Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / بچے بے قابو ، بڑے بے حس والدین کی کمائی پر موج مستی، جیسی میوزک ویسا ڈانس

بچے بے قابو ، بڑے بے حس والدین کی کمائی پر موج مستی، جیسی میوزک ویسا ڈانس

 

محمدنعیم وجاہت

 

 

 

بچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتہ صفت ہوتے ہیں۔ ان کے دل و ذہن جھوٹ مکاری عیاری کینہ کپٹ کی بیماریوں سے پاک ہوتے ہیں۔ اپنوں اور غیروں میں فرق محسوس نہیں کرتے ہر کسی کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں چاہے وہ ان کا قاتل یا جنسی استحصال کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔ حالیہ عرصے کے دوران صرف شہر حیدرآباد میں نہیں ملک کے مختلف حصوں میں بچوں کے ساتھ ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جس نے تمام ذی حس انسانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر ہمارے ملک میں یہ کیا ہورہا ہے۔ بچوں کو ہی نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے۔ اسکولس، کالجس یہاں تک کہ ہاسپٹلس بھی بچوں کے لئے غیر محفوظ کیوں ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم چاندنی کی اس کے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل کی تازہ مثال پیش کرتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ کی طالبہ چاندنی اس قدر کم عمر میں کیوں کر اپنے بچپن کے ساتھی پر شادی کیلئے دباؤ ڈال رہی تھی۔ اس کی وجہ کیا تھی اس ضمن میں ہم نے کافی تحقیق کی۔ دانشوروں، ماہرین نفسیات، قانون کے رکھوالوں اور مذہبی رہنماؤں سے بات کی۔ اُن سے گفتگو کا حاصل یہی رہا کہ انٹرنیٹ تک بنا کسی رکاوٹ کے بچوں کی رسائی نے ماحول کو انتہائی پراگندہ کردیا ہے۔ آج کل ٹیکنالوجی اس قدر اڈوانس ہوگئی ہے کہ کمپیوٹر کی اہمیت ہی نہیں رہی۔ چھوٹے سے موبائیل پر ہی انٹرنیٹ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ہر سائیٹ کا مشاہدہ ہوسکتا ہے۔ ٹیلیفون کمپنیوں نے ایک دوسرے سے مسابقت میں ہندوستانی نوجوان نسل کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔
ذرا سونچیے ذہنی نمو کی جانب بڑھنے والے لڑکے و لڑکیاں موبائیل پر فحش مناظر دیکھیں یا تصاویر کا نظارہ کریں تو ان کی حالت کیا ہوگی۔ اس طرح پرتشدد رویے کے حامل کردار بھی ان بچوں کی شخصیت پر نظرانداز ہوسکتے ہیں۔ اس کی بدترین مثال بلیو ویل گیم ہے۔ اس گیم نے ہندوستان میں درجن سے زائد بچوں کو موت کی نیند سلادیا۔ ان واقعات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار انٹرنیٹ ہی ہے۔ چاندنی کے قتل سے پہلے اور بعد میں ایسے کئی واقعات منظر عام پر آئے ہیس جس نے ہمیں جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور ان واقعات پر قلم اٹھانے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ ایک محبت کی د استان قتل کے انجام کے ساتھ ختم ہوئی۔ چھٹویں جماعت سے محبت کرنا غلطی تھی یا انٹرمیڈیٹ میں پہونچ کر بوائے فرینڈ پر شادی کے لئے دباؤ ڈالنا غلطی تھی یا ان والدین کی غلطی ہے جنھوں نے آزادی کے نام پر بچوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ سماج میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں نمودار ہورہی ہیں۔ ڈیجیٹل کی طرح بچوں کی سوچ و فکر میں تبدیلیاں محسوس کی جارہی ہیں لیکن والدین اس کو سمجھنے میں آخر ناکام کیوں ہورہے ہیں۔ دوستوں سے ملاقات کے بہانے گھر سے باہر نکلنے والی چاندنی سے اس کی ماں نے کیوں کوئی سوال نہیں کیا چاندنی پر مکمل بھروسہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی اس کی ماں نے بھروسہ کیوں کھویا یہ ایسے واقعات ہیں جو ماں باپ کے ذہن میں اُبھرنا چاہئے۔

بچوں پر بھروسہ کرنا، انھیں اچھی تعلیم دینا، پاکٹ منی دینا، سیل فون اور کریڈٹ کارڈ دینے کے ہم خلاف نہیں ہے۔ لیکن بچوں سے بے خبر رہنے کے سخت خلاف ہیں۔ ایسی بھی محبت کیا جو جان کی دشمن بن جائے۔ ایک قبر میں اور دوسرا جیل میں رہے اور محبت و قتل سے کوئی تعلق نہ رکھنے کے باوجود عاشق و معاشقہ کے والدین کو بچوں سے دور ہونے کی سزا ملے اگر مانباپ نامور تعلیمی اداروں میں بچوں کا داخلہ دلاکر انھیں گاڑی سیل فون اور دوسری سہولتیں مہیا کرتے ہوئے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ کیا ماں باپ نے اپنے بچوں کے ساتھ کبھی وقت گذارا ہے۔ ان کے دل کی بات سننے یا محسوس کرنے کی کبھی کوشش کی ہے۔ ان کے اچھے کاموں کی کبھی ستائش کی ہے۔ برے کاموں کی سرزنش کی ہے۔ یہ چاندنی کے لاپتہ ہونے کی والدین نے جب پولیس میں شکایت کرائی تو انھوں نے اپنی بیٹی کو نہایت ہی ہوشیار اور ملنسار قرار دیا تھا اور کسی پر کوئی شک نہیں کیا تھا۔ لیکن کسی اور نے نہیں بلکہ چاندنی کا عاشق ہی اُس کا قاتل بن گیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چاندنی کی محبت سے اس کے والدین کیسے واقف نہیں تھے جبکہ چاندنی کے فون میں اس کے عاشق کا نمبر ’’میں ہارٹ‘‘ کے نام سے سیف تھا۔
آج کل کے بچے کم عمری میں بڑے بڑے کام کررہے ہیں ان کی دنیا اپنی سونچ اور توقع سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اڈوانس زمانے کا جنریشن جو ڈیجیٹل لائف میں داخل ہوگیا ہے۔ اکثر یہ دیکھا جارہا ہے۔ نئی نسل کے نوجوان میں برداشت کا مادہ کم ہوگیا ہے اور وہ کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے تیار نظر نہیں آتے اور عجلت میں اُلٹے سیدھے فیصلے کرلیتے ہیں جس میں انھیں پشیمانی اُٹھانی پڑتی ہے اور بعض اوقات انھیں اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑھتا ہے۔ یہ سب چاندنی کے کیس میں مشاہدہ کرنے کو ملا ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بچہ کی پیدائش اصل میں مانباپ کا بھی دوسرا جنم ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ بچے بڑے ہورہے ہیں مگر ان کے ساتھ ان کے ماں باپ بڑے نہیں ہورہے ہیں اکثر مانباپ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ بچے گھر میں جس طرح رہ رہے ہیں کیسے برتاؤ کررہے ہیں گھر سے باہر کی دنیا میں بھی وہ ایسے ہی رہیں گے لیکن ان کا گمان غلط ثابت ہورہا ہے۔ چاندنی کو معلوم تھا وہ اور اس کا عاشق ابھی نابالغ ہیں اور پڑھائی بھی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ ان کی زندگیوں کا انحصار والدین کی کمائی پر ہے۔ پھر عاشق پر شادی کے لئے کیوں دباؤ ڈالا۔ چلو تھوڑی دیر کے لئے یہ سمجھ لیا جائے کہ چاندنی کی یہ نادانی تھی لیکن اس کے عاشق کا دل اتنا سخت کیوں ہوگیا کہ اُس نے اپنی محبت کا ہی قتل کردیا۔

سوشیل میڈیا نے سماجی بگاڑ میں اہم رول ادا کیا ہے۔ فیس بُک، انسٹا گرام، اسناپ چاٹ، واٹس اپ ٹیلیگرام وغیرہ نے نوجوان نسل کی سونچ و فکر میں انقلابی تبدیلی لائی ہے۔ پانچویں جماعت کے بچوں سے فیشن کا شوق پروان چڑھ رہا ہے اور پب میں برتھ ڈے پارٹیاں کرنے کا کلچر تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ اسکولی تعلیم سے ہی لڑکے لڑکیاں سگریٹ نوشی کررہے ہیں۔ حیدرآباد کی دسویں جماعت میں زیرتعلیم پورنیما نامی لڑکی فلموں میں کام کرنے کے شوق میں ممبئی پہونچ گئی۔ جب مقامی لوگوں نے اس کے والدین کے بارے میں دریافت کیا تو لڑکی نے اپنے آپ کو یتیم ظاہر کیا۔ پانچویں جماعت میں زیرتعلیم ایک لڑکی نے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے سے لو لیٹر لکھ کر اپنی محبت کا اظہار کیا جب لڑکے نے اس کو مسترد کردیا تو وہ خودکشی کرلی۔ جولائی کے دوران اکسائز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے منشیات کے خلاف مہم چلائی گئی تھی۔ اسکولس سے فلم انڈسٹری کے اہم شخصیات کو نوٹس دی گئی تھی۔ کئی تعلیمی اداروں میں شعور بیداری مہم کا بھی اہتمام کیا تھا۔ ایک تعلیمی ادارے نے ڈرگس لینے والے طلبہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے ایک باکس رکھتے ہوئے بند لفافے میں معلومات حاصل کی تھی جس میں 50 بچوں کے خلاف شکایتیں وصول ہوئی جس میں ایک لڑکی کے خلاف 8 شکایتیں وصول ہوئی تھی۔ منشیات کے اصل ملزم کیلوین کے فون لسٹ میں 1000 طلبہ کے فون نمبرات دستیاب ہوئے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچے غلط کاموں کی طرف کتنی تیزی سے راغب ہورہے ہیں۔ لائسنس کے بغیر تیزی سے گاڑی چلارہے ہیں۔ ساتھ میں نشے میں بھی لت رہے ہیں ان کی جانب سے کئے جانے والے حادثات دوسروں کی زندگیوں کو بھی تباہ و برباد کرنے کے موجب بن رہے ہیں۔ یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ صرف دولتمند افراد کی اولاد ہی اس لعنت میں مبتلا ہے بلکہ والدین کی کمائی پر موج مستی کرنے والے نوجوان بھی اس میں شامل ہے۔ نوجوان نسل حقہ سے منشیات کا سفر بڑی آسانی اور تیزی سے طے کرلیا ہے۔ بات یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ اگر نوجوان نسل سے دریافت کیا جائے کہ انھیں جینے کیلئے سانس چاہئے یا سیل فون ان کا فوراً جواب سیل فون ہوگا۔ نئی نسل سیل فون کی غلام بنتی جارہی ہے۔ بچوں کو خود اختیاری اور اُن پر نگاہ رکھنے کے لئے دیا جانے والا سیل فون بچوں کی زندگیوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔ شہر میں پب کلچر عام ہوگیا ہے۔ جوبلی ہلز، بنجارہ ہلز وغیرہ میں 50 سے زائد پبس کھل گئے ہیں جہاں کمسن بچوں کو ڈسکو کے ساتھ شراب اور ڈرگس بھی تقسیم کیا جارہا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کرچکی ہے بلکہ اس سلسلے میں اب تک کئی مصدقہ تحقیق بھی سامنے آچکی ہے کہ جب کوئی تیز رفتار موسیقی کی جگہ پر اگر کوئی کھانا کھانے بیٹھتا ہے تو اس کے کھانے کی رفتار بھی تیز ہوجاتی ہے اس طرح جس شاپنگ مال میں دھیمی رفتار کی میوزک ہوتی ہے تو وہاں گاہک اطمینان سے خریداری میں مصروف ہوتے ہیں نادانستہ طور پر انسان اپنے اطراف کے ماحول کو قبول کرنے لگتا ہے۔ جب تک تیز رفتار زندگی سے انسان دور تھا اُس وقت ان کی زندگیوں میں اطمینان اور سکون پایا جاتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT