Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بڑے جانوروں کے تاجروں کو ہراساں نہ کرنے کا مطالبہ

بڑے جانوروں کے تاجروں کو ہراساں نہ کرنے کا مطالبہ

جمعیتہ القریش وفد کی محمد سلیم کی قیادت میں ڈی جی پی سے نمائندگی
حیدرآباد۔24 اگست (سیاست نیوز) جمعیۃ القریش حیدرآباد کے ایک وفد نے صدر محمد سلیم قریشی ایم ایل سی کی قیادت میں ڈائرکٹر جنرل پولیس انوراگ شرما سے ملاقات کی اور گائورکھشکوں کی جانب سے بڑے جانور کے تاجروں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا۔ وفد نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ایک یادداشت پیش کی جس میں تلنگانہ کے سرحدی مقامات پر گائورکھشکوں کی جانب سے بڑے جانور کو روکنے اور تاجرین کو ہراساں کرنے کے واقعات کا ذکر کیا گیا۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ جمعیۃ القریش بیل اور بھینس کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ ہے اور یہ ان کا قدیم پیشہ ہے۔ ہمارے کمیونٹی کے افراد مختلف بازاروں میں جانور کی خرید و فروخت انجام دیتے ہیں اور یہی ان کی آمدنی کا ذریعہ ہے جس سے ان کے خاندان پلتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں خودساختہ گائورکھشکوں نے امن و ضبط کا مسئلہ پیدا کرتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے اور قریش برادری کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ یہ عناصر ہائی ویز پر جبراً گاڑیوں کو روک کر ڈرائیور اور لیبرس کو بری طرح مارپیٹ کررہے ہیں اور جانوروں کو اپنے ساتھ لے جارہے ہیں۔ خودساختہ گائو رکھشکوں کا یہ اقدام قریش برادری کے لیے ایک مستقل مصیبت بن چکا ہے۔ جمعیۃ القریش کے تاجرین ان واقعات کے سبب اپنی رقومات سے محروم ہورہے ہیں اور مالیاتی بحران سے دوچار ہیں۔ قریشی برادری کے کئی افراد اور ان کے خاندان فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ جمعیۃ القریش کے قائدین نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں خودساختہ گائورکھشکوں نے اپنے آپ کو جانوروں کا محافظ ظاہر کرتے ہوئے مختلف گروپس تیار کئے اور غیر سماجی عناصر کے ساتھ مل کر جانوروں کے تاجروں کو ہراساں کررہے ہیں اور انہیں جانوروں کی خریدی سے روک رہے ہیں۔ زرعی مارکٹس میں جانوروں کو چھینا جارہا ہے۔ خاص طور پر تلنگانہ کے سرحدی علاقوں میں اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ وہ گاڑیوں کو تلنگانہ کے حدود میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ وفد نے بتایا کہ قریش برادری کے تاجر سرکاری مارکٹ یارڈ سے جانوروں کی خریدی کررہے ہیں جس کے لیے وہ درکار فیس ادا کررہے ہیں اور مکمل قانونی طریقہ سے مارکٹ یارڈ کمیٹی کو فیس ادا کرتے ہوئے یہ معاملت کی جارہی ہے۔ یہ کاروبار مکمل طور پر جائز اور دستوری ہے اور گائورکھشکوں کو گاڑیوں کو روکنے اور جانور چھیننے کا کوئی حق نہیں۔ انہوںنے کہا کہ کارآمد جانور اور دودھ دینے والے جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے اور ہر مسلخ میں مجلس بلدیہ کی جانب سے ویٹرنری آفیسرس کا تقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کام کی نگرانی کریں۔ ویٹرنری آفیسرس کی جانب سے مسلمہ قرار دیئے گئے خشک جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت ہے۔ جمعیۃ القریش نے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے گائورکھشکوں اور غیر سماجی عناصر کے خلاف کارروائی کی اپیل کی۔ محمد سلیم قریشی ایم ایل سی کے مطابق ڈائرکٹر جنرل پولیس نے اس سلسلہ میں تمام سپرنٹنڈنٹ پولیس اور کمشران پولیس کو ہدایات جاری کرنے کا تیقن دیا۔ وفد میں محمد عبدالقادر قریشی، محمد محمود قریشی، محمد صابر قریشی اور دوسرے موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT