Sunday , September 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / بودھن میں محمد شکیل عامر کی حوصلہ افزاء کامیابی

بودھن میں محمد شکیل عامر کی حوصلہ افزاء کامیابی

مسلسل تین مرتبہ کامیاب سدرشن ریڈی کو شکست

مسلسل تین مرتبہ کامیاب سدرشن ریڈی کو شکست

بودھن /18 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ’’ناکامی، کامیابی کا پہلا زینہ ہوتا ہے‘‘ اس کہاوت کو حلقہ اسمبلی بودھن سے منتخب ہونے والے ٹی آر ایس امیدوار جناب محمد شکیل عامر نے درست ثابت کردیا۔ جناب شکیل نے حلقہ اسمبلی بودھن سے مسلسل تین مرتبہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے یہاں نیا ریکارڈ بنانے والے کانگریس کے سابق ریاستی پی سدرشن ریڈی کو بھاری ووٹوں سے شکست دے کر یہ ثابت کردیا کہ سچی محنت، لگن اور سنجیدگی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب قدم بڑھانے والوں کا خود منزل آگے بڑھ کر استقبال کرتی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہاں برسر اقتدار رکن اسمبلی پی سدرشن ریڈی کا مقابلہ کرنے کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس طاقتور امیدوار دستیاب نہیں ہے، لیکن ٹی آر ایس نے شکیل عامر کے بلند حوصلے دیکھ کر انھیں حلقہ اسمبلی بودھن سے ایک بار پھر پی سدرشن ریڈی کے مقابلے میں اتارنے کا فیصلہ کیا، جب کہ 2009ء کے عام انتخابات میں شکیل کو سدرشن ریڈی کے مقابل صرف 1275 ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مرتبہ تلگودیشم۔ بی جے پی اتحاد نے بھی اپنا مشترکہ امیدوار حلقہ اسمبلی بودھن میں اتارا تھا۔ بعض گوشوں سے شکیل کو شکست دینے کے لئے منظم طریقے پر مہم چلائی گئی، جس کا انکشاف رائے شماری کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہوا۔ ٹی ڈی پی۔ بی جے پی اتحاد کے امیدوار کو حلقہ اسمبلی بودھن میں 26,396 ووٹ حاصل ہوئے اور حلقہ لوک سبھا نظام آباد کے امیدوار کو 34,809 ووٹ حاصل ہوئے، یعنی شکیل کو شکست دینے لوک سبھا کے مقابلہ حلقہ اسمبلی بودھن کے اتحادی امیدوار کو 8413 ووٹ زائد حاصل ہوئے اور اس طرح بودھن کے شکست خوردہ کانگریس امیدوار سدرشن ریڈی کو 51,202 ووٹ حاصل ہوئے اور یہیں سے پارلیمانی امیدوار کو 42,318 ووٹ حاصل ہوئے، یعنی مسٹر ریڈی کو پارلیمانی امیدوار کے مقابلے 8884 ووٹ زائد حاصل ہوئے اور حلقہ اسمبلی بودھن سے منتخب ہونے والے ٹی آر ایس امیدوار کو جملہ 66,858 ووٹ حاصل ہوئے اور ٹی آر ایس کے پارلیمانی امیدوار کو مسٹر شکیل سے 3057 ووٹ مسز کویتا کو کم حاصل ہوئے، یعنی کویتا کو حلقہ اسمبلی بودھن سے 63,801 ووٹ حاصل ہوئے۔ ذرائع کے مطابق حیدرآباد کی ایک سیاسی جماعت نے ٹی آر ایس امیدوار بودھن کو شکست دینے کانگریس امیدوار کے حق میں مہم چلانے مقامی قائدین کو ہدایت دی تھی۔ اس جماعت کے قائدین نے کانگریس امیدوار کی تائید کی، لیکن اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکنوں نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے محمد شکیل عامر کے حق میں زبردست مہم چلائی۔

TOPPOPULARRECENT