Thursday , December 13 2018

بڑے جانوروں کی ذبیح پر پابندی

پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال دل گم گشتہ مگر یاد آیا بڑے جانوروں کی ذبیح پر پابندی

پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا
بڑے جانوروں کی ذبیح پر پابندی
صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے مہاراشٹرا انیمل پریزرویشن (ترمیمی) بل 1995ء کو منظوری دی ہے جس کے تحت بڑے جانوروں اور دیگر گاؤ ذبیحہ پر پابندی ہوگی۔ ان جانوروں کے ذبیح کی سابق میں مشروط اجازت دی گئی تھی۔ مہاراشٹرا اینمل پریزرویشن ایکٹ 1976ء کے تحت مہاراشٹرا میں پہلے ہی سے گائے کو ذبیح کرنے پر پابندی تھی نئے بل کو تقریباً 19 سال بعد منظوری دی گئی ہے۔ یہ بل 1995ء میں اس وقت کی بی جے پی ۔ شیوسینا حکومت کے دوران ریاستی اسمبلی میں منظور کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس نے صدرجمہوریہ سے اظہارتشکر کیا۔ بل کی منظوری کے بعد لاکھوں افراد بیروزگار ہوں گے اور کاروبار سے وابستہ افراد کے لئے مالی ماسئل پیدا ہوں گے۔ دراصل اس کاروبار میں قریشی برادری صرف ایک حصہ کے طور پر کام انجام دے رہی ہے جبکہ اصل کاروبار کو ہندو طبقہ کے بڑے بیوپاریوں کے اور دیہی سطح پر دیگر طبقات کے افراد میں ہے۔ نئے قانون میں بھینس کو ذبح کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ اس کے گوشت کی طلب صرف 25 فیصد ہے۔ بعض علاقوں میں بڑے جانور کے گوشت کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ساری دنیا میں ہندوستان ہی بڑے جانور کے گوشت کی برآمدات میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان کی گوشت صنعت سے وابستہ افراد کا دعویٰ ہیکہ یہ گوشت زیادہ تر بھینس کو ذبح کرکے سربراہ کیا جاتا ہے جبکہ دائیں بازو کی انتہاء پسند تنظیمیں اور حقوق جانوران کے گروپس اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ ایک حقیقت ہیکہ ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں گاؤکشی پر پابندی ہے اور اس کے گوشت کی برآمدات قانون کے مغائر ہے۔ ہندوستان میں گوشت کی صنعت نئی نہیں ہے یہ ہندوستانی قانون کی منظوری کے بعد ہی برآمدات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ 1960 سے گوشت کی برآمدات کا آغاز ہوا تھا اور گذشتہ ایک دہے کے دوران اس میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سال ہی ہندوستان سے 4.3 بلین ڈالر کا گوشت بیرونی ملکوں کو برآمد کیا گیا تھا۔ اس سال بھی اس کاروبار میں مزید 200 بلین ڈالر کے اضافہ کی توقع کی گئی تھی۔ ہندوستان سے 65 ملکوں میں گوشت سربراہ کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی گوشت کی طلب میں اضافہ اس لئے ہورہا ہے کیونکہ یہ گوشت کھلے مقام پر کھیتوں میں چرنے والے جانوروں کو ذبح کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ قدرتی ماحول میں اپنا چارہ حاصل کرنے والے بڑے جانوروں کے گوشت کی لذت کو ساری دنیا کے ملکوں میں پسندیدگی کا مقام حاصل ہے۔ اگریکلچرل اینڈ پروسیسیڈ فوڈ پراڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے چیرمین سنتوش سارنگی کا کہنا ہیکہ ہندوستان میں 115 ملین بڑے جانور ہیں یہ تعداد دنیا کی آبادی کا زائد نصف حصہ ہے۔ ہر سال 1.53 ملین ٹن گوشت حاصل کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ اس صنعت سے ہندو طبقہ کے لوگ وابستہ ہیں۔ ایک خاص طبقہ کے افراد پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہیکہ یہ لوگ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا کر بڑے جانوروں خاص کر گائے کو ذبح کرتے ہیں۔ اس مسئلہ پر بحث عام ہے کہ گاؤکشی کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے سے صورتحال نازک ہوتی ہے۔ سیاسی اور مذہبی گروپس نے مل کر اس صنعت کا استحصال کیا ہے۔ تاریخ ہند کی کتابوں سے پتہ چلتا ہیکہ ماضی میں ہندو راجہ مہاراجہ باقاعدہ طور پر بڑے جانوروں کو ذبح کرتے تھے اور مویشیوں کے بشمول تمام جانوروں کا گوشت تناول کرتے تھے جب سے ملک میں کٹر پسند ہندوؤں کا غلبہ ہونے لگا ہے بڑے جانوروں کی قربانی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ کٹر پسندوں نے مل کر ملک میں ہزاروں گاؤ شالوں کا قیام عمل میں لایا ہے جہاں ضعیف اور آوارہ مویشیوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے جس ملک میں مغل بادشاہوں نے 3 صدیوں تک حکمرانی کی اور 2 صدیوں تک برطانوی حکمرانی تھی۔ اس دور میں اس طرح کے تنازعات نہیں تھے۔ آزاد ہند کے بعد ایک طرف مسلمانوں کی اکثریت نے بھی ہندو پڑوسیوں کے احترام میں گوشت کھانا ترک کردیا دوسری طرف ہندوؤں میں بھی بڑے جانور کا گوشت کھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی اور مذہبی کٹر پسندی نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب میں دراز پیدا کردیا ہے تو آج صورتحال سیاسی موقف کے تابع ہوگئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے انتخابی تقاریر میں اس صنعت پر پابندی لگانے کا وعدہ کیا تھا لیکن گذشتہ مئی سے اب تک انہوں نے وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا۔ تاہم مہاراشٹرا کی بی جے پی حکومت نے صدرجمہوریہ سے اپنے برسوں پرانے عمل کی منظوری حاصل کرکے ملک بھر میں پائے جانے والے 3600 قانون ذبیح گاہوں اور 30,000 غیرقانونی دبیح گاہوںپر تالے ڈالنے کی تیاری کرلی ہے۔ اس سے روزگار کا مسئلہ اور مالیہ کو متحرک کرنے کے ذرائع مفلوج کردیئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT