Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / بچوں کی تعلیم اور گھر کا کرایہ ادا کرنے برقعہ پوش خواتین نمائش کے پاس کھلونے بیچنے پر مجبور

بچوں کی تعلیم اور گھر کا کرایہ ادا کرنے برقعہ پوش خواتین نمائش کے پاس کھلونے بیچنے پر مجبور

عام آدمی کی خاص بات بچوں کی تعلیم اور گھر کا کرایہ ادا کرنے برقعہ پوش خواتین نمائش کے پاس کھلونے بیچنے پر مجبور

عام آدمی کی خاص بات
بچوں کی تعلیم اور گھر کا کرایہ ادا کرنے برقعہ پوش خواتین نمائش کے پاس کھلونے بیچنے پر مجبور
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( ابوایمل ) : یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں دیگر اقوام کے مقابلے مسلمان سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہیں ۔ خصوصا حیدرآباد جو اپنی سخاوت کے لیے مشہور ہے ۔ ماضی میں اسلامی ملکوں میں بسے غریب عوام کی امداد کے لیے سرفہرست رہنے والے ہمارے شہر حیدرآباد میں اب ایسا وقت آگیا ہے کہ برقعہ پوش خواتین و طالبات زندگی کی گاڑی آگے بڑھانے اور خود کو اور اہل خانہ کو زندہ رکھنے کے لیے غیروں کی فیکٹریوں ، دکانوں اور گھروں میں گھنٹوں کام کرتے ہوئے یومیہ 100 ، 120 اور زیادہ سے زیادہ 130 روپئے کمانے پر مجبور ہوگئی ہیں ۔ قارئین ، اسلام میں زکواۃ اور بیت المال کا اتنا پیارا اور مثالی نظام ہے کہ اگر اس پر خلوص دل سے عمل کرلیا جائے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے شہر میں کوئی غریب مسلمان محتاج نہیں رہے گا ۔ دراصل گذشتہ روز ہم کو تین برقعہ پوش خواتین نمائش میدان کے اجنتہ گیٹ کے پاس بچوں کے کھلونے فروخت کرتی ہوئی نظر آئیں ۔ ان سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ وہ ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ مگر ان کی شوہروں کی آمدنی اس قابل نہیں ہے کہ اس سے گھر کی تمام ذمہ داریوں کی تکمیل ہوسکے ۔ اس لیے ہم لوگ تھوڑی بہت محنت کرلیتے ہیں تاکہ کم از کم گھر کا کرایہ ، لائٹ کا بل اور بچوں کے اسکول کی فیس ادا کرسکیں ۔ دیکھنے میں اوسطاً گھرانے سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین کافی سنجیدہ باشعور اور ذمہ دار نظر آرہی تھیں اور ان کی باتوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ محض اپنے اپنے شوہروں کے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے اپنے گھروں سے نکل کر محنت و مشقت کررہی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ تینوں آپس میں پڑوسی ہیں اور تینوں ایک دوسرے کے سہارے گھر سے باہر نکلتی ہیں ۔ اگر ان میں سے کسی ایک کی بھی طبیعت خراب ہوجائے تو کوئی بھی باہر نہیں نکلتی ہیں ۔ مذکورہ خواتین نے کہا کہ نمائش کے علاوہ ہائی ٹیک سٹی میں واقع شلپارامم میں بھی وہ بذریعہ آر ٹی سی بس جاتی ہیں اور شام 7 بجے سے رات 10 بجے تک کھلونے فروخت کر کے واپس آجاتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے شہر میں دولت مند اور صاحب ثروت افراد کی کمی نہیں ، کروڑہا روپئے کی زکواۃ بھی نکالی جاتی ہے اگر اس رقم کا چھوٹے پیمانے پر صنعتوں کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ ہمارے نبی کریم ؐکی ایک مبارک حدیث ہے کہ اگر زکواۃ و صدقات کو صحیح طور پر نکالا جائے تو دنیا میں کوئی غریب نہ رہے ۔ لہذا ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہم سے کہاں کوتاہی ہورہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT