Wednesday , August 15 2018
Home / Top Stories / بچوں کو اغوا کرنیوالی ٹولی کے ارکان کے شبہ میں حملے، دو افراد ہلاک

بچوں کو اغوا کرنیوالی ٹولی کے ارکان کے شبہ میں حملے، دو افراد ہلاک

سوشل میڈیا پر وائرل پیامات سے عوام میں دہشت
حیدرآباد ۔ 23 ۔ مئی (سیاست نیوز) سوشیل میڈیا کے وائرل پیامات نے ریاست میں دہشت مچادی ہے۔ بچوں کو اغواء کرنے والی ٹولی کے ارکان ہونے کے شبہ پر ریاست کے مختلف اضلاع میں 2افراد کو ہلاک کردیا گیا ۔ پولیس وائرل مسیج کو غلط اور بے بنیاد قرار دینے کے باوجود سوشیل میڈیا عوام پر اتنا اثر انداز ہوچکا ہے کہ کسی بھی شخص پر شبہ کرتے ہوئے اس پر حملہ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ضلع نظام آباد اور رچہ کنڈہ کمشنریٹ کے علاقہ بی بی نگر میں بچوں کو اغواء کرنے والی ٹولی کے ارکان ہونے کے شبہ میں مقامی عوام نے 2افراد کو شدید زدوکوب کر کے ہلاک کردیا گیا ۔ تفصیلات کے بموجب واٹس ایپ پر گزشتہ ایک ہفتے سے ایسے مسیج وائرل ہوگئے ہیں جس میں کم عمر بچوں کا اغواء کرنے والی ٹولی سرگرم ہونے اور مغویہ بچوں کے بھیجے ( دماغ )کھالینے کی اطلاع پر عوام خوفزدہ ہوچکے ہیں۔ وائرل میسجوں کو عوام کی جانب سے سنگین طور پر لیتے ہوئے بے قصور افراد کی جان لی جارہی ہے ۔ پہلے ریاست تلنگانہ میں ہندی بات کرنے والے افراد کو شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا تھا لیکن اب تلگو زبان میں گفتگو کرنے والے کسان یا مزدور پیشہ افراد بھی عوام کے شک کے دائرہ میں آچکے ہیں۔ رات دیر گئے کسی بھی شخص کو شہر کے مضافاتی علاقوں میں گھومتا ہوا دیکھا جانے پر اسے شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے ۔ گزشتہ دو دنوں میں پیش آئے تازہ ترین واقعہ میں یادادری بی بی نگر کے جیہ پلی منڈل میں اسی قسم کی ایک واردات پیش آئی جس میں سارق یا اغواء کنندگان کی ٹولی ہونے کے شبہ میں گھٹکیسر سے تعلق رکھنے والے ایم بالا کرشنا کو مقامی عوام نے کل رات دیر گئے شبہ کی بنیاد پر اسے پکڑکر اس کی شناخت سے متعلق سوالات کئے، بالا گرشنا نے مقامی عوام کے گروپ کو بتایا کہ وہ گھٹکیسر منڈل سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اپنے رشتہ دار راما سوامی ساکن جیہ پلی ولیج سے ملاقات کیلئے جارہا تھا لیکن گروپ نے اس کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے اس پر حملہ کیا اور شدید زد و کوب کردیا جس کے نتیجہ میں دواخانہ میں بالا کرشنا فوت ہوگیا۔ اسی طرح ضلع نظام آباد میں بھی وائرل میسجس کی دہشت جاری ہے جس کے نتیجہ میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ نظام آباد ، بھیم گل منڈل سے تعلق رکھنے والے دیواگت لالو اور اس کے برادر نسبتی مالوت دیویا کو عوام کے ایک ہجوم نے سارقین کی ٹولی سے تعلق رکھنے والے ارکان کے شبہ میں شدید زد و کوب کیا جس کے نتیجہ میںدیویا نائک دوران علاج زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ دونوں افراد کو اس وقت عوام کے گروپ میں نشانہ بنایا گیا جب وہ آم کے باغ میں گئے ہوئے تھے جہاں پر ایک نوجوان نے ان پر شبہ کرتے ہوئے شور مچایا اور عوام نے ان کی حقیقت کا پتہ لگائے بغیر انہیں رسی سے باندھ کر زد و کوب کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی ۔ انتہائی لاغر حالت میں لالو اور دیویا کو پولیس نے پہلے آرمور کے مہاتما گاندھی سرکاری ہاسپٹل منتقل کیا لیکن ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کے نتیجہ میں انہیں شہر کے نمس ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں پر وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ اسی طرح ابراہیم پٹنم علاقہ میں بھی اغواء کنندگان کی ٹولی سے تعلق رکھنے کے شبہ میںچند افراد کو شدید زد و کوب کیا گیا ۔ ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ پڑوسی ریاست آندھرا میں بھی مچھلی پٹنم ، نندی گاما اور دیگر مقامات پر بھی اس قسم کے واقعات رونما ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT