Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / بوگس رائے دہی روکنے اور لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے موثر انتظامات

بوگس رائے دہی روکنے اور لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے موثر انتظامات

حیدرآباد۔/13 مارچ(سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بوگس رائے دہی اور تلبیسی شخصی کے تدارک کے لئے موثر سلامتی انتظامات کرنے اور حساس مراکز رائے دہی پر ویڈیو گرافی، ڈیجیٹل فوٹو گرافی کرنے اور مائیکرو آبزرورس تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر الیکشن کمیشن آف انڈیا مسٹر ونود زوتشی نے آج یہاں جوبلی ہال باغ عامہ می

حیدرآباد۔/13 مارچ(سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بوگس رائے دہی اور تلبیسی شخصی کے تدارک کے لئے موثر سلامتی انتظامات کرنے اور حساس مراکز رائے دہی پر ویڈیو گرافی، ڈیجیٹل فوٹو گرافی کرنے اور مائیکرو آبزرورس تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر الیکشن کمیشن آف انڈیا مسٹر ونود زوتشی نے آج یہاں جوبلی ہال باغ عامہ میں چیف الکٹورل آفیسر آندھرا پردیش مسٹر بھنور لال کے ہمراہ انتخابات کے ضمن میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا اعلیٰ پولیس افسران اور ضلع کلکٹران کے ایک اجلا س میں انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ بعدازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر ونود زوتشی نے کہا کہ سابقہ تجربات کی اساس پر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آندھرا پردیش کو انتخابی مصارف کے اعتبار سے حساس ریاست تصور کیا ہے اور یہاں انتخابی مصارف کی حد پر عمل آوری کو یقینی بنانے خصوصی انتخابی مصارف مبصرین تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرس (ضلع کلکٹران) اور ضلع سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کے علاوہ اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے اجلاس میں انتخابات کے پیش نظر لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش میں تاحال رائے دہندوں کی مجموعی تعداد 6,25,83,653 ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کا اندراج نامزدگی کی آخری تاریخ تک کیا جاسکتا ہے تاہم آندھرا پردیش میں جہاں پہلے مرحلہ کی رائے دہی کے لئے پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ /17 اپریل ہے وہاں رائے دہندے /30 مارچ تک اپنا نام درج کرواسکتے ہیں جبکہ دوسرے مرحلہ کی رائے دہی میں پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ /19 اپریل ہے وہاں /9 اپریل تک ناموں کا اندراج کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے /9 مارچ کو ملک بھر میں فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کی مہم چلائی تھی جس کے نتیجہ میں 75 لاکھ رائے دہندوں کا اضافہ ہوا ہے جبکہ آندھرا پردیش میں 10 لاکھ نئے رائے دہندوں کا اندراج کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کلکٹران کو ہدایت دی گئی کہ وہ /20 مارچ تک نئے رائے دہندگان کے لئے تصویری شناختی کارڈس جاری کردئیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے صدفیصد تصویری فہرست رائے دہندگان قائم کرنے کا ہدف پورا کرلیا ہے۔ اس مرتبہ رائے دہندگان کو پولنگ بوتھس میں داخل ہونے کے لئے تصویری شناختی کارڈ یا تصویری انتخابی پچی اپنے ساتھ رکھنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے تلبیس شخصی کے خدشات ختم ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنس کی تعداد میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوگی البتہ جہاں رائے دہندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگا وہاں پولنگ اسٹیشنس سے متصل عمارات میں اضافی پولنگ بوتھس قائم کئے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرس انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کو یقینی بنانے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑ رہے ہیں اور جہاں ضرورت پڑی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیری مقدمات بھی درج کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش میں انتخابی مصارف پر خصوصی اور کڑی نظر رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر پارلیمانی حلقہ کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کا ایک عام مبصر ہوگا جن کو دو مزید مبصرین معاونت کریں گے۔ علاوہ ازیں ایک پولیس مبصر اور ایک مصارف مبصر بھی ہوں گے۔ جو حلقے مصارف یا لاء اینڈ آرڈر کے اعتبار سے حساس ہوں گے وہاں اضافی مبصرین بھی تعینات کئے جائیں گے۔ حساس پولنگ اسٹیشنس پر ویڈیو گرافی، ڈیجیٹل فوٹوگرافی کی جائے گی اور مائیکرو آبزرورس بھی تعینات کئے جائیں گے۔ گورنر کی جانب سے عہدیداروں کا جائزہ اجلاس طلب کرنے سے متعلق استفسار پر مسٹر ونود زوتشی نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کا اطلاق پولیٹیکل ایکزیکٹیو اور بیوروکرٹیکل ایکزیکٹیو دونوں پر ہوگا اور گورنر کو بھی انتخابات میں مشغول عہدیداروں کا جائزہ اجلاس طلب کرنے کا اختیار نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ناگزیر حالات یا ہنگامی حالات میں عہدیداروں کا اجلاس طلب کرنے ضروری ہو تو الیکشن کمیشن سے پیشگی اجازت طلب کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے دوران نئی اسکیمات، شہریوں کو فائدہ پہنچانے کے وعدے اور استفادہ کنندگان کی نشاندہی نہیں کرسکتے۔

TOPPOPULARRECENT