Friday , January 19 2018
Home / خواتین کا صفحہ / بچوں کے سوالات کو نظرانداز نہ کریں…

بچوں کے سوالات کو نظرانداز نہ کریں…

اسے ٹالنے یا بہلانے کے بجائے اس کے مسئلے پر دھیان دیں اور اگر فوری طور پر آپ کی سمجھ میں نہ آئے کہ بچے کو کیا جواب دیا جائے تو اس سے کچھ وقت مانگ لیں، پھر اپنے شوہر، گھر کے کسی اور فرد یا کسی قابل اعتماد دوست سے مشورہ کرکے بچے کو تشفی بخش جواب دینے کی کوشش کریں۔ کیونکہ یہ عمل بھی بچے کی تربیت کا ایک اہم حصہ ہے۔ بچے کے سوالات پر اسے جوا

اسے ٹالنے یا بہلانے کے بجائے اس کے مسئلے پر دھیان دیں اور اگر فوری طور پر آپ کی سمجھ میں نہ آئے کہ بچے کو کیا جواب دیا جائے تو اس سے کچھ وقت مانگ لیں، پھر اپنے شوہر، گھر کے کسی اور فرد یا کسی قابل اعتماد دوست سے مشورہ کرکے بچے کو تشفی بخش جواب دینے کی کوشش کریں۔ کیونکہ یہ عمل بھی بچے کی تربیت کا ایک اہم حصہ ہے۔ بچے کے سوالات پر اسے جواب دینے کی بجائے جھڑک دیا جائے یا اس کو کسی اُلجھن کو سلجھانے کی بجائے ٹال دیا جائے تو ایسی صورت میں بچے کی نفسیات پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کی شخصیت عدم اعتماد کا شکار ہوجاتی ہے۔ پھر وہ زندگی بھر کسی سے کوئی بات پوچھنے یا کوئی بھی سوال اُٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔ ایسے بچوں کی تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ وہ کلاس کے دوران اپنے ٹیچر سے کسی بھی سوال کا جواب دریافت کرنے سے گھبراتے ہیں اور نتیجتاً متعلقہ مضامین پر عبور حاصل نہیں کرپاتے۔ سو، آپ ایک اچھی ماں کی طرح اپنا کردار نبھائیں اور بچوں کی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی غیر اہم سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کی بظاہر غیر اہم باتوں کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی کام کی بات چھپی ہوتی ہے ۔۔ اپنے تیز مشاہدے کے باعث وہ بہت سی باریک باتوں کو بھی نوٹ کرلیتے ہیں اور پھر ماں سے ان کی تصدیق چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT