Friday , January 19 2018
Home / سیاسیات / بوس کے خاندان کی جاسوسی پر ہنگامہ بی جے پی اور کانگریس کی ایک دوسرے پر تنقید

بوس کے خاندان کی جاسوسی پر ہنگامہ بی جے پی اور کانگریس کی ایک دوسرے پر تنقید

نئی دہلی ۔ 10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) انٹلیجنس بیورو کی جانب سے سبھاش چند بوس کے رشتہ داروں پر گہری نگرانی رکھنے پر آج ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا جبکہ بی جے پی نے کہا کہ پنڈت نہرو کے زارت عظمیٰ کے دور سے بوس کے خاندان پر نظر رکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انٹلیجنس بیورو کے فائلس کا حال ہی میں افشاء کیا گیا ہے جس سے انکشاف ہوا کہ سسرکمار بوس اور امیانا

نئی دہلی ۔ 10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) انٹلیجنس بیورو کی جانب سے سبھاش چند بوس کے رشتہ داروں پر گہری نگرانی رکھنے پر آج ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا جبکہ بی جے پی نے کہا کہ پنڈت نہرو کے زارت عظمیٰ کے دور سے بوس کے خاندان پر نظر رکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انٹلیجنس بیورو کے فائلس کا حال ہی میں افشاء کیا گیا ہے جس سے انکشاف ہوا کہ سسرکمار بوس اور امیاناتھ بوس پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ان کے بھائی سرت چندر بوس کی 20 سال تک 1948 سے 1968ء تک نگرانی کی گئی تھی۔ اس خبر پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ کانگریس نے مبینہ طور پر اس نگرانی کا آغاز کیا تھا اور اس دور کی اپوزیشن پارٹی بی جے پی کو یہ نگرانی ورثہ میں ملی۔ بی جے پی نے سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کی بہو اور سابق وزیر فینانس کے حوالہ بھی دیئے۔

جن کے دور میں بوس خاندان پر نگرانی جاری رکھی گئی تھی۔ دریں اثناء کانگریس نے پنڈت نہرو کے دور سے نیتاجی سبھاش چندر بوس کے خاندان کی جاسوسی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کردیا اور کہا کہ یہ چن چن کر ادھوری اطلاعات اور ادھوری سچائیوں کے فشاء کا بی جے پی کا منصوبہ ہے جو نگریس کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس عظیم وزرائے داخلہ اور نامور مجاہد آزادی ولبھ بھائی پٹیل، پی راج گوپال چاری، لال بہادر شاستری، بوئن ولبھ پٹیل، گلزاری لال نندا اور دیگر نامور قائدین کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ بی جے پی سوچی سمجھی سازش ہے جس کی بناء پر وہ ادھوری معلومات کا انکشاف کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT