Saturday , June 23 2018
Home / ہندوستان / بکری اور دیگر مویشیوں پر امتناع کیوں نہیں ؟

بکری اور دیگر مویشیوں پر امتناع کیوں نہیں ؟

حکومت مہاراشٹرا سے بمبئی ہائیکورٹ کا استفسار، یہ ابھی شروعات ہے : ایڈوکیٹ جنرل

حکومت مہاراشٹرا سے بمبئی ہائیکورٹ کا استفسار، یہ ابھی شروعات ہے : ایڈوکیٹ جنرل
ممبئی ۔ 6 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مویشیوں کے ذبیح پر امتناع کے تناظر میں بمبئی ہائیکورٹ نے حکومت مہاراشٹرا سے یہ جاننا چاہا کہ دیگر جانور جیسے بکریوں کو اس فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا گیا ہے ؟ عدالت نے ریاست کے باہر ذبح ہونے والے گائے اور بیلوں کا گوشت درآمد کرنے کیلئے لائیسنس پالیسی کو منظوری دینے کا اشارہ دیا۔ جسٹس وی ایم کناڈے اور جسٹس اے آر جوشی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ بات کہی۔ ان درخواستوں میں حکومت مہاراشٹرا کی جانب سے تحفظ جانوران (ترمیمی ) ایکٹ میں حالیہ ترمیم اور دفعہ 5(d) کے تحت فراہم گنجائش کو چیلنج کیا گیاہے ۔ اس دفعہ میں ترمیم کرتے ہوئے جانوروں جیسے گایوں اور بیلوں کا گوشت رکھنے یا اسے استعمال کرنے پر بھی امتناع عائد ہے ۔ درخواست گذاروں کے مطابق ان جانوروں کا گوشت اگر مہاراشٹرا کے باہر ذبح کیا جائے تو اندرون ریاست لانے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ بنچ نے یہ سوال کیا کہ ریاست میں صرف گائے ، بیل اور بھینسوں پر ہی امتناع کیوں ہے ؟ دیگر جانوروں جیسے بکری کے تعلق سے حکومت نے کیاموقف اختیار کیاہے ؟ اس پر ایڈوکیٹ جنرل سنیل منوہر نے کہا کہ حکومت اس بارے میں غور کررہی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ یہ تو ابھی شروعات ہے ۔ اُن کااشارہ حکومت کی جانب سے گائے ، بیل اور بھینسوں کو ذبح کرنے پر امتناع کی طرف تھا ۔ انھوں نے کہاکہ ہم دیگر جانوروں کے ذبیح پر بھی امتناع کے بارے میں غور کرسکتے ہیں۔ فی الحال ریاست کا یہ احساس ہے کہ گائے ، بیلوں اور بھینسوں کا تحفظ ضروری ہے۔ عدالت نے حکومت کو یہ تجویز پیش کی کہ لائیسنس پالیسی پہلے سے موجود ہے جس کے تحت ریاست