Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / بورا بنڈہ میں غریب روزہ داروں کے لیے سحری کا انتظام

بورا بنڈہ میں غریب روزہ داروں کے لیے سحری کا انتظام

غیر مسلم افراد کی بھی شرکت ، ڈپٹی مئیر بابا فصیح الدین کا بیان
حیدرآباد۔15جون(سیاست نیوز )علاقہ تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب چار سوسالہ قدیم ہے مگر پچھلے ساٹھ سالوں میں غیرعلاقائی حکمرانوں نے ہماری قدیم تہذیب کو متاثر کرنے کی کوشش کی وہ ناکام رہے اور اب تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پھر ایک مرتبہ مذہب‘ ذات پات کی بنیاد پر فرقہ پرست طاقتیں ایک اور مرتبہ ہماری قدیم تہذیب کو متاثر کرنے کوشاں ہیںمگر ہم ایسا کبھی ہونے نہیں دیںگے چار سو سال سے عید کا شیر خوارمہ غیر مسلم کے گھر میں اور بتکماں کی ٹوکر ی مسلمانوں کے گھر میںتیا ر ہوا کرتی تھی اور جب سے ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی برسراقتدار آئی ہے تب سے اس قدیم تہذیب کا احیاء عمل میں بھی لایاجارہا ہے اور اس عظیم کام میںنوجوان طبقے کا اہم رول کارفرما ہے۔اسی سلسلے کی کڑی کے طور بورابنڈہ بلدی حلقہ میںیکم رمضان سے ضرورت مند اور مالی طور پر پریشان حال روزہ داروں کے لئے سحری کا انتظام کرا رہے ڈپٹی مئیر بابا فصیح الدین نے بتایا کہ عام طور پر افطار کا اہتمام ایک عام بات ہے اگر کہیں دعوت افطار نہیںبھی ہے تو مساجد میں وافر مقدار میںافطار مل جاتا ہے مگر سحری کے لئے روزہ داروں کو کافی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ بالخصوص ان علاقوں میںجہاں ملی جلی آبادیاں ہونے کی وجہہ سے سحری کے وقت ہوٹلوں میںکھانے کا بندوبست بھی ندارد رہتا ہے۔ بابا فصیح الدین نے کہاکہ بورابنڈہ‘ رحمت نگر‘ ایرگڈہ میں روزہ داروں کی بڑی آبادی ہونے کے باوجودسحری کا موثر انتظام نہیںتھا لہذا میںنے فیصلہ کیا کہ یکم رمضان سے آخری روز ے تک مذکورہ علاقے کے روزداروں کے لئے سحری کا اہتمام کروں۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک بڑا مشکل کام تھا کیونکہ سحری کا پکوان ‘ سربراہی اور اس کے لئے روزداروں کو بیٹھا کر کھلانے کا انتظام اصل تھامگر اللہ تعالی نے ساتھ دیا اور اس عظیم کام کی شروعات عمل میں آئی اور یکم رمضان سے آج کی تاریخ تک ڈھائی سے تین سو روزہ دار جن میںنوجوانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے سحری کے انتظام سے استفادہ کررہے ہیں۔بابا فصیح الدین نے کہاکہ ہمارے سحری انتظامات کا مرکز توجہہ یہاں پرمسلم روزہ داروںکے لئے کھانے کی سربراہی کررہے غیرمسلم نوجوان ہیں۔انہوںنے بتایا کہ یہاں پر سحری کا کھانا سربراہ کرنے والوں میں ہندو ‘ عیسائی اور سکھ شامل ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ہم اس کام کے ذریعہ ساری ریاست کو اس بات کا پیغام دینا کی کوشش کررہے ہیںکہ فرقہ پرست طاقتیں اپنی سیاسی روٹیاں سیکھنے کے لئے ہندواور مسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتوں میں نفاق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے مگر ہمارے تلنگانہ کا نوجوان ان کوششوں کو ناکام بنانے کاکام کرتاتھا ‘ کرتا ہے اورکرتا رہے گا۔

 

TOPPOPULARRECENT