Friday , June 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / بودھن میں صدر نشین بلدیہ کے عہدہ کیلئے ہر پارٹی دعویدار

بودھن میں صدر نشین بلدیہ کے عہدہ کیلئے ہر پارٹی دعویدار

بلدی امیدواروں کی انتظار کی گھڑیاں آج ختم ہو جائیں گی، مسلم ارکان کے بھی روشن امکانات

بلدی امیدواروں کی انتظار کی گھڑیاں آج ختم ہو جائیں گی، مسلم ارکان کے بھی روشن امکانات

بودھن /11 مئی (خورشید اختر) تقریباً 42 دنوں کے بعد آج انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی ہیں۔ مجلس بلدیہ بودھن کی 35 نشستوں کے لئے 181 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ 30 مارچ کو رائے دہی مکمل ہوئی۔ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر بلدیہ کے نتائج کو 12 مئی تک کے لئے ملتوی کردیا گیا تھا۔ 2005ء میں ہوئے بلدی انتخابات میں 66.83 فیصد رائے دہی درج ہوئی تھی، جب کہ اس بار 73 فیصد رائے دہی درج ہوئی۔ رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا، یہ بتانا قبل از وقت ہوگا، لیکن ماہ مارچ کے دوران اچانک شہری علاقہ میں ابھرکر آنے والی سیاسی جماعت ٹی آر ایس کے قائدین ادعا کر رہے ہیں کہ تحریک تلنگانہ کی کامیابی کے بعد عوام کے جوش و خروش میں اضافہ ہوا ہے اور روایتی رائے دہی کی بجائے نئے جوش کے ساتھ رائے دہندوں نے ان کی پارٹی کے حق میں ووٹ استعمال کرنے مراکز رائے دہی کا رخ کیا۔ 2005ء کے مجالس مقامی کے انتخابات میں کانگریس نے بودھن بلدیہ کے صدر نشین کی نشست تلگودیشم سے چھین لی تھی اور اب ٹی آر ایس اس نشست پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے، جب کہ کانگریس کے قائدین 35 نشستوں کے منجملہ 22 نشستیں حاصل کرتے ہوئے اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ تلگودیشم، بی جے پی اور ایم آئی ایم کے قائدین کا ادعا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت نصف نشستیں حاصل نہیں کرسکے گی، لہذا ان کی مدد کے بغیر صدر نشین بلدیہ بودھن کی نشست پر قبضہ کرنا ناممکن ہے۔ اس مرتبہ صدر نشین بلدیہ بودھن کی نشست غیر محفوظ قرار دی گئی ہے، جس کی وجہ سے ہر سیاسی جماعت میں صدر نشین کی نشست کے دعویدار کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ سال 2005ء کے انتخابات میں بودھن شہر کے رائے دہندوں کی تعداد 45,242 تھی، جن میں سے 30,236 رائے دہندوں نے رائے دہی میں حصہ لیا تھا، جب کہ 2014ء کے بلدی انتخابات میں جملہ رائے دہندوں کی تعداد 55,875 ہے، جن میں سے 40,791 ووٹرس نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ گزشتہ کونسل میں 35 کے منجملہ 14 مسلم ارکان بلدیہ منتخب ہوئے تھے۔ توقع ہے کہ اس مرتبہ بھی کم از کم 14 مسلم ارکان بلدیہ نئی کونسل میں شامل ہوں گے۔ یہاں کی روایت رہی ہے کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں سابق ارکان بلدیہ کی بہت کم تعداد کو عوامی تائید حاصل ہوتی ہے، لہذا دیکھنا یہ ہے کہ اس بار عوام اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہیں یا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT