Monday , July 23 2018
Home / مضامین / بچے تین ہو یا تیرا انصاف ضروری ہے

بچے تین ہو یا تیرا انصاف ضروری ہے

محمد مصطفی علی سروری
شہر کے ایک دواخانہ کا منظر ہے جہاں ایک ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ بیٹھی ہے۔ حالت سے پتہ چل رہا تھا کہ ماں ، خود بیمار ہے اور معلوم نہیں کیا مجبوری تھی کہ اپنے ساتھ دو بچوں کو بھی دواخانہ لے آئی تھی ۔ کچھ ہی دیر بعد ماں کا نمبر آگیا وہ اپنی لڑکی کو جو کہ عمر میں دوسرے لڑ کے سے بڑی لگ رہی تھی ، لڑ کے کو سنبھالنے کو کہہ کر ڈاکٹر کے پاس چلی گئی ۔ تھوڑی ہی دیر میں چھوٹا سا لڑ کا جس کی عمر بمشکل چار پانچ برس کی ہے ، اپنی جگہ سے اُٹھ کر اپنی ہی بہن کو بڑی تیزی سے مکے بناکر مارنے لگتا ہے اور خود ہی بڑی آواز میں رونے بھی لگتا ہے۔ بچے کی آواز سن کر ڈاکٹر کے پاس گئی ماں باہر آکر پوچھتی ہے ، کیا ہوا تو لڑکا ماں کو بتلاتا ہے کہ باجی نے میرا چاکلیٹ کھالیا۔ ماں لڑکی کے چہرے پر ایک زور کا طمانچہ لگاکر اس کو کچھ پیسے دے کر دوسرا چاکلیٹ لاکر دینے کو کہتی ہے اور پھر لڑ کے کو دلاسہ دیکر واپس ڈاکٹر کے پاس چلی جاتی ہے ۔ لڑکی اپنے آنکھوں میں آنسو لئے قریبی دکان سے ایک چاکلیٹ (کیاڈبیری) لاکر اپنے چھو ٹے بھائی کو دے دیتی ہے اور پھر خاموشی سے اپنے بھائی کے برابر ٹھہر جاتی ہے ۔ قارئین اکرام میں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ ماں جب دواخانہ میں قطار میں بیٹھی تھی تو اس نے دو کرسیوں پر قبضہ کیا تھا ، ایک پر خود بیٹھی تھی اور بازو والی کرسی پر اپنے لڑکے کو بٹھایا تھا جبکہ لڑکی ان دونوں کے پاس کھڑی تھی ۔ تھوڑی دیر میں جب چاکلیٹ کیلئے لڑائی ہوئی تو اس دوران ایک دوسری ضعیف خاتون ان بچوں کی ایک کرسی پر بیٹھ گئی تھی لیکن جب ماں نے اپنی بچی کو چاکلیٹ لانے باہر بھیجا تو لڑکا اس ایک کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ لڑکا کرسی پر بیٹھ کر کیاڈبیری کھا رہا ہے اور اس کی بڑی بہن بازو کھڑی تھی ۔ لڑکی سے جب پوچھا گیا تو پہلے تو خاموش رہی ، پھر ایک دوسری برقعہ پوش حاتون نے اس کو اپنے برابر بٹھالیا تو وہ بتلائی کہ اس کی ممی ہمیشہ اس کے چھوٹے بھائی کو کیاڈبیری کا چاکلیٹ دلاتی اور جب وہ پوچھتی تو اس کو ایک روپئے والا چاکلیٹ دیتی ہے۔ آج جب اس کا بھائی اچھل کود کر رہا تھا تو اس کے ہاتھ سے کیاڈبیری کا ٹکڑا نیچے گر گیا تھا گرد لگ کر خراب ہوگیا تھا وہ اس خراب چاکلیٹ کو دھوکر کھالی بس اسی بات پر اس کا چھوٹا بھائی اس کو مار رہا تھا ۔ جب برقعہ والی خاتون نے پوچھا کہ تم اپنے چھوٹے بھائی کی مار کیوں کھاتی ، امی کو بولنا تو تھرڈ کلاس میں پڑھنے والی اس لڑکی نے جواب دیا کہ امی بولتے کہ اگر تو میرے بیٹے کو ماریں گی تو میں تیرے ہاتھ توڑ ڈالوں گی۔ ابھی بچی یہ بات پوری بھی نہیں کری کہ ماں کی آواز پر چونک کر اپنے چھوٹے بھائی کی طرف لپک گئی ، ماں کہہ رہی تھی ’’ارے کہاں چلی گئی میں کیا بولی تھی ، اپنے بھائی کے پاس رہو ، وہاں جاکر کیا کر رہی تھی ؟
قارئین کرام مجھے اور آپ کو ہر روز ایسے مناظر کئی مرتبہ دیکھنے کو ملتے ہیں جو بظاہر عام واقعات نظر آتے ہیں لیکن مسلم سماج میں پنپ رہی اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو منفی ہے اور خطرناک نتائج کی پیش قیاسی کرتی ہے ۔ اگر اب بھی آپ حضرات کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اگر ماں باپ اپنے بچوں میں لڑکوں کے ساتھ زیادہ محبت سے پیش آتے ہیں تو اس میں خاص یا خطرناک بات کیا ہوسکتی ہے تو مجھے کہنے دیجئے یہی ’’زیادہ محبت‘‘ ہما رے نوجوانوں کو معذور، کام چور اور قوم و ملت کے لئے بوجھ بنارہی ہے۔ ابھی 26 جنوری بروز جمعہ کو کیرالا سے ایک خبر آئی کہ وہاں ملا پورم ضلع میں جمیدہ نامی عربی کی ایک ٹیچر نے جمعہ کی نماز کی امامت کی ۔ News-18 کی خبر کے مطابق 34 برس کی جمیدہ نام کی ایک مسلم خاتون نے تقریباً 50 مصلیوں کے ساتھ نماز جمعہ کی امامت کی اور نماز سے پہلے اس خاتون نے باضابطہ خطبہ بھی دیا ۔ 20 منٹ کے اپنے خطبہ کی ویڈیو اور نماز جمعہ کی جماعت کی مختلف تصاویر کو جمیدہ ٹیچر نے سوشیل میڈیا اور دیگر ذرائع سے خوب پھیلایا ۔ کیرالا سے نکل کر یہ خبر شام ہوتے ہوتے پورے ملک بلکہ دنیا بھر میں پھیل گئی ۔ جمیدہ ٹیچر کون ہے ، اس کے متعلق اخبارات نے لکھا کہ جمیدہ ٹیچر کسی اور چیز کی نہیں بلکہ عربی زبان کی ہیں اور جمیدہ نے عربک اسکول سے ہی افضل العلماء کی سند بھی حاصل کی ہے اور (QSS) نام کی ایک تنظیم سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس تنظیم کا پورا نام (Quran Sunnat Society) بتلایا گیا ہے اور جمیدہ نے اس تنظیم کے دفتر میں ہی نماز جمعہ کا اہتمام کیا۔ News-18 نے جمیدہ کے حوالے سے لکھا ہے وہ امریکہ کی نام نہاد اسلامی اسکالر آمینہ ودود کو اپنا آئیڈیل مانتی ہے ۔ یہ وہی آمینہ ودود ہے جس نے امریکہ میں نماز جمعہ کی امامت کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر فتنہ کا آغاز کیا تھا ۔ قرآن مجید کوہی اصل دین اسلام مانتے ہوئے حدیث کا انکار کرنے والی جمیدہ کہتی ہیں ، احادیث مبارکہ تو قرآن مجید کے نزول کے 200 برس بعد لکھی گئی ہیں اور قرآن مجید میں کہیں بھی خواتین کو امامت کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے لیکن مرد حضرات نے قرآن مجید کی اپنی سہولت کے مطابق تشریح کرلی ہے تاکہ عورتوں کے ساتھ امتیاز برتا جاسکے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب جمیدہ ٹیچر خبروں میں آئی ہیں، اس سے پہلے بھی ۔

اس خاتون کا نام خبروں میں آتا رہا ، خاص کر ہادیہ کے قبول اسلام کے متعلق جب میڈیا مختلف طرح کی خبریں نشر کر رہا تھا، تب بھی ہادیہ کے والد اشوکن کے ساتھ جمیدہ بھی کھڑی تھی ۔ اشوکن اپنی بیٹی کے قبول اسلام کو (Love Jihad) قرار دے رہا تھا تو ان کے ساتھ عربک کی یہ ٹیچر بھی ان کے نقطۂ نظر کی تائید کرتی نظر آرہی تھی ۔ News-18 کی رپورٹ کے مطابق جمیدہ نے کہا کہ اس کے پاس ایسے ثبوت ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو لڑکیوں کو ان کے والدین کے گھر سے اور شوہروں کے پاس سے ورغلا کر بھگایا جارہا ہے اور مسلمان بناکر شادیاں کی جارہی ہیں۔ جمیدہ نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے تبدیلی مذہب پر تو پابندی لگائی جانی چاہئے۔ ہادیہ کے معاملے کے علاوہ جمیدہ نے تین طلاق یعنی طلاق ثلاثہ پر بھی اپنے متنازعہ بیانات کے ذریعہ مسلمانوں میں بے چینی کا سامان پیدا کیا تھا ۔
قارئین کرام آپ حضرات سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اپنے کالم کے آغاز میں ایک ایسی ماں کا ذکر کیا تھا جو اپنی بڑی لڑکی سے زیادہ اپنے چھوٹے لڑ کے سے محبت کرتی ہے ۔ یہاں تک کہ چھوٹا لڑکا بڑی بہن پر ہاتھ بھی اٹھادے تو بہن ہی کو برداشت کرنے کی تربیت دیتی ہے ۔ اس قصے سے یہ کیرالا کی جمیدہ کی خبر کا کیا تعلق ہے ۔ آیئے بلا کسی تمہید کے آپ کو بتلا دو جمیدہ کون ہے ؟ اور آخر اس کو مذہب اسلام سے بغاوت کی ترغیب کہاں سے ملی ہوگی ۔ یہ جاننے کی کوشش کی تو مجھے اس کے ایک انٹرویو سے اس کی شخصیت کو سمجھنے کا موقع ملا۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا (TOI) میں 29 جنوری 2018 ء کو جمیدہ کا ایک انٹرویو شائع ہوا ۔ جمیدہ نے بتلایا کہ اس کے والد کو 13 اولادیں ہوئی اور ان 13 بہن بھائیوں میں وہ سب سے چھوٹی تھی۔ اس کے والد ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے گھر میں گوشت صرف خاص مواقع پر ہی پکایا جاتا تھا اور وہ بھی بہت تھوڑا ہوتا تھا لیکن جب گوشت کا سالن کھانے کی باری آتی تھی تو ساری بوٹیاں لڑکوں کو دی جاتی تھی اور صرف بچا ہوا شوربہ لڑکیوں کے حصے میں آتا تھا۔ تب بھی جمیدہ سوال کرتی تھی کہ گوشت تھوڑا ہے تو ٹھیک ہے سب کو برابر بانٹ کر بھی تو کھلایا جاسکتا ہے۔ صرف لڑ کوں کو ہی کیوں گوشت ملتا ہے اور لڑکیوں کو صرف شوربے پر کیوں صبر کرنا ہوتا ہے تو جمیدہ کو بتلایا جاتا تھا کہ لڑکے چونکہ خاندان کو پالنے کا کام بھی کرتے ہیں تو ان کو اچھا کھانا کھانا چاہئے ۔ لڑکیاں تو گھر میں ہی رہتی ہیں۔ ان کو گوشت کھانا ضروری نہیں۔ اپنے گھر کی غربت اور غربت میں بھی ماں باپ کا لڑکیوں کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھنا جمیدہ کو باغی بنانے کا ایک اہم سبب سمجھ میں آتا ہے۔ اوپر سے جمیدہ کو دو بچوں کی پیدائش کے بعد شوہر نے چھوڑدیا ہے۔ مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ مسلمان ہونے کا مطلب صرف زیادہ بچے پیدا کرنا نہیں ؟ بچے تین ہو یا تیرہ ان کے درمیان انصاف روا رکھنا ضروری ہے اور دیکھ لیجئے کہ جمیدہ کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے ۔ اس کے والدین اس کو گوشت نہیں کھلائے تھے ، گوشت لڑکوں کو کھلاکر اس کو صرف شوربہ کھانے کو کہتے تھے ۔ اس کو عربی زبان کی عالمہ و فاضلہ بنانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ، نفسیاتی طور پر وہ ایسی باغی بن گئی کہ اب دین اسلام کے باغیوں کے ساتھ مل کر احادیث مبارکہ کا انکار کر رہی ہے اور قرآن کو اپنے طور پر سمجھ کر اس کا غلط مفہوم و معنی اخذ کرنے والوں کے ساتھ جا کھڑی ہوگئی ۔ جمیدہ نماز جمعہ کی امامت کرتے ہوئے مذہب اسلام سے بغاوت کر رہی ہے اور ہم عام مسلمان اپنے ہی گھروں میں بچیوں کے مقابلے بچوں کو محبت کے نام پر لاڈ و پیار کے نام پر جو ناانصافیاں کر رہے ہیں خدانخواستہ کہیں ہم بھی ہماری اپنی بچیوں کو نفسیاتی مریض اور اسلام کا باغی تو نہیں بنارہے ہیں؟ ذرا سوچیئے گا جمیدہ کے بارے میں نہیں بلکہ اپنے آپ سے سوال کیجئے گا ۔ کیا آپ اپنے گھر میں اپنے بچوں کے درمیان لڑکوں اور لڑکیوں کو ویسی ہی نگاہ سے دیکھتے ہیں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم فرمایا ہے یا لڑکوں کے مقابل لڑکیوں کو بوجھ مانتے ہیں، کیا ہم بھی کہیں اپنے لڑکوں کو گوشت کھلاکر لڑکیوں کو شوربے پر گزارا کرنے کی تعلیم تو نہیں دے رہے ہیں۔ سوچنا اور غور کرنا ہوگا ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو قول سے ہی نہیں عمل سے بھی مسلمان بنادے۔ بچے تین ہو تیرہ ان کی دین اسلام میں صحیح تربیت کو آسان فرمادے اور ہمیں ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنے والا بنا۔ آمین یا رب العالمین۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT