Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی دین اسلام کی تعلیمات سے واقف کروانے پر زور

بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی دین اسلام کی تعلیمات سے واقف کروانے پر زور

جماعت اسلامی کا تربیتی اجتماع ، مولانا عنایت اللہ سبحانی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔ 13 ڈسمبر (سیاست نیوز) بچوں کے اندر دینی جذبہ پیدا کرنے کیلئے انہیں ابتدائی عمر سے ہی دین اسلام کی تعلیمات سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ جب ہم اس عمر میں ہی بچوں کی دینی تربیت کا آغاز کریں گے، اسی وقت آئندہ نسلوں تک دین اسلام کی حقیقی پیغام کو پہونچانے کی ذمہ داری نبھا سکیں گے۔ مولانا عنایت اللہ سبحانی (مصنف ’’محمد عربیؐ) نے آج جماعت اسلامی کے تربیتی اجتماع کے تیسرے روز جماعت کے ذمہ داران و کارکنوں سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی عمر میں بچوں کی تربیت دینی علوم کے ساتھ کرنے پر ہی بچوں کی قوت اعتماد میں اضافہ ہوگا ۔ اگر ہم بچپن میں اس مسئلہ کو نظرانداز کرتے ہیں تو ایسی صورت میں مستقبل میں بچوں پر باہمی ربط کی کمی خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ مولانا عنایت اللہ سبحانی نے بتایا کہ گھر کے ماحول کو اسلامی ماحول بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ گھر کے بڑے اور ذمہ دار افراد بچوں اور اپنے سے چھوٹوں کے تئیں آمرانہ رویہ ترک کرتے ہوئے مشفقانہ و سنجیدہ انداز سے ان کی تربیت پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے اسلامی مزاج کو گھروں میں پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک گھروں میں اسلامی ماحول فروغ نہیں پاتا، اس وقت تک اسلامی تحریکات کامیاب ہونا انتہائی مشکل ہے۔ اپنے خطاب کے دوران مولانا نے حضرت صلاح الدین ایوبیؒ کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فاتح مسجد اقصیٰ نے اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’’آپ ہمیں اچھی مائیں دیجئے، ہم آپ کو بہترین سپاہی دیں گے‘‘۔ ان کے اس بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب تک مائیں بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دیتی، اس وقت تک معاشرے میں تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی۔ مولانا عنایت اللہ سبحانی نے خاندانی اقدار پر توجہ مبذول کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ نصیحتوں کے ذریعہ ہی نئی نسل کی تعمیر ممکن ہے۔ محترمہ عطیہ صدیقہ قومی کوآرڈینیٹر شعبہ خواتین جماعت اسلامی نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران معاشرے میں عورت کے مقام کو تباہ کرنے کی سازشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عورت کو موجودہ معاشرے میں مساوات کے پُرفریب نعرے کا شکار بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ خواتین کو اپنے طبعی نیلام کے باعث سماج میں مرد سے علیحدہ ہونا ہوتا ہے لیکن موجودہ معاشرے میں مساوات کے نام پر مردانہ کردار نبھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ محترمہ عطیہ صدیقہ نے کہا کہ نبی آخری الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو کردار خواتین کا رہا ، وہ کردار ہی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے خواتین ِ اسلام نے دور نبوت میں قربانیوں اور جذبہ ایمان کی جو مثالیں پیش کی ہیں، انہیں بندگان خدا تک پہونچانے کی ضرورت ہے۔ محترمہ نے خواتین کو اجتماعی و منظم طرز پر اشاعت اسلام کا کام انجام دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآنی احکامات کے مطابق خواتین اپنی زندگی گذارنے کا عہد کریںاور اس بات کی کوشش کریں کہ وہ اپنے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ہر ذمہ داری بخوبی نبھائے۔ انہوں نے خواتین کو سوشیل میڈیا کا موثر استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے متعلق رہنمائی کا فریضہ اس پلیٹ فارم  کے ذریعہ بھی بہترین انداز میں انجام دے سکتی ہیں۔ جناب عبدالجبار صدیقی رکن مرکزی شوریٰ نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں ہونے والی رکاوٹوں کو دُور کرنے کیلئے جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تحریک کا مقصد حاصل کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ افرادی قوت پر توجہ مبذول کرتے ہوئے عملی اعتبار سے خود کو نمونہ بنائیں تاکہ تحریک کی کامیابی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔ انہوں نے ہر فرد پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں و معلومات کے اعتبار سے ایک بااثر شخصیت کا حامل بنے تاکہ اجتماعی اُمور میں وہ ہر کسی کے ساتھ رہ سکے۔ چار روزہ اجتماع کے تیسرے دن جماعت اسلامی کے کارکنوں کے مختلف تربیتی اجتماعات منعقد ہوئے جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے مندوبین نے اپنے اپنے علاقوں میں جماعت کی کارکردگی اور سرگرمیاں پر رپورٹ پیش کی۔ نائب امیر جماعت جناب ٹی نصرت علی کی زیرنگرانی مختلف علاقوں سے پیش کردہ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ یوم منعقدہ جلسہ عام میں ہوئی تقاریر اور اس کے اثرات کے متعلق بھی جماعت کے ذمہ داران نے آج جائزہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT