Monday , September 24 2018
Home / مضامین / بوکر ببول آم کی خواہش نہ کیجئے

بوکر ببول آم کی خواہش نہ کیجئے

 

مولانا سید احمد ومیض ندوی
گذشتہ یکم اکتوبر 2017ء کو امریکی شہر لاس ویگاس کے ایک کنسرٹ میں پیش آئے خوفناک فائرنگ واقعہ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ نہیں گذرا تھا کہ درندگی کے ایک اور واقعہ سے سارا امریکہ دہل گیا، لاس ویگاس میں ایک 65 سالہ بندوق بردار نے دس منٹ تک اندھادھند گولیاں چلا کر 58 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جسے نائن الیون کے بعد ہونے والا سب سے بدترین دہشت گردانہ حملہ قرار دیا جارہا تھا، ابھی امریکی عوام اس صدمہ سے سنبھلنے نہیں پائی تھی کہ گذشتہ 6؍ نومبر 2017ء کو ایک اور امریکی درندے نے ٹیکساس کے چرچ میں فائرنگ کرکے ۲۷؍ افراد کو موت کی نیند سلا دیا، ایک مسلح شخص نے جنوب مشرقی امریکہ کے ایک چھوٹے شہر کے چرچ میں اندھا دھندفائرنگ کردی، یہ واردات اس وقت ہوئی جب کہ چرچ میں اجتماعی دعا ہورہی تھی، واردات انجام دینے والے مشتبہ شخص نے چرچ میں گھستے ہی رائفل سے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور دیکھتے دیکھتے 27؍ افراد موت کی نیند سوگئے، حملہ آور مسلح شخص کی شناخت 26 سالہ ڈیون پی کیلی کے طور پر ہوئی ہے، لاس ویگاس فائرنگ کے بعد زیادہ وقفہ کے بغیر پیش آنے والے اس المناک حادثہ نے امریکیوں سمیت ساری دنیا میں غم کی لہر دوڑا دی۔

عوامی مقامات، کلچر پروگراموں، مذہبی اجتماعات اور دیگر موقعوں پر امریکہ میں شہریوں پر فائرنگ کے واقعات کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، وقفہ وقفہ سے اس قسم کے پرتشدد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ 4۷۷ دن میں 521 اندھا دھند فائرنگ کے واقعات ہوئے،ماہ اگست میں 24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے 83 واواقعات پیش آئے، جن میں 23؍ افراد ہلاک اور 59 دیگر زخمی ہوئے، امریکہ کے گن وائیلنس آر کائیو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صرف ریاست ایلینوی میں فائرنگ کے چھ واقعات ہوئے، جن میں ایک شخص ہلاک اورچھ زخمی ہوئے، ریاست پنسل وانیا میں بھی فائرنگ کے پانچ واقعات میں ایک ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے،ریاست کیلی فورنیا میں بھی پانچ مقامات پر فائرنگ ہوئی، جس میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جب کہ ریاست اوھایو میںفائرنگ کے نتیجہ میں وارن علاقہ کی سڑکیں بند ہوگئیں، اس واقعہ میں ایک گاڑی پر سوار دو افراد ہلاک ہوئے، ماس شوٹنگ کی یہ لعنت گذشتہ قریب دو دہائیوں سے جاری ہے، دسمبر 2012ء میں ایک گن مین نے سنیڈی ہوک ایلمنٹری اسکول میں۲۰ بچوں اور چھ جوانوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا، واکس کے مطابق 2012ء سے ا ب تک 1518 ماس شوٹنگ کے واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں ۱۷۱۵ افراد کی موت ہوئی ہے، جب کہ 6089لوگ زخمی ہوئے، آریگان کالج میں اسی طرح کے ایک واقعہ میں 9؍افراد کے قتل کے بعد سابق امریکی صدر اوباما رو پڑے تھے، واقعہ یہ ہے کہ امریکہ میں جتنے قتل دہشت گردی سے نہیں ہوئے اس سے کہیں زیادہ ماس شوٹنگ سے ہوئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں پولیس مین کا رول ادا کرنے والا امریکہ خود کیوں غیر محفوظ ہے؟ دنیا میں جہاں کہیں دہشت گردی کا کوئی چھوٹا سا واقعہ رونما ہوتا ہے تو امریکہ اس پر اظہار خیال ضروری سمجھتا ہے، خود کو دنیا کی سلامتی کا واحد ٹھیکہ دار قرار دینے والا امریکہ ماس شوٹنگ کے عذاب میں کیوں مبتلا ہے؟ امریکہ میں فائرنگ کے بڑھتے واقعات کے مختلف اسباب بتائے جاتے ہیں،اس کی ایک وجہ امریکیوں کے یہاں آسانی سے اسلحہ کی دستیابی بتائی جاتی ہے، امریکہ کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں عوام کو اسلحہ رکھنے کا آئینی حق حاصل ہے، دنیا کی ۴.۴ فیصد آبادی والے اس ملک میں نصف سے زائد لوگوں کے پاس اسلحہ ہے، سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس وقت امریکی معاشرے میں مختلف اقسام کے 30 کروڑ ہتھیار موجود ہیں، 1968ء ہی سے امریکہ میں اسلحہ رکھنے پر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ ہوتا رہا ہے، لیکن حکومت جب بھی اسلحہ سے متعلق قانون لانے کا عزم کرتی ہے تواسلحہ کے کاروباری متحرک ہوجاتے ہیں، ا مریکہ میں اسلحہ سازی ایک منفعت بخش کاروبار ہے، جس میں ملک کی بڑی کمپنیاں کروڑہا ڈالر کی سرمایہ کاری کرتی ہیں، ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں اسلحہ انڈسٹری ہرسال تقریبا 90 ہزار کروڑ ڈالر کی کمائی کرتی ہے، امریکہ کا شمار دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے، اسلحہ کی آسانی سے فراوانی امریکیوں کے لیے مصیبت بن رہی ہے،امریکی کانگریس کے سنیٹر جوسف ٹیڈنگ نے 1968ء ہی میں کہا تھا کہ یہ بہت خطرناک ہے کہ مغربی کلچر کے تمام ممالک میں امریکہ ہی ایسا واحد ملک ہے ،جہاں اتنی خراب گن پالیسی ہے، امریکیوں میں بندوق رکھنے کی خواہش کی ایک وجہ ان میں پایا جانے والا شکار کا بے پناہ شوق بتایا جاتا ہے، اکثر امریکی شکار کے شوقین ہوتے ہیں، جس کے لیے اسلحہ ضروری ہے۔

امریکہ میں ماس شوٹنگ کی ایک وجہ امریکی معاشرہ میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض اور ان سے چھٹکارا پانے کے لیے منشیات کا حد سے زیادہ استعمال ہے، امریکہ کا شمار دنیا کے متمول ترین ملکوں میں ہوتا ہے، لیکن آسائش کے تمام تر اسباب رکھنے والی قوم سب سے زیادہ ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے، حتی کہ امریکی فوجی بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں، امریکی فوجیوں میں خود کشی کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھا ہوا ہے، نفسیاتی مسائل میں مبتلا بہت سے امریکی فوجی پاگل پن حاور جنون کا بھی شکار ہورہے ہیں، فائرنگ کے ہلاکت خیز واقعات میں ڈرگس کے رول سے انکار نہیں کیا جاسکتا، 16 سالہ جیف ویز نے اپنے دادا اور ان کے پاٹنر اور کئی ساتھی طلبہ کو منیسوٹا میں گولیاں مار کر ہلاک کیا، پھر خود کو بھی گولی مال کر ختم کرلیا، اس واقعہ میں 10 ہلاکتیں پیش آئیں، یہ شخص خطرناک قسم کے نفسیاتی ڈوز لے رہا تھا، 19 سالہ جیمز ولسن جو مختلف سائیکیاٹرک ڈرگ کے زیر علاج تھا، وہ ریلوار کے ساتھ اسکول میں گھسا اور دو کمسن لڑکیوں کو موت کی نیند سلا دینے کے علاوہ سات دیگر بچوں اور دو ٹیچروں کو بھی زخمی کیا، 13؍ سالہ ایلز بتھ بش پنسل وانیا کے اسکول میں شوٹنگ کی مرتکب رہی، وہ ایک خطرناک ڈرگ کے علاج پر تھی، 37 ؍سالہ ووڈی نے خود کشی کرلی، جب کہ ایک خطرناک ڈرگ استعمال کرتے ہوئے اس کا پانچواں ہفتہ چل رہا تھا، یہ چند واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جنونی فائرنگ کے واقعات میں نفسیاتی امراض اور منشیات کے بے تحاشہ استعمال کو بھی دخل ہے۔
امریکہ میں ہونے والے خوفناک ماس کلنگ کے واقعات کا ایک سبب نسل پرستی بھی بتائی جاتی ہے، ماہرین کے مطابق ماس کلنگ کے ۵۴ فیصد واقعات سفید فام مردوں نے کیے، باقی نسل پرست سیاہ فاموں نے، ماہر جرمیات James Alan Fox کا کہنا ہے کہ سفید فام امریکیوں کو اپنی حق تلفی کا احساس ایسے جرائم پر اکساتا ہے، ان کا احساس ہے کہ سفید فام ہونے کے ناتے بہترین جاب کے وہ اولین حقدار ہیں، جو کالے اور یہودی مار لیتے ہیں، ایک امریکی ماہرنفسیات Michael Rosenwald کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں کہ بڑے پیمانے پر قتل کرنے والے ذہنی مریض ہی ہوتے ہیں، یہ سچ ہے کہ ان میں سے کچھ ذہنی مریض تھے، لیکن انہیں کوئی سنگین نوعیت کی بیماری یا پاگل پن کی علامات لاحق نہیں تھیں، بلکہ ان کا رویہ دوسروں کے ساتھ معاندانہ یا نفرت انگیز تھا، جسے عام طور ذہنی کے بجائے اخلاقی مرض سمجھا جاتا ہے۔

سطور بالا میں امریکی معاشرے میں بڑھتے ہوئے فائرنگ واقعات کے جن اسباب کی نشاندہی کی گئی ہے اس میں شک نہیں کہ کسی نہ کسی درجہ میں ان کا دخل ضرور ہے، لیکن یہ اصل مرض نہیں ہے، بلکہ مرض کے عوارض ہیں، امریکی معاشرے کا اصل المیہ وہ روحانی خلاء ہے، جس نے امریکیوں کی زندگی سے سکون کو چھین لیا ہے، آسائش کے سب کچھ سامان مہیا ہونے کے باوجود وہ بے چینی کا شکار ہیں، یہ در حقیقت بے خدا مغربی تمدن کا شاخسانہ ہے، جس کی بنیاد خالص مادیت اور شہوت پر رکھی گئی ہے، یہ در اصل عذاب خداوندی ہے، جس نے امریکی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، امریکہ ساری دنیا میں مظالم ڈھا رہا ہے، عراق وافغانستان میں بمباری کرکے لاکھوں بے قصوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، دنیا بھر میں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں، اب تک دنیا کے دسیوں ممالک امریکی دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں، عالم اسلام کے حصے بخرے کرنے میں اس کا کلیدی رول ہے، لاکھوں بے قصو رمردوخواتین، بوڑھے اور معصوم بچے امریکی بربریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، دنیا بھر میں دہشت گردی کو کھاد فراہم کرنے والے امریکہ کو اللہ نے ماس شوٹنگ کے عذاب میں مبتلا کردیا ہے، قدرت کا ضابطہ ہے کہ جیسا بوؤ گے ویسا پاؤ گے، کوئی ببول بوکر آم کی خواہش نہیں کرسکتا، دنیا بھر میں دہشت گردی کو ہوا دینے والا ملک خود ایسی کیفیت میں مبتلا ہے کہ آئے دن وہاں کے شہری بے قصوروں پر فائرنگ کرکے سیکڑوں لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں، اس قسم کے فائرنگ کے واقعات اگر کسی مسلمان کے ذریعہ کے انجام پاتے تو پتہ نہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کا کیسابھیانک پروپیگنڈہ کیا جاتا، لیکن گذشتہ چند سالوں کے دوران دسیوں امریکی عام شہریوں پر فائرنگ کرکے سیکڑوں لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں،لیکن مغربی میڈیا انہیں حرف غلط کے طور پر بھی دہشت گرد نہیں کہتا۔

