Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / بڑے جانور کے تاجر اور ایکسپورٹر کی اکثریت مسلمان نہیں

بڑے جانور کے تاجر اور ایکسپورٹر کی اکثریت مسلمان نہیں

سیاسی فائدے کے لیے مسلمان نشانے پر، مسلم پرسنل لا بورڈ رہنمائی کے لیے آگے آئے

حیدرآباد۔7 اپریل (سیاست نیوز) بیف کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی سیاست میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے علماء، اکابرین اور قائدین کو رہنمائی کے لیے میدان میں آنے کی سخت ضرورت ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں جب سے فرقہ پرست طاقتوں نے بیف کے نام پر مسلم اقلیت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا عام مسلمانوں میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ حکومت ان عناصر کی سرپرستی کررہی ہے اور حکومت پر اثرانداز ہوتے ہوئے ان سرگرمیوں کی روک تھام میں مسلم قیادت ناکام ہوچکی ہے۔ عام مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ شریعت اسلامی سے مربوط اس مسئلہ کے سلسلہ میں مذہبی شخصیتوں اور اداروں کو رہنمائی کے لیے آگے آنا چاہئے۔ یوں تو بیف کے استعمال کے سلسلہ میں مسلمان غیر ضروری نشانہ پر ہیں لیکن دیگر طبقات کے ساتھ مل کر نہ صرف غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے بلکہ شرپسندوں کی سرکوبی کی جاسکتی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہندوستان میں مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلہ پر ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے رہنمایانہ خطوط جاری کرے اور حکومت پر بھی شریعت کے موقف کی وضاحت کردی جائے۔ ہندوستانی دستور کے مطابق کوئی بھی حکومت عوام کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کرسکتی اور ہر شخص کو اپنی مرضی کی غذا کے انتخاب کا حق دستور نے دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس دستوری حق کا ذکر کرتے ہوئے اترپردیش حکومت کو مسالخ کے خلاف کارروائیوں کے سلسلہ میں موقف کی وضاحت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدلیہ کی مداخلت سے فرقہ پرست عناصر کے حوصلے یقیناً پست ہوں گے ساتھ ہی حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے صرف زبانی نہیں بلکہ عملی اقدامات کرے۔ جہاں تک بڑے جانور کی تجارت اور اس کے گوشت کی برآمدات کا سوال ہے، مسلمان ان دونوں شعبوں میں دیگر طبقات سے کافی پیچھے ہیں۔ بڑے جانور کی فروخت عام طور پر اس وقت عمل میں آتی ہے جب یہ جانور کسان کے لیے بوجھ بن جائے۔ کاشتکاری میں بڑے جانوروں کی حصہ داری جب ختم ہوجائے یا پھر جانور معذور یا ضعیف ہوجائے تو غریب کسان کے لیے سوائے اسے فروخت کرنے کے کوئی اور چارہ نہیں رہتا۔ کسان اس موقف میں نہیں رہتا کہ وہ کسی فائدے کے بغیر جانور کو روزانہ چارے کا انتظام کرے جس پر اسے بھاری خرچ آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ریاست کے مختلف علاقوں میں ہفتہ واری یا ماہانہ اساس پر جانوروں کی فروخت کا میلہ سجایا جاتا ہے جس میں کسان اپنے جانوروں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جانوروں کی فروخت کے معاملہ میں مسلمانوں کا کوئی رول نہیں ہے۔ البتہ زراعت کے لیے استعمال میں نہ آنے والے جانوروں کو بڑی کمپنیاں کم قیمت پر خریدتی ہیں اور ان کے گوشت کی برآمد کی جاتی ہے۔ ہندوستان کا شمار دنیا کے ان اہم ممالک میں ہوتا ہے جہاں سے بڑے جانور کے گوشت کی مختلف ممالک کو برآمدات ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فروخت کرنے والے مسلمان نہیں تو پھر خریدنے والے کا جرم کیسا؟ زراعت کے شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں بڑے جانوروں کی فروخت اور ان کے گوشت کی برآمدات پر پابندی عائد کردی جائے تو ملک میں کہیں بھی ہریالی اور سرسبزی و شادابی نظر نہیں آئے گی۔ جانوروں کی کثرت کے باعث چارے کا انتظام خود حکومت کے لیے گلے کی ہڈی بن جائے گا۔ ایسے میں ماہرین کے مطابق نظام قدرت کے خلاف کوئی بھی عمل مسائل میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت اور اس کی سرپرستی میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے شرپسند عناصر اس حقیقت سے لا علم ہو لیکن انہیں تو صرف نفرت کی سیاست کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ لہٰذا بے قصور اور نہتے غریب تاجروں کو بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بعض علماء اور اکابرین نے تجویز پیش کی ہے کہ شرپسندی سے مقابلہ کے لیے مصلحتاً سہی مسلمانوں کو کم سے کم ایک سال کے لیے گوشت کا استعمال ترک کرنے کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ اگر اس طرح کا یہ فیصلہ لیا گیا تو بمشکل ایک ماہ کے اندر خود بڑے جانور کے تاجر مسلمانوں کے گھروں تک پہنچ کر انہیں جانور کی خریدی کے لیے منت سماجت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ہندوستان میں مسلمانوں سے زیادہ بڑے گوشت کے استعمال میں قبائیلی اور دیگر طبقات آگے ہیں۔ تہواروں کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں بڑے جانور کی قربانی دی جاتی ہے لیکن ان قبائیلیوں کے تہواروں پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا۔ اگر فرقہ پرست عناصر کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے مسلمان حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیف کے مسئلہ پر خاموشی احتیار کرلیں تو کئی ہندو طبقات خود بیف کے حق میں میدان میں آجائیں گے۔ اس وقت خود حکومت کے لیے بھی انہیں سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ اکابرین ملت کے مطابق مسلمانوں کو بیف کی سیاست کا شکار ہوئے بغیر ہوشمندی سے کام لینا ہوگا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT