Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / بولتا سیاست کا جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں آغاز

بولتا سیاست کا جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں آغاز

سیاست کا ایک اور کارنامہ، ویب سائٹ پر اُردو خبروں کی سماعت منفرد تجربہ

حیدرآباد 15 اگسٹ (سیاست نیوز) روزنامہ سیاست کا آج سے 68 سال قبل آغاز ہوا تھا۔ جشن یوم آزادی کے پُرمسرت موقع پر سیاست کی ویب سائٹ پر خبروں کی سماعت کا آغاز کیا گیا ہے۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے ’’بولتا سیاست‘‘ سرویس کا افتتاح انجام دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاہد علی خاں، جناب سید عبدالوہاب قادری، جناب اصغر علی خاں، ڈاکٹر صابر علی خاں، جناب تقی الدین شجیع، جناب ضیاء الدین شفیع، جناب عابد علی خاں، زاہد فاروقی، محمد ریاض احمد اور مرزا شاہنواز بیگ موجود تھے۔ واضح رہے کہ ’’بولتا سیاست‘‘ کو ebhasha setu لینگویج سرویس پرائیوٹ لمیٹیڈ کے بانی و ڈائرکٹر مسٹر راشد احمد نے ڈیولپ کیا۔ ’’بولتا سیاست‘‘ ہندوستان میں اپنی طرز کا منفرد پروگرام ہے۔ سیاست کی ویب سائیٹ پر ’’بولتا سیاست‘‘ پر کلک کیجئے اور گھر، دفتر ، کسی تفریحی مقام غرض کسی بھی مقام پر اُردو خبریں سنئے۔ بولتا سیاست کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جو لوگ خبریں پڑھنے کے عادی نہیں ہیں وہ خبریں سماعت کرسکتے ہیں۔ ایڈیٹر سیاست نے اِس پُرمسرت موقع پر کہاکہ آئندہ دوسری زبانوں میں بھی بولتا سیاست شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد جہاں اُردو داں حضرات کو عصری میڈیا سے ہم آہنگ کرنا ہے وہیں دوسری زبانیں بولنے والوں کو اُردو داں آبادی کے مسائل سے واقف کروانا اور مختلف طبقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ’’بولتا سیاست‘‘ کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی ملک اور شہر میں مقیم قارئین عالمی، قومی اور شہروں کی خبروں کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں بشمول دینی اُمور سے متعلق خبریں سن سکتے ہیں۔ بولتا سیاست کو ڈیولپ کرنے والے راشد احمد ٹریپل آئی ٹی گچی باؤلی کے پی ایچ ڈی اسکالر ہیں وہ کمپیوٹر سائنس میں پروفیسر راجیو سنگھل کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ روزنامہ سیاست کے اس منفرد تجربہ کے پیچھے نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کا ذہن کارفرما ہے۔ راشد احمد نے مزید بتایا کہ پچھلے ایک ماہ سے اس پراجکٹ پر کام چل رہا تھا اور اس کیلئے سینئر سب ایڈیٹر سیاست محمد ریاض احمد نے اپنی آواز دی ہے۔ اُمید ہے کہ روزنامہ سیاست کا یہ تجربہ اُردو صحافت کے لئے قابل تقلید ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT