Wednesday , December 12 2018

بچوں کی پیدائش کیساتھ ہی آدھار نمبر اور صداقت نامہ پیدائش جاری کرنے کی تجویز

تلنگانہ میں تاحال 3 کروڑ 82 لاکھ آدھار کی اجرائی، جی ایچ ایم سی کا غور

حیدرآباد۔7جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں نومولود کی پیدائش کے ساتھ ہی آدھا ر نمبر اور صداقتنامہ پیدائش کی اجرائی زیر غور ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں آدھار کارڈ کے حصول کیلئے عوام کو کسی قسم کی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور عوام کو آدھار مراکز کے چکر نہ کاٹنے پڑے۔ ریاست تلنگانہ میں تاحال اعداد و شمار کے مطابق 3کروڑ 82لاکھ افراد کو آدھار کارڈ جاری کئے جا چکے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریاست کی بلدیات کے توسط سے آدھار کارڈ کی اجرائی کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس کا آغاز مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے کیا جائے گا۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت کا یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہے اور اس مرحلہ میں یہ کہنا مشکل ہے کہ کس طرح سے یہ اقدامات کئے جائیں گے لیکن اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے حکومت نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اس کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ بچہ کی پیدائش کے ساتھ ہی جس طرح سے صداقتنامہ پیدائش کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے اسی طرح سے آدھار نمبر کی اجرائی کو بھی ممکن بنادیا جائے گا اور اس کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جارہاہے کہ نومولود کے صداقتنامہ پیدائش پر آدھار نمبر درج کردیا جائے۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت نے اس سلسلہ میں ریاست کے خانگی اور سرکاری دواخانو ںسے اس سلسلہ میں تجاویز طلب کرنی شروع کردی ہیں اور دواخانہ کے انتظامیہ کی جانب سے اس منصوبہ پر عمل آوری کو مؤثر بنانے کے لئے تجاویز بھی دی جانے لگی ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد میں ابتدائی طور پر مفت صداقتنامہ پیدائش‘ آدھار کارڈ اور پیدائشی نقص کی سند کی فوری اجرائی کا تجرنہ کرنے پر غور کیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس سلسلہ میں دواخانوں سے تعاون حاصل کرتے ہوئے ان کے ریکارڈس کے مطابق صداقتنامہ پیدائش و آدھار کارڈ کے علاوہ پیدائشی نقص و معذوری کا صداقتنامہ جاری کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔تجرباتی اساس پر شروع کئے جانے والے اس منصوبہ کی کامیابی کی صورت میں ریاست کی دیگر بلدیات میں بھی اس پر عمل آوری کی جائے گی۔ حکومت کے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی اور محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے اس منصوبہ کو قابل عمل بنانے کے سلسلہ میں متعدد امور کا جائزہ لیا جارہاہے کیونکہ آدھار کارڈ تک رسائی کے مسائل کے منظر عام پر آنے کے بعد اسے مزید محفوظ بنانے کے ضرورت ہوگی تاکہ کوئی اس ریکارڈ تک رسائی حاصل نہ کرسکیں کیونکہ آدھار کارڈ شہری کی شناخت اور اس کے ریکارڈ کا معاملہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT