Sunday , December 17 2017
Home / ہندوستان / بڑے شہروں میں پٹاخوں پر امتناع یا نہیں ، ملا جلا ردعمل

بڑے شہروں میں پٹاخوں پر امتناع یا نہیں ، ملا جلا ردعمل

ممبئی کے شہریوں کی جانب سے امتناع کا خیرمقدم ، صوتی اور فضائی آلودگی کارکنوں کے بیانات
نئی دہلی۔ 12 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے دہلی میں پٹاخوں کی فروخت پر امتناع عائد کرنے سے کارکنوں اور مقامی شہریوں میں جو دیگر میٹرو شہروں میں مقیم ہیں، اسی طرح کی بے چینی پیدا کردی ہے، کیونکہ دیگر میٹرو شہروں میں اس سے بھی زیادہ سخت تحدیدات عائد کی جاسکتی ہیں۔ ’’سیواکاسی‘‘ میں جو 500 ہزار کروڑ روپئے مالیاتی پٹاخوں کی صنعت کا مرکز ہے، اس حکم سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ تاجروں نے بادل نخواستہ اس حقیقت کو قبول کرلیا ہے اور اب آئندہ کے طریقہ کار پر غور کررہے ہیں۔ غالباً وہ ’’سبز پٹاخے‘‘ یا ماحولیات دوست پٹاخے تیار کرنے کا سوچ رہے ہیں جو ماحولیات کیلئے کم مضر رساں ہوں۔ جہاں تک پٹاخوں کی صنعت کا تعلق ہے، (سپریم کورٹ کا) اس فیصلے کے نتیجہ میں مثبت انداز فکر پیدا ہوگا کہ گرین پٹاخے کیوں نہ تیار کئے جائیں۔ ایسے متبادل کی تلاش شروع ہوجائے گی۔ مینیجنگ ڈائریکٹر کالیشوری فائر ورکس اے پی سیلواراج نے اعتراف کیا کہ گرین پٹاخوں کی تیاری سے کم دھواں خارج ہوگا، یا کوئی دھواں خارج ہی نہیں ہوگا جس کی بناء پر اس کارروائی کو چیلنج کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ صنعت متبادل طریقے تلاش کرنے کیلئے تیار ہے۔ دھویں سے پاک پٹاخے تیار کرنے کے کیمیکلس دستیاب ہیں۔ اس سلسلے میں مرکز سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ ممبئی کے شہریوں نے بھی امتناع کا خیرمقدم کیا ہے۔ بعض کارکنوں نے تجویز پیش کی ہے کہ دیوالی تقاریب کے سلسلے میں متفقہ رویہ اختیار کیا جائے۔ بڑے شہروں میں خاص طور پر کیونکہ یہاں متنوع آبادی ہوتی ہے۔ انہوں نے پٹاخوں کے خانگی استعمال پر مکمل امتناع کی تجویز پیش کی، تاکہ محدود پیمانے پر ماہرین کی جانب سے استعمال سے یقینی طور پر ان تقاریب کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ پٹاخوں کے خانگی استعمال کے بارے میں کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ چاہے یہ پٹاخے بالغ افراد استعمال کریں یا بچے یہ مساوی طور پر نقصان دہ ہیں۔ سمیرہ عبدالعلی نے کہا کہ اچھا ہوگا کہ اسی قسم کا فیصلہ پٹاخوں پر امتناع کے سلسلے میں خانگی مقامات پر بھی عائد کیا جائے اور اس کا نفاذ ممبئی کے علاقہ میں کیا جائے۔ صوتی آلودگی کے کارکنوں اور بانی آواز فاؤنڈیشن سمیرہ نے یہ تبصرہ کیا۔ ریاستی حکومتوں کی جانب سے کھلے مقامات تحفظاتی اقدامات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختص کئے جانے چاہئیں جہاں پر مناسب محفوظ نگرانی اور کئی اختراعی نظریات پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ثریا آرٹیز نے کہا کہ جو صوتی اور فضائی آلودگی کے شعبہ میں سرگرم ہیں، کہا کہ یہ پٹاخوں سے لطف اندوز ہونے کا بہترین طریقہ ہے اور ہندوستان میں اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ مہاراشٹرا آلودگی کنٹرول بورڈ میں مبینہ طور پر ہر سال پٹاخوں کی جانچ کا طریقہ رائج کر رکھا ہے۔ یہ جانچ کھلے مقامات پر ماحولیاتی کارکنوں کی موجودگی میں کی جاتی ہے۔ آواز ریکارڈ کی جاتی ہے اور معلومات کا استعمال بلند آواز والے پٹاخوں کے سلسلے میں کیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT