Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / بڑے جانور کا گوشت کھانا بنیادی حق نہیں

بڑے جانور کا گوشت کھانا بنیادی حق نہیں

ممبئی ۔ 21 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بیف (بڑے جانور کا گوشت) کھانا شہری کا بنیادی حق نہیں ہے اور ریاستی مقننہ جانوروں کے گوشت کے استعمال کو باقاعدہ بناسکتی ہے۔ حکومت مہاراشٹرا نے آج بمبئی ہائیکورٹ کو یہ بات بتائی۔ ایڈوکیٹ جنرل سنیل منوہر نے ریاست میں حکومت کی جانب سے گائے، بیل اور بھینس کے ذبیحہ اور ان کے گوشت کے استعمال یا انہیں اپنے پا

ممبئی ۔ 21 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بیف (بڑے جانور کا گوشت) کھانا شہری کا بنیادی حق نہیں ہے اور ریاستی مقننہ جانوروں کے گوشت کے استعمال کو باقاعدہ بناسکتی ہے۔ حکومت مہاراشٹرا نے آج بمبئی ہائیکورٹ کو یہ بات بتائی۔ ایڈوکیٹ جنرل سنیل منوہر نے ریاست میں حکومت کی جانب سے گائے، بیل اور بھینس کے ذبیحہ اور ان کے گوشت کے استعمال یا انہیں اپنے پاس رکھنے پر امتناع کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواستوں کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کا یہ استدلال ہے کہ کوئی بھی شخص صرف انسانی گوشت کو چھوڑ کر اپنی مرضی کے مطابق کوئی بھی گوشت کھا سکتا ہے۔ منوہر نے اس نکتہ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بیف کھانا شہری کا بنیادی حق نہیں ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت ان حقوق کو چھین نہیں سکتی۔ ریاستی مقننہ کسی بھی گوشت کے استعمال کو جسے وہ نامناسب تصور کرے، باقاعدہ بناسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینیمل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت جنگلی بور بچہ ، ہرن اور دیگر جانوروں کے گوشت کے استعمال پر امتناع عائد ہے۔

درخواست گزاروں نے مہاراشٹرا اینیمل پریزرویشن (ترمیمی) ایکٹ کی دفعات 5 (d) اور 9 (a) کو چیلنج کیا جس کے مطابق گائے ، بیل اور بھینس کا گوشت رکھنے اور اسے استعمال کرنے پر امتناع عائد ہے، یہاں تک کہ مہاراشٹرا کے باہر اگر جانور ذبح کیا جائے تب بھی ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح گوشت کی درآمد پر بھی پابند عائد کردی گئی ہے۔ سینئر وکیل اے چنوئے نے درخواست گزاروں کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا امتناع کسی شخص کے اپنی مرضی کے مطابق غذا استعمال کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ ریاستی حکومت نے کل حلفنامہ داخل کرتے ہوئے یہ استدلال بھی مسترد کردیا تھا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ بعض دیگر ایسی غذائی اشیاء ہیں جن میں بیف کے مساوی غذائیت پائی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT