Wednesday , December 19 2018

بورہ بنڈہ علاقہ میں ’’رحمت نگر کا قبرستان‘‘ کسی دیارِ رحمت سے کم نہیں

دشت کو دیکھ کہ گھر یاد آیا بورہ بنڈہ علاقہ میں ’’رحمت نگر کا قبرستان‘‘ کسی دیارِ رحمت سے کم نہیں صفائی‘ خوبصورتی اور انتظامات میں اپنی مثال آپ۔تدفین کی تمام سہولتیں ایک ہی چھت تلے میسر

دشت کو دیکھ کہ گھر یاد آیا
بورہ بنڈہ علاقہ میں ’’رحمت نگر کا قبرستان‘‘ کسی دیارِ رحمت سے کم نہیں
صفائی‘ خوبصورتی اور انتظامات میں اپنی مثال آپ۔تدفین کی تمام سہولتیں ایک ہی چھت تلے میسر
حیدرآباد ۔ 10 اگست (ابوایمل) انسانوں سے آباد شہر دیکھنے سے جہاں ہمیشہ ’’زندگی‘‘ کا احساس ہوتا ہے وہیں انسانوں کی ابدی آرام گاہیں یعنی قبرستانوں کے دورے سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ’’زندگی بہتر انداز‘‘ میں اور ’’سلیقہ مندی‘‘ کے ساتھ جینا چاہیے کیونکہ یہ بار بارنہیں بلکہ صرف ایک بار ملتی ہے۔ پرانا شہر کے گنجان آبادی والے بے ترتیب محلہ جات میں زندگی کو سلیقہ کے ساتھ جینے کا کوئی پیغام شاید ہی ملے لیکن نئے شہر کے آبادی والے علاقے تو دور بعض قبرستانوں میں ضابطہ اخلاق‘ سطر بندی اور صفائی دیکھ کر انسانوں میں سلیقہ مندی کے ساتھ جینے کی امن ضرور پیدا ہوگی۔ ہم آپ کو بورہ بنڈہ کے رحمت نگر علاقہ میں واقع قبرستان کے بارے میں واقف کروانا چاہتے ہیں جس کی خوبصورت اور صفائی کے بے نظیر انتظامات اپنے میں آپ ایک مثال ہے۔ تقریباً 3ایکڑ اراضی پر ایک وسیع قبرستان ہے جو رحمت نگر قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔ اسے سنجے نگر بھی کہا جاتا ہے۔ دونوں شہروں میں شاید ہی کہیں اتنا خوبصورت قبرستان موجود ہوگا ۔جب ہمیں اس مقام پر کھینچ لے گئی تو ہماری آنکھ بھی یہ منظر دیکھ کر اس بات کی معترف ہوگئی کہ واقعی زمین پر یہ سب سے ’’پر سکون آرام گاہ‘‘ ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اطراف و اکناف کے جملہ 14محلہ جات جیسے وینکٹ گیری ‘کرشنا نگر‘ لکشمی نرسمہا نگر‘ رحمت نگر‘ جواہر نگر‘ کارمیکا نگر ‘ برہما شنکر نگر‘ وینگل راؤ نگر‘ راجو نگر‘ سری رام نگر‘ پربھات نگر‘ حبیب فاطمہ نگر‘ فاطمہ نگر فیس II‘اکبری مسجد فیسI اور پرتیبھا نگرکے مسلمان اپنے عزیزوں کے انتقال پر اسی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں لاتے ہیں۔ قبرستان کے کارگزار صدر جناب محمد مختار احمد سے بات کی تو پتہ چلا کہ 1970میں ان کے والد مرحوم محمد مقبول احمد نے قبرستان کی کمیٹی تشکیل دی جو 7ارکان پر مشتمل تھی۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد محمد مختار احمد ہی کارگزار صدر کی حیثیت سے سلسلہ ذمہ داری کو آگے بڑھائے ہوئے ہے۔ محمد مختار احمد ‘ اسبسطاس کمپنی سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ قبرستان میں تدفین کے لیے معمولی قیمت یعنی صرف 1500میں جگہ فراہم کی جاتی ہے اور کھدوائی کے لیے 1200روپے مزدوری دینی ہوتی ہے۔ یہاں تدفین کے سارے انتظامات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہیں ۔ قبرستان سے متصل ہی میں ہی ایک ملگی تعمیر کرکے کفن اور دیگر ضروری اشیاء کی فروخت عمل میں لائی جاتی ہے تاکہ تدفین کے لیے مسلمان بھائیوں کو کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے ۔مرد و خاتون متوفی کو غسل دینے کے لیے ایک مرد اور ایک خاتون غسال کا انتظام بھی ہے۔موجودہ قبرستان میں6,000قبور ہیں اور مزید6,000قبور کی گنجائش ہے۔ قبور کا احترام ملحوظ رکھنے کے لیے ان تک آسانی سے پہنچنے کا راستہ بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے قبرستان میں قبور کی بے حرمتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ قبرستان میں پختہ قبر بنانے کی کسی کو اجازت نہیں بلکہ تختی نصب کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ قبرستان کمیٹی قبر کے لیے جگہ فراہم کرنے سے لے کر کفن کی فروخت سے متعلق باضابطہ رسید فراہم کرتی ہے جو بلدیہ سے ’’صداقت نامہ موت‘‘ کے حصول میں کام آتی ہے۔ اگر کوئی غریب ہے تو ایسی صورت میں کمیٹی ہمدردانہ اقدام کے طور پر قبرستان میں مفت جگہ بھی فراہم کرتی ہے۔ قبرستان کی صفائی اور دیکھ ریکھ پر سالانہ 30ہزار روپے کاخرچ آتا ہے ۔ رمضان میں دو مواقع پر خاص طور پر صفائی کاانتظام کیا جاتا ہے۔ کوئی صاحب استطاعت اگر مالی مدد کرے تو کمیٹی بصداحترام اسے قبول کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کا ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے۔ قبرستان میں مزید20سال تک تدفین کی گنجائش ہے۔تدفین کی سہولت کے لیے ہمیشہ دو قبور تیار رکھی جاتی ہیں اس قبرستان کی ایک اور خاص اور توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہاں رات میںبھی دن کا منظر نظر آتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قبرستان میں 30اسٹریٹ لائٹس اور 4ہائی ماسٹ لائٹس نصب ہیں۔ قبرستان کے اطراف ایک ایسا محلہ بھی ہے جہاں خواتین کی تدفین صرف رات کے اوقات میں عمل میں لائی جاتی ہے اور روشنی کا معقول انتظام رہنے کی وجہ سے ’’پردہ کے احترام‘‘ کو ملحوظ رکھتے ہوئے تدفین انجام دی جاتی ہے۔ اس قبرستان میں ایک وضو خانہ ہے ‘ جہاں بیکوقت 11لوگ وضو کرسکتے ہیں۔ ڈولا رکھنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم بنایا گیا ہے جس پر چھت بھی ہے ۔یہاں لوگ اپنے متوفی عزیز کا ڈولا رکھ کر آخری دیدار کر تے ہیں۔ قبرستان کو اطراف سے باؤنڈری وال کی تعمیر کے ذریعہ پوری طرح محفوظ کردیا گیا ہے اور اندر کے حصہ میں شجر کاری کی گئی ہے جو ’’سرسبز و شاداب‘‘ نظارہ پیش کرتی ہے۔ فجر میں قبرستان کی گیٹ کھل جاتی ہے اور عشاء کے ساتھ ہی بندی کردی جاتی ہے ۔ ایک طرف رحمت نگر کا قبرستان ہے اور دوسری طرف پرانے شہر کے قبرستان جہاں قبور کی حفاظت تودور اس کی بے حرمتی کو تک برا نہیں سمجھا جاتا ہے۔قبرستان عبرت کی جگہ نہیں بلکہ‘ مویشیوں کی چرا گاہ ‘ نامناسب کاروبار اور غیر سماجی سرگرمیوں کامرکز بن گئے ہیں۔ ہم آپ کو یاد دلادیں کہ جمعرات بازار کے قبرستان میں 200تا300مویشی باندھے جاتے ہیں اور تمام قبور مویشیوں کی غلاظت سے پر ہوتے ہیں ۔ پرانا شہر کے اکثر قبرستان ایسے ہیں جو ’’جوا ‘‘کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان میں علی آباد کے پھول باغ علاقہ کا قبرستان تو بے حرمتی کی بدترین مثال ہے جہاں گڑمبہ فروخت ہوتا ہے۔ دین اسلام میں ’’احترام‘‘ ’’اہتمام‘‘ اور’’ انتظام‘‘ کی بڑی اہمیت نمایاں کی گئی ہے۔ ہمارے عزیزوں کا ’’احترام‘‘ کرنا‘ ہر خوشی اورغم کے موقع پر ان کی پسند و ناپسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے تقریب کا’’ اہتمام‘‘ کرنا اور ان کی انتقال پر تدفین کا بہترین ’’انتظام‘‘ کرنا ہمارا دینی اوراخلاقی فریضہ ہے۔ رحمت نگر کا قبرستان ایسے ہی باشعور اورباسلیقہ لوگوں کی کاوش کا نتیجہ ہے جو ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کہ گھر یاد آیا
[email protected]

TOPPOPULARRECENT