یہ ا مریکہ کی خام خیالی ہے کہ مہلک ہتھیاروں کی فراوانی سے دنیا میں امن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا، اگر ہتھیاروں سے امن وسلامتی حاصل ہوتی تو ا مریکہ سب سے زیادہ محفوظ ملک ہوتا اورہر چند ہفتوں میں جنونی فائرنگ کے واقعات رونما نہ ہوتے، امن وسلامتی کے لیے اس تہذیب کو گلے سے لگانا ہوگا جسے رب کائنات نے اپنے نبیوں کے ذریعہ انسانوں کو عطا کیا ہے، وہ ایسی ربانی تہذیب ہے جو سارے انسانوں کو ایک خدا کا کنبہ قرار دیتی ہے، جس کی نگاہ میں ایک انسان کا ناحق قتل ساری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، جس کی بنیاد شہوت ومادیت کے بجائے خدا ورسول کی مرضیات پر رکھی گئی ہے، اسلامی تہذیب در اصل ربانی تہذیب ہے، اسی سے انسانی معاشرہ روحانی سکون پاسکتا ہے اور یہی حقیقی معنی میں حقوق انسانی کی ضامن ہوسکتی ہے، امریکہ میں ماس شوٹنگ کی تشویشناک صورت حال در اصل مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتی ہے، نفسیاتی امراض کی کثرت اور خود کشی کا بڑھتا رجحان ظاہر کرتا ہے کہ امریکی تہذیب کا آشیانہ شاخ نازک پر قائم ہے، جسے کبھی پائداری حاصل نہیں ہوسکتی، مسئلہ صرف جنونی فائرنگ ہی کا نہیں ہے، بلکہ پورا معاشرتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جنسی بے راہ روی نے خاندانی تصور کو کالعدم کردیا ہے، امریکہ میں ہر سال 10 سے 24 سال کی عمر میں 931936لڑکیاں شادی سے پہلے مائیں بن جاتی ہیں، ایک سروے کے مطابق 15 سے19 سال کی عمر میں 2 لاکھ اور 20 سے 24 سال کی 482000لڑکیا بن بیاہی مائیںبن گئیں،حقوق نسواں کی سب سے زیادہ رٹ لگانے والے مغربی معاشرے میں سب سے زیادہ مظلوم عورت ہے، قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں خواتین کی عصمتیں پامال ہوتی ہیں، ایک امریکی اخبار کی سروے رپورٹ کے مطابق امریکہ کی 60 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں پہلا جنسی تجربہ باپ یا بھائی سے حاصل ہوا، امریکی معاشرے میں عورتوں پر تشدد عام ہے، امریکن میڈیکل اسوسی ایشن کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ہر چوتھی عورت کو اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ سے زدو کوب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پٹائی کے نتیجہ میں بسا اوقات جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے، چنانچہ ایسی امریکی خواتین جن کو نہایت بے دردی سے پیٹا گیا، ان کی تعداد چار کروڑ سے زائد ہے، ایک امریکی خاتون مصنفہ کی تحقیق کے مطابق امریکہ میں ہر سال بارہ ہزار بیویاں شوہروں کے ہاتھوں قتل ہوجاتی ہیں، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بھی روز افزوں ہیں، امریکن میڈیکل اسوسی ایشن کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر سال سات لاکھ خواتین جنسی زیادتی کی شکار ہوتی ہیں، میڈیکل اسوسی ایشن کے صدر لوئی پرسٹونے رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین میں ۶۱ فیصد کی عمر ۱۸ سال سے بھی کم ہوتی ہے اور ان میں ۷۵ فیصد دوستوں اور آشناؤں اور رشتہ داروں کی ہوس کا شکار ہوتی ہیں(روز نامہ جسارت،پاکستان)
کہاں ہیں ثنا خوانِ تقدیس مغرب ؟ کیا مغربی تہذیب کے اس مکروہ چہرہ سے نقاب اٹھنے کے بعد بھی ان کے موقف میں تبدیلی نہیں آئے گی؟
[email protected]

TOPPOPULARRECENT