Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بڑے جانوروں کی قربانی کے مقامات کی پولیس سے تصویرکشی

بڑے جانوروں کی قربانی کے مقامات کی پولیس سے تصویرکشی

مسلمانوں کا گاؤ کشی سے اجتناب، نر مویشی ہی ذبح کئے گئے ، پولیس کی تصدیق
حیدرآباد۔3ستمبر(سیاست نیوز)عید کے موقع پر محکمہ پولیس کی جانب سے جن مقامات پر بڑے جانوروں کی قربانی کی جارہی تھی ان مقامات پر پہنچ کر جانور کی جانچ کی گئی اور تصویر کشی کی گئی۔شہر حیدرآباد میں عیدالاضحی کے موقع پر علماء کرام اور سرکردہ شہریوں کی جانب سے اور محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے ذبیحہ گاؤ کو روکنے کے لئے چلائی گئی شعور بیداری مہم کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور دونوں شہرو ںمیں محکمہ پولیس کے عہدیداروں کو کوئی ایک بھی گاؤ کشی کرتا ہوا نظر نہیں آیا حالانکہ کئی دینی مدارس میں جہاں اجتماعی قربانی کا نظم ہوتا ہے ایسے مقامات پر محکمہ پولیس کے ملازمین اور اہلکاروں نے پہنچ کر تصویر کشی کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ نر مویشی ہی ذبح کئے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ محکمہ پولیس کی جانب سے تحقیق کے لئے پہنچنے والے عہدیداروں نے بعض مقامات سے جانور کی تفصیلات جیسے کتنے جانور ذبح کئے جا رہے ہیں اور کس مقام سے ان جانوروں کی خریدی عمل میں لائی گئی ہے یہ بھی حاصل کی لیکن کسی بھی مقام سے کسی قسم کی ہراسانی کی شکایات موصول نہیں ہوئی بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ محکمہ پولیس نے مختلف گوشوں سے گاؤکشی کی جھوٹی شکایات موصول ہونے کے سبب یہ کاروائی کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ عیدالاضحی کے موقع پر صرف بیل کی ہی قربانی دی گئی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر کے علاقوں اور شہر کے نواحی علاقوں میں جن مقامات پر اجتماعی قربانی کا نظم کیا گیا تھا ان مقامات پر بھی علاقہ کے پولیس اسٹیشن سے تعلق رکھنے والے عملہ کی جانب سے ویڈیو اور تصویر کشی کے ذریعہ شواہد اکٹھا کئے گئے تاکہ گاؤکشی کے الزامات کے تحت کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہونے پائے۔اعلی عہدیداروں نے بتایا کہ شہر میں عید کے موقع پر لائے جانوروں کی تصدیق کرلی گئی تھی لیکن اس کے باوجود جس طرح سے اطلاعات گشت کر رہی تھیں کہ شہر کے کئی علاقو ںمیں گائے ذبح کی جا رہی ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے تو ایسی صورت میں پولیس نے ازسر نو ذبیحہ کے وقت جانوروں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تاکہ اس طرح کی اطلاعات پھیلانے والوں کو کشیدگی پھیلانے کا کوئی موقع نہ ملے۔اسی لئے مختلف مقامات پر جہاں اجتماعی قربانی کا نظم ہواور ان جگہوں پر ویڈیو گرافی اور تصویر کشی کی گئی جہاں جانور فروخت کئے جارہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT