بھی قائدانہ رول ادا کریں اور سب سے اہم یہ ہوگا کہ ویراٹ کوہلی اس مقابلے کیلئے قطعی گیارہ کھلاڑیوں کے ضمن میں کیا فیصلہ کرتے ہیں جیسا کہ وہ 6 بیٹسمینوں ، 4 بولروں اور ایک مخصوص وکٹ کیپر کے فارمولے کو برقرار رکھتے ہیں یا پھر بولروں میں ایک اضافہ کرتے ہوئے 20 وکٹوں کے حصول کو یقینی بناتے ہیں ۔ کاغذ پر دونوں ٹیموں کے درمیان کوئی موازنہ نہیں ہے لیکن حالیہ عرصہ میں بنگلہ دیش کے مظاہروں نے اس واحد ٹسٹ میں کافی دلچسپی پیدا کردی ہے ۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان تاحال سات ٹسٹ مقابلے کھیلے گئے جس میں ہندوستانی ٹیم نے چھ فتوحات حاصل کی ہیں جبکہ 2007 ء میں چٹگانگ ٹسٹ بارش کی مدد سے بنگلہ دیش ڈرا کرنے میں کامیاب رہا تھا ۔ بنگلہ دیشی ٹیم ان دنوں کافی بہترین فام میں ہے جیسا کہ آئی سی سی ونڈے ورلڈکپ میں انگلینڈ کو شکست دیکر قطعی 8 ٹیموں کے مرحلے میں رسائی حاصل کی تھی جس کے بعد گھریلو سیریز میں اس نے پاکستان کے خلاف تین مقابلوں کی ونڈے سیریز میں حیران کن طورپر 3-0 کی کامیابی حاصل کی جس کے بعد ٹسٹ مقابلہ ڈرا کرنے میں کامیاب رہی ہے ۔ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے حوصلے ان دنوں کافی بلند ہیں جیسا کہ وہ مانتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں ہندوستان کے خلاف کوارٹر فائنل مقابلے میں اگر نوبال کا تنازعہ منظرعام پر نہیں آتا تو شاید وہ ہندوستان کو ورلڈ کپ میں بھی شکست دے چکے ہوتے ۔ ویراٹ کوہلی نے پہلے ہی ان عزائم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے دورے پر مثبت نتائج کیلئے کوشاں ہیں لیکن ہندوستان کیلئے یہ مقابلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ بنگلہ دیشی ٹیم میں ویسے ہی بہتر کھلاڑیوں میں فاسٹ بولر روبیل حسین اور آل راؤنڈ شکیب الحسن موجود ہیں جو مہمان ٹیم کیلئے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ ویراٹ کوہلی جنھوں نے آسٹریلیا کیخلاف 692 رنز جس میں 4 سنچریاں بھی شامل ہیں ،

اس شاندار مظاہرے کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بنگلہ دیش میں بہتر نتائج کیلئے میدان میں اُتریں گے ۔ ہندوستانی اوپنر کے ایل راہول جنھوں نے آسٹریلیا کیخلاف آخری ٹسٹ میں شاندار سنچری اسکور کی تھی وہ زخمی ہوکر بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے جانے والے مقابلے سے باہر ہوچکے ہیں ، راہول کا نقصان شکھر دھون کا فائدہ بن چکا ہے اور وہ دوبارہ ہندوستانی اننگز کا آغاز کرنے کے علاوہ ٹیم میں اپنے مقام کو مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہوں گے ۔ آسٹریلیا کیخلاف ٹسٹ سیریز میں ناکامی کے بعد دھون نے ورلڈ کپ اور پھر آئی پی ایل میں بہتر مظاہرہ کیا ہے ۔ بنگلہ دیشی ٹیم میں جیمس اینڈرسن یا اسٹورٹ براڈ ، میچل جانسن یا میچل اسٹارک جیسے بولر نہیں ہوں گے جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دھون ٹسٹ ٹیم میں اپنے مقام کو مستحکم کریں گے ۔ مرلی وجئے جو پہلے ہی اوپنر کیلئے پسندیدہ کھلاڑی ہیں جنھوں نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کیخلاف ہندوستان کو بہتر شروعات فراہم کی ہے ، ان کے ہمراہ اجینکیا رہانے ، روہت شرما کے علاوہ دھونی کے مقام پر ٹیم میں شامل وکٹ کیپر وردھمان ساہا پر بھی نظریں مرکوز ہیں۔ ساہا کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے جو گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کے لئے کوشاں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT