Tuesday , June 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / بوائز ہائی اسکول کاماریڈی میں سرقہ

بوائز ہائی اسکول کاماریڈی میں سرقہ

ریکارڈس غائب ،اولیاء طلبہ و اساتذہ میں مایوسی

ریکارڈس غائب ،اولیاء طلبہ و اساتذہ میں مایوسی
کاماریڈی:25؍اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بوائز ہائی اسکول کاماریڈی میں گذشتہ دو دنوں سے ہونے والے سرقہ کی واردات پر اولیائے طلباء، اساتذہ میں تشویش پائی جارہی ہے۔ 21اور 22؍ اپریل کی شب اُردو میڈیم سے تعلق رکھنے والے ریکارڈس، پراجیکٹ ورکس کی اشیاء کا سرقہ کئے جانے پر طلباء میں شدید مایوسی پائی جارہی ہے۔ تفصیلات کے بموجب 21؍ اپریل کے روز اُردو میڈیم کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ریکارڈ روم میں نامعلوم افراد نے قفل شکنی کرتے ہوئے ایس ایس سی و دیگر جماعتوں سے وابستہ طلباء کے ریاضی، سائنس، سماجی علم، انگلش کے پراجیکٹ ورک کے علاوہ نوٹس کا سرقہ کرلیا۔ دوسرے دن اسکول پہنچ کر اساتذہ نے جائزہ لیتے ہوئے ہیڈ ماسٹر، ڈپٹی ڈی ای او سے شکایت کرنے پرپولیس میں شکایت کی گئی اور پولیس نے اسکول پہنچ کر بعد تحقیق اسکول کے دو ملازمین کو تحویل میں لیتے ہوئے پوچھ تاچھ کیا تھا۔ لیکن دوسرے روز 22 ؍ اپریل کی شب دوبارہ اُردو میڈیم سے تعلق رکھنے والے شعبہ میں الماری کی قفل شکنی کرتے ہوئے ریکارڈس کا سرقہ کیا گیا۔ دو دنوں سے مسلسل سرقہ کی واردات پیش آنے کی وجہ سے اساتذہ، اولیائے طلباء میں تشویش پائی جارہی ہے۔ جدید مضامین کے مطابق طلباء کے پراجیکٹ ورک ریکارڈ، نوٹس اہمیت کے حامل ہے ریکارڈس کا سرقہ ہونے کی وجہ سے طلباء کو نشانات کو مختص کرنے میں اساتذہ کیلئے مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ مسلسل دو دنوں سے سرقہ ہونے کی وجہ سے اسکول انتظامیہ پر اولیائے طلباء کی جانب سے ناراضگی ظاہر کی جارہی ہے۔ گذشتہ چند دنوں سے ہائی اسکول میں سرقہ کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قبل از بھی کمپیوٹر روم میں بھی سرقہ ہوا تھا لیکن انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کیلئے کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی اور اسکول مینجمنٹ کمیٹی وقت پر شکایت کرنے میں ناکام ہونے کی بھی شکایت عام ہے ۔ سرکاری مدارس میں جدید تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے کمپیوٹرس کو فرام کیا ہے۔ کمپیوٹرس کی حفاظت میں انتظامیہ ناکام ثابت ہوا ہے۔ اُردو میڈیم کے شعبہ میں مسلسل دو دنوں سے ہوئی سرقہ کی واردات پر شک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ لہذا اس معاملہ میں تحقیق کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرنے کا اولیائے طلباء کی جانب سے پرُ زور مطالبہ کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT