Tuesday , August 21 2018
Home / جرائم و حادثات / بچوں کے اغواء پر سرکاری مشنری پریشان حال

بچوں کے اغواء پر سرکاری مشنری پریشان حال

نیشنل کرائم بیورو کی رپورٹ کے بعد حکومت کے اقدامات
حیدرآباد /6 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ کیا اب کمسن بچوں کیلئے محفوظ نہیں رہا؟ یہ ایسا سوال ہے جس سے کہ خود سرکاری مشنری پریشان ہے اکثر ایسے واقعات اس سوال کو مضبوط کرتے ہیں کہ چونکہ حالیہ نیشنل کرائم بیورو کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا جو حیرت اور تشویش کا باعث بنا ہوا ہے ۔ اس رپورٹ کے انکشافات کے بعد ایک طرف سرکاری مشنری حرکت میں آگئی ہے ۔ تاہم دوسری طرف ایسے واقعات کے تدارک کے اقدامات بھی شروع ہوگئے ہیں ۔ لیکن یہ بات مزید تشویش کا باعث ثابت ہو رہا ہے کہ آیا اس خطرناک جرم کا پردہ کیوں فاش نہیں ہوا اور کیوں آخر پولیس ایسے واقعات پر خاموش رہی ۔ پولیس کو کیا اس بات کا علم نہیں تھا یا پھر نچلی سطح کے عہدیدار اقدامات میں ناکام رہے اور سنگین رحجان کی طرف توجہ نہیں دی گئی جو ریاست میں بچوں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے ۔ رپورٹ کے انکشاف کے بعد پتہ چلا ہے کہ بچے گھروں کے قریب سے غائب ہو رہے ہیں کھیل کود میں مصروف بچوں کو دبوچ لیا جارہا ہے اور بعض واقعات میں بچے گھروں سے غائب ہو رہے ہیں ۔ اپنے گھروں کے قریب کھیل کود میں مصروف کمسن بچوں کو ان کے آنگن سے غائب کرتے ہوئے کئی غریب والدین کی گود کو سُنا کردیا گیا ۔ ایسے واقعات میں سائبرآباد پولیس سب سے آگے رہی ۔ جس میں دو تا تین ایسے سنگین واقعات میں نہ صرف مجرمین کو گرفتار کیا گیا بلکہ اغواء کئے گئے بچوں کو بہ حفاظت ان کے والدین کے حوالے کیا گیا ۔ تاہم جس سطح سے اقدامات سنجیدگی سے ہونے چاہئے اس طرح سنجیدہ اقدامات کا نہ ہونا ہی ایسے واقعات کا سبب تصور کیا جارہا ہے اور نتیجہ تشویشناک حد تک پہونچ رہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 2016 میں ریاستی سطح پر تقریباً 4700 بچے غائب ہوئے ۔ جن میں 2921 لڑکیاں اور 1779 لڑکے ہیں جن میں صرف 1021 بچوں کا ہی پتہ چل پایا ہے اور اس لحاظ سے جن بچوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان میں 377 لڑکے اور 644 لڑکیاں ہیں ۔ جاریہ سال ستمبر تک حیدرآباد میں 256 نابالغ بچے غائب ہوئے ہیں اور ریاست تلنگانہ اب ان واقعات سے ان ریاستوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے ۔ جہاں بچوں کے غائب ہونے کے واقعات پائے جاتے ہیں ۔ سال 2015 میں بچوں کے اغواء کے کل 1044 مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ جبکہ سال 2016 میں 1302 درج ہوئے جبکہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 638 لڑکیاں غائب ہوئیں ۔ ان واقعات کے تدارک کیلئے اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں ۔ حیدرآباد سٹی پولیس نے گذشتہ روز بچوں پر مظالم و ظلم و ستم کے واقعات کے تدارک اور مقدمات کی یکسوئی کیلئے تاریخی اقدامات انجام دئے ہیں اور اب اس رپورٹ سے پولیس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT