بوگس رائے دہی پر قابو پانے انتخابی عہدیداروں کو الیکشن کمیشن کی ہدایات

نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بوگس رائے دہی اور رقم کی طاقت کے استعمال کے خلاف خبردار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اپنے عہدیداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مراکز رائے دہی پر اگر 90 فیصد سے زیادہ رائے دہندے یا کسی ایک مخصوص امیدوار کو گزشتہ انتخابات میں 75 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ہوں تو سخت چوکسی اختیار کریں۔ اپنی ہدایات میں اہم مراکز

نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بوگس رائے دہی اور رقم کی طاقت کے استعمال کے خلاف خبردار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اپنے عہدیداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مراکز رائے دہی پر اگر 90 فیصد سے زیادہ رائے دہندے یا کسی ایک مخصوص امیدوار کو گزشتہ انتخابات میں 75 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ہوں تو سخت چوکسی اختیار کریں۔ اپنی ہدایات میں اہم مراکز رائے دہی کی نشاندہی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ہدایت دی کہ آزادانہ و منصفانہ رائے دہی کو یقینی بنایا جاسکے۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ مختلف عناصر کے پیش نظر الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ چیف الیکٹورل آفیسرس سابقہ انتخابی نتائج کا تجزیہ کریں

جس سے اُنھیں اہم مراکز رائے دہی کی شناخت میں سہولت ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ مراکز رائے دہی وار انتخابی نتائج فارم 20 میں دستیاب ہیں۔ اِسی فارم میں گزشتہ عام انتخابات کے نتائج کا بھی تجزیہ موجود ہے۔ ایسے تمام مراکز رائے دہی جہاں پر ووٹنگ 90 فیصد سے زیادہ اور کسی مخصوص امیدوار کی تائید میں 75 فیصد سے زیادہ ہوئی ہو تو وہاں پر سخت چوکسی آئندہ انتخابات میں اختیار کرنا لازمی ہوگا۔ یہاں پر بوگس رائے دہی کے انسداد کے لئے زیادہ تعداد میں عملہ بھی تعینات کیا جائے گا تاکہ رقم کی طاقت اور دیگر ذرائع کا استعمال نہ کیا جاسکے اور تمام امیدواروں کو مساوی موقع فراہم ہوجائے۔

مودی کی دوسری ریالی میں بھی کانگریس نشانہ
سنبل پور ، اڈیشہ ۔ 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی نے آج بی جے ڈی قائد نوین پٹنائک پر اپنی تنقیدوں کی شدت میں کمی کرنے کا اشارہ دیا حالانکہ سلمان خورشید نے نریندر مودی کے حلاف جو ریمارک کیا تھا اس پر مودی نے کانگریس کے کان کھینچنے کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا کہ کانگریس قائدین نے اپنی شرمناک شکست کیلئے بہانے تلاش کرنے شروع کردیئے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہیکہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں انہیں شکست ہوگی۔ اڈیشہ میں اپنی دوسری ریالی کے دوران مودی نے نوین پٹنائک پر کوئی تنقید نہیں کی۔ نریندر مودی کا کہنا ہیکہ ان کی حلیف جماعتوں کے پاس سوائے ’’مودی کو روکو، مودی کو روکو‘‘ کی مالا جپنے کوئی دیگر ایجنڈہ نہیں ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کا نام بدل کر انسٹی ٹیوشن نیگلیکٹنگ کانگریس ہونا چاہئے۔ مودی نے کہا کہ وہ ملک کو درپیش مسائل کی یکسوئی کیلئے 24 گھنٹے مصروف رہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT