Tuesday , July 17 2018
Home / مذہبی صفحہ / بچوں پر ماں کی تربیت کا اثر

بچوں پر ماں کی تربیت کا اثر

مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی

مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی

روتے ہوئے بچوں کو مسکرانے پر آمادہ کرلینا ایک ماں کا بہت بڑا فن ہے۔ اس راز کو ماں ہی سمجھتی ہے کہ اس موقع پر میں کونسی بات کروں کہ میرا روتا ہوا بچہ ہنسنے لگے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بچہ ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھا اور پھر کچھ دیر بعد ہی وہ مسکراکر بات کرنے لگا۔ یعنی بچوں کا رونا اور ہنسنا کچھ اسی طرح ہوتا ہے، اس لئے بچے کو کس طرح ہنسانا ہے ہر ماں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ جب آپ کو اس بات کا احساس ہو جائے گا تو آپ روتے ہوئے بچے کو ہنسا سکتی ہیں اور جب بچہ نارمل ہو جائے تو اس سے یہ معلوم کریں کہ رونے کی وجہ کیا تھی؟ تو اس بات کا خیال رکھیں، تاکہ وہ آئندہ نہ روسکے۔

یونہی اگر آپ کا بچہ کوئی غلط کام کر رہا تھا، یعنی چوری کر رہا تھا یا کوئی اور بات کر رہا تھا اور آپ اس موقع پر پہنچ گئیں تو یوں بن جائیں جیسے آپ نے دیکھا ہی نہیں۔ کیونکہ آپ نے اگر رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تو اس کے ذہن سے حیا ختم ہو جائے گی، بلکہ پیار سے اس کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ ایسا کرنا گناہ ہے، تو بچہ آپ سے خود معافی مانگ لے گا اور اپنی غلطی کا احساس کرے گا۔

بچے کو نہ تو آپ اپنا غلام بنائیں اور نہ ہی اس کو سیٹھ بنائیں۔ کئی ماں بچے کو اتنا مٹا دیتی ہیں کہ بچوں کی اپنی شخصیت نہیں ابھرتی اور کئی ان کو شروع ہی سے سیٹھ اور بادشاہ بنا دیتی ہیں کہ بچوں کے قدم پھر زمین پر نہیں رہتے، بلکہ وہ ہواؤں میں اڑتے رہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ بچہ سادہ ذہن ہوتا ہے، اس کو جس سانچے میں آپ ڈھالیں گی، یہ بچہ اسی سانچے میں ڈھل جائے گا۔ لہذا بچوں کو سمجھانا اور ان کو اچھا انسان بنانا ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

بچے جب کئی گھنٹے باہر گزارکر گھر آئیں تو اس موقع پر انھیں ایسی محبت دیں کہ بچے کے اندر اچھی عادتیں جم جائیں اور بری عادتیں دور ہو جائیں۔ اس لئے جب بچے اسکول سے آئیں تو اس وقت جس ماں نے یہ ڈیوٹی پوری کی، اس کے بچے ساری زندگی نیک بن کر رہیں گے، مؤدب بنیں گے اور ماں کے ساتھ محبت کرنے والے ہوں گے۔ بچے یہ بات کبھی نہیں بھول سکتے کہ جب ہم اسکول سے آتے تھے تو ہماری امی ہمیں اتنا پیار دیتی تھیں۔ جب آپ ضعیف ہو جائیں گی اور بچے جوان ہو جائیں گے تو یہ بچے آپ کی ہر خوشی کا خیال رکھیں گے۔ یعنی جس طرح سے آپ نے ان کا خیال رکھا، اسی طرح سے وہ آپ کا خیال رکھیں گے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو آپﷺ نے ان کا بوسہ لیا اور پیار کیا۔ اس وقت آپﷺ کی بارگاہ میں ایک صحابی بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے یہ دیکھ کر عرض کیا ’’یارسول اللہ! میرے دس بچے ہیں، مگر میں نے کبھی ان کو اس طرح پیار نہیں کیا‘‘۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو آدمی رحم نہیں کرتا، اللہ تعالی اس پر رحم نہیں فرماتا‘‘۔ واضح رہے کہ بچوں سے پیار کرنا فطرت انسانی ہے، لہذا بچوں کو پیار دینا بہت ضروری ہے۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک مرتبہ ایک ماں آئی، جس کے ساتھ اس کے دو بیٹے تھے۔ ام المؤمنین نے جب اس ماں کے ہاتھ میں تین کھجوریں دیں تو اس نے اپنے دونوں بچوں کو ایک ایک کھجور دے دی اور تیسرا کھجور اپنے ہاتھ میں رکھا۔ جب بچے اپنی اپنی کھجور کھا لئے تو ماں کے ہاتھ والی کھجور کو دیکھنے لگے۔ ماں نے اپنے ہاتھ کے کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور دونوں بچوں کو آدھا آدھا کھجور دے دیا۔ اسی دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس ماں کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ’’یارسول اللہ! ماں نے اپنا حصہ بھی اپنے بچوں کو کھلا دیا‘‘۔ اس وقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالی نے اس عورت پر جنت واجب کردیا‘‘۔ یعنی ایک ماں جب اپنے بچوں کے ساتھ محبت کا برتاؤ کرتی ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلے اس ماں کو جنت عطا فرما دیتا ہے۔ اس لئے چاہئے کہ ہر ماں اپنے بچوں کے ساتھ محبت کا معاملہ رکھے اور اپنے بچوں کی تربیت کے دوران اس بات کا خیال رکھے۔

حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے ساتھ لفظ ’’کاکی‘‘ جڑا ہوا ہے، جس کا معنی ’’روٹی‘‘ ہے۔ جب آپ سن شعور کو پہنچے تو آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تربیت کا پروگرام بنایا۔ چنانچہ جب ایک دن آپ مدرسہ سے واپس ہوئے تو گھر پہنچتے ہی ماں سے کہا ’’امی! مجھے بھوک لگی ہے، مجھے کھانے کے لئے روٹی دے دیں‘‘۔ والدہ نے کہا ’’بیٹا! روٹی دینے والا اللہ تعالی ہے، وہی ہم سب کو کھلاتا اور پلاتا ہے، لہذا تم اللہ تعالی سے اپنے لئے روٹی مانگ لو‘‘۔ بیٹے نے پوچھا: ’’میں اللہ تعالی سے روٹی کس طرح مانگوں‘‘۔ ماں نے سمجھایا: ’’مصلی بچھاؤ اور اس پر بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاکر اللہ تعالی سے دعاء مانگو‘‘۔ چنانچہ بچے نے مصلی بچھایا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاکر اللہ تعالی سے دعاء مانگنے لگا: ’’اے اللہ! میں ابھی مدرسہ سے آیا ہوں، تھکا ہوا ہوں اور مجھے بھوک بھی لگی ہوئی ہے اور پیاس بھی لگی ہوئی ہے۔ اے اللہ! مجھے روٹی دے دیجئے اور پانی بھی دے دیجئے۔ اے اللہ! مجھے جلدی سے کھانا دے دیجئے‘‘۔ یہ دعاء مانگنے کے بعد بیٹے نے ماں سے پوچھا ’’امی جان! اب میں کیا کروں؟‘‘ تو میں نے کہا: ’’بیٹے! اللہ تعالی نے تمہارا رزق بھیج دیا ہوگا، تم کمرے میں جاکر تلاش کرلو، تمھیں مل جائے گا‘‘۔ چنانچہ بچہ مصلی سے اٹھ کر کمرے میں آیا، اِدھر اُدھر دیکھا، ماں نے کچھ اشارہ بھی کیا۔ جب بچے نے برتن کھول کر دیکھا تو اس میں اپنے لئے گرما گرم روٹی پایا۔ بچہ بڑا خوش ہو۔ پھر کھانا کھانے کے بعد پوچھنے لگا ’’امی! اللہ تعالی ہمیں روز اسی طرح دیں گے‘‘۔ ماں نے کہا ’’ہاں بیٹے، اللہ تعالی تمھیں روز اسی طرح سے کھانا دیں گے‘‘۔ اب یہ روز کی عادت بن گئی کہ بچہ مدرسہ سے آتا، مصلی بچھاتا، اللہ تعالی سے دعاء مانگتا اور ماں کا پکایا اور چھپاکر رکھا ہوا کھانا اسے مل جاتا۔

ایک روز جب بچہ مدرسہ سے گھر پہنچا تو اتفاق سے ماں گھر پر نہیں تھی۔ ماں کسی قریبی رشتہ دار کے یہاں گئی ہوئی تھی۔ لیکن جیسے ہی ماں کو خیال آیا کہ میرے بچے کے گھر پہنچنے کا وقت ہوچکا ہے تو وہ گھبراکر دعاء کرتی ہوئی گھر کے لئے روانہ ہوئی کہ ’’میرے اللہ! میری لاج رکھنا۔ اگر بچے کو آج کھانا نہیں ملا تو میری ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔ میرے مولا! میں نے ایک معمولی سا منصوبہ بنایا تھا کہ میرے بیٹے کے دل میں تیری محبت بیٹھ جائے۔ اے اللہ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں اس کے لئے کھانا تیار کرکے نہیں آئی‘‘۔ ماں بالآخر گھر پہنچی تو دیکھا کہ بچہ بستر پر آرام کی نیند سو رہا ہے۔ ماں نے غنیمت سمجھا اور جلدی سے باورچی خانہ میں پہنچ کر کھانا بنایا اور پھر اسے کمرے میں چھپاکر اپنے بیٹے کے پاس آئی اور اس کے رخسار کا بوسہ لے کر اسے جگایا اور کہا ’’بیٹے! تمھیں مدرسہ سے آکر دیر ہو گئی ہے، بھوک لگی ہوگی کھانا کھالو۔ بیٹا! اٹھوں اور اپنے اللہ تعالی سے رزق مانگ لو‘‘۔

بیٹا ہشاش بشاش اٹھ کر بیٹھ گیا اور عرض کیا ’’امی! مجھے بھوک نہیں لگی ہے‘‘۔ ماں نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘۔ بیٹے نے کہا ’’امی! جب میں مدرسہ سے آیا تو میں نے مصلی بچھایا اور اپنے ہاتھ اٹھاکر اللہ تعالی سے دعاء مانگی کہ اے اللہ! میں بھوکا اور پیاسا ہوں، مجھے کھانا دے دیجئے۔ اے اللہ! آج تو میری امی بھی گھر پر نہیں ہیں‘‘۔ بچے نے کہا ’’جب میں دعاء مانگ کر کمرے میں پہنچا تو مجھے وہاں کھانے کے لئے روٹی مل گئی اور پھر میں نے اسے کھالیا۔ لیکن امی جان! آج کی روٹی کھانے میں جو مزہ مجھے ملا، وہ مزہ مجھے پہلے کبھی نہیں ملا‘‘۔ ماں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور پھر جب بچہ بڑا ہوکر اللہ والا بنا تو اس کے نام کا جز ’’کاکی‘‘ (یعنی روٹی) بن گیا، یعنی حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ۔
(تربیتی بیان کا اقتباس)

TOPPOPULARRECENT