Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / بچہ مزدوری کے خاتمہ کیلئے ایکشن پلان پر غور

بچہ مزدوری کے خاتمہ کیلئے ایکشن پلان پر غور

چیف سکریٹری کا مختلف محکموں کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس کا انعقاد
حیدرآباد 6 مئی ( این ایس ایس ) چیف سکریٹری ایس پی سنگھ نے آج ریاست میں بچہ مزدوری کے خاتمہ سے متعلق ایکشن پلان کا محکمہ لیبر ‘ پولیس ‘ خواتین و اطفال ‘ تعلیم اور فینانس کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں جائزہ لیا ۔ پرنسپل سکریٹری لیبر رجت کمار نے مطلع کیا کہ ترمیم شدہ انسداد بچہ مزدوری قانون کے تحت کسی بھی پیشہ میں 14 سال سے کم عمر والے بچوں سے مزدوری کروانا ممنوع ہے اس کے علاوہ مضر صحت پیشوں میں 18 سال سے کم عمر والے نوجوانوں سے مزدوری کروانا منع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری کے بموجب یہ اندازہ ہے کہ میکانک شاپس ‘ چوڑی سازی ‘ ہوٹلوں ‘ اینٹ کی بھٹیوں اور کپاس کی کاشت کے شعبوں وغیرہ میں 3,29 لاکھ بچے اور کم عمر نوجوان مزدوری کر ہرے ہیں۔ حکومت تلنگانہ نے 2021 تک ان بچوں کی مزدوری کو ختم کروانے کیلئے ایک ایکشن پلان تیار کیا ہے ۔ یونیسف کی جانب سے اس منصوبہ کیلئے فنی اور رقمی امداد کی فراہمی سے اتفاق کیا گیا ہے ۔ کمشنر لیبر احمد ندیم نے ریاستی ایکشن پلان کو تفصیل سے پیش کیا ۔ انہوں نے مطلع کیا کہ ضلع سطح کی سوسائیٹیز کا حال ہی میں تمام 31 نئے اضلاع میں اندراج کیا گیا ہے ۔ دوسرے محکموں کے عہدیداروں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اس صورتحال سے نمٹنے تعاون پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ چیف سکریٹری نے مسودہ ایکشن پلان کو منظوری دیتے ہوئے محکمہ لیبر کو ہدایت دی کہ وہ ضلع اور منڈل سطح کی کمیٹیوں کو مستحکم کریں اور اس لعنت کے خاتمہ کیلئے این جی اوز کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جائے ۔ این جی اوز کی خدمات کے ذریعہ مقررہ نشانوں کا حصول یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے سماج میں بچہ مزدوری کے تعلق سے شعور بیدار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس تعلق سے والدین اور آجرین کو بھی واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT