Thursday , December 13 2018

بوڈاپل میں مسجد اور اوقافی اراضیات پر قبضہ کی روک تھام

مقامی افراد کی شکایت پر صدر نشین وقف بورڈ کی ہدایت پر ٹاسک فورس ٹیم کو روانہ کیا گیا
حیدرآباد۔ 20 نومبر (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بوڈاپل میں تاریخی مسجد اور اس سے متصل اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں کی روک تھام کے لیے عہدیداروں کی ٹیم روانہ کی ہے۔ مقامی افراد نے شکایت کی کہ مسجد سے متصل اراضی پر تعمیرات کا آغاز ہوچکا ہے اور اگر فوری توجہ نہ دی جائے تو یہ قیمتی اراضی غیر مجاز قابضین کے کنٹرول میں ہوجائے گی۔ اطلاع ملتے ہی محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی کو ہدایت دی کہ ٹاسک فورس ٹیم کو روانہ کرتے ہوئے غیر مجاز تعمیرات کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے غیر مجاز تعمیرات کے ذمہ داروں کے خلاف پولیس میں شکایت کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ریونیو حکام کے تعاون سے اراضی کی حصاربندی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہر اور مضافاتی علاقوں میں قیمتی اوقافی اراضیات کا بہرصورت تحفظ کیا جائے گا۔ حال ہی میں خانم میٹ میں تاریخی مسجد عالمگیر کی ایک ایکڑ 14 گنٹے اراضی کے تحفظ میں بورڈ کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اس اراضی کی مکمل حصاربندی کی گئی اور باقاعدہ پنج وقتہ نمازوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ محمد سلیم کی خصوصی دلچسپی سے اس قیمتی اراضی کے تحفظ میں بورڈ کو کامیابی ملی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے مختلف سیکشنوں میں ریکارڈ کی جانچ کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بورڈ کے عہدیداروں کو پابند کیا کہ وہ ریونیو حکام سے مکمل تعاون کریں تاکہ وقف ریکارڈ کی بہتر ترتیب میں مدد ملے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے بورڈ کے ریکارڈ کی حفاظت پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے باعث کئی اہم فائیلیں وقف بورڈ سے غائب ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فائیلوں کی جانچ کا کام اندرون 10 یوم مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد اہم سیکشن کارکرد ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قضات سیکشن میں مقررہ وقت سے زائد کام کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ کی اجرائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ ریونیو حکام کی جانب سے فائیلوں کی جانچ کے بعد اوقافی اداروں سے متعلق ریکارڈ محفوظ ہوجائے گا۔ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرتے ہوئے ویب سائٹ پر عوام کے مشاہدے کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT