Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی حملوں کی اطلاع پولیس کو نہ دینے پر والدین کے خلاف بھی مقدمات

بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی حملوں کی اطلاع پولیس کو نہ دینے پر والدین کے خلاف بھی مقدمات

بڑھتے ہوئے جنسی حملوں کی وجہ سے اعلیٰ عہدیداران کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ یکم ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کے خلاف پولیس نے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے حالیہ دنوں میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم میں اضافہ کی وجہ سے پولیس کے اعلیٰ عہدیداران نے یہ فیصلہ کیا ہے معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی روک تھام کے لیے فوکس ( بچوں پر ہونے والی جنسی زیادتیوں کی روک تھام قانون ) قانون پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس قانون کے مطابق 18 برس سے کم عمر لڑکیاں جنسی حملوں کا شکار ہوں تو والدین فوری پولیس کو اطلاع دینا جرم کو چھپائے رکھنے کی کوشش کرنے یا پولیس کو اطلاع نہ دینے کی صورت میں پولیس خود ہی جرم آگاہی حاصل کرے یا دیگر ذرائع سے اطلاع ملنے پر پولیس والدین کے خلاف بھی مقدمہ درج کرے گی ۔ مظلومین یا ان کے افراد خاندان کی جانب سے ہی اطلاع دینے کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ کوئی بھی فرد اگر اس کو اس طرح کے واقعہ کی اطلاع ہو پولیس کو خبر دے سکتا ہے ۔۔
بڑھتے ہوئے جرائم اور ان کی پردہ پوشی
شہر کے مضافاتی علاقوں میں بچوں کے ساتھ جنسی حملوں میں اضافہ ہورہا ہے جن میں بعض کیسیس فوری معلوم ہوتے ہیں تو بعض جرائم دریافت کے دوران یا حملوں کے شکار فوت ہوجانے کے بعد ظاہر ہورہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات کے پیش نظر پولیس نے چوکسی اختیار کی ہے ۔ عزت نیست و نابود ہونے کے خوف یا جنسی حملے کرنے والے معلوم افراد جو ظاہر کرنے پر اور پریشان کرنے کے خوف سے بعض والدین ایسے جرائم کی پردہ پوشی کررہے ہیں ۔ چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں چند دن قبل 15 برس کے بچہ کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے نے اس کو جان سے مار دیا جب کہ لڑکے کے والدین نے پولیس میں گمشدگی کا مقدمہ درج کرایا تھا بچے کی میت سے بدبو آنے کی وجہ سے اصل جرم ظاہر ہوا ۔ علاوہ ازیں ترملگیری پولیس اسٹیشن کی حدود میں بھی ایک اور واقعہ روشنی میں آیا 15 برس کی سوتیلی بیٹی پر جنسی حملہ کیا ۔ بچی کی طبیعت ناساز ہونے پر ماں نے ڈاکٹرس سے رجوع کیا جہاں ڈاکٹرس نے معائنہ کے بعد لڑکی کو چاہ ماہ کی حاملہ قرار دیا ۔ ایس آر نگر تھانہ حدود میں بھی ایک 35 سالہ شخص نے لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے کسی سے بھی بتانے پر جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی اور ایک ہفتہ کے بعد لڑکی نے والدین سے جرم کے بارے میں بتانے سے جرم ظاہر ہوا ۔۔
معلوم ہونے کے بعد بھی پولیس کو اطلاع نہ دینے پر
پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ جرم کرنے والوں کو سزا دینا جتنا اہم ہے اسی طرح جرائم معلوم ہونے کے بعد اطلاع دینا بھی اتنا ہی اہم ہے ۔ جرم سے واقفیت رکھنے کے باوجود پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ مثلا اگر کسی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی جرم کرنے والوں کی اونچی پہچان یا دیگر وجوہات کی وجہ سے والدین جرم کی پردہ پوشی کررہے ہیں اور بچی بیمار ہونے سے دواخانہ رجوع کرتے ہیں اور ڈاکٹرسں تحقیقات کے بعد بچی کو حاملہ قرار دے کر پولیس کو اطلاع دیں تو پولیس فوری طور پر مجرم کے ساتھ ساتھ والدین کے خلاف بھی مقدمہ درج کریں گے ۔۔
سرکاری یا خانگی ہاسٹلس میں رہنے والی لڑکیوں کے ساتھ جنسی حملہ ہونے کی صورت میں ہاسٹلس ذمہ داران پولیس کو اطلاع نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف بھی مجرم کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ کمپنیوں ، فیکٹریوں ، ہوٹلوں اور اپارٹمنٹس میں کم عمر بچوں سے کام لے کر ان کے ساتھ جنسی زیادتیاں کرنے کے تعلق سے وہاں کام کرنے والے دیگر افراد کو اس کی اطلاع ہوتی ہے اس کے باوجود وہ پولیس کو اطلاع نہیں دیتے ہیں اور جرم ظاہر ہونے کے بعد جرم کا شکار یا والدین کی جانب سے ان لوگوں کو معلومات ہونے کی بات کہیں تو پولیس ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرے گی ۔ اسکولس ، خانگی تعلیمی اداروں ، ہوم ٹیوشنس اور کوچنگ سنٹرس میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی حملوں کی اطلاع جلد نہیں ملتی اور وہاں پڑھنے والے دوسرے طلبہ کے ذریعہ ان کے والدین کو اطلاع ملتی ہے مگر وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں ۔ اور جرم ظاہر ہونے کے بعد تحقیقات کے دوران پتہ چلے کہ دوسرے طلباء کے والدین کو اطلاع تھی تو پولیس ان والدین کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کرے گی ۔۔
وسیع پیمانے پر آگاہی پروگرامس اے سی پی سواتی لکرا
میٹرو شہروں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور جنسی حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ایسے جرائم کرنے والے 70 فیصد معلوم افراد ہی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات کا پولیس کو فوری علم نہیں ہوتا ہے اور بچیوں کے خلاف ظلم ، جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے قتل کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ان تمام واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے وسیع پیمانے پر آگاہی پروگرامس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پہلے تشہیری پروگرامس اور این جی اوز کے تعاون سے اجلاس منعقد کئے جائیں گے علاوہ ازیں شارٹ فلم سنیما تھیٹرس ، بس اسٹانڈس اور ریلوے اسٹیشنس میں نشر کئے جائیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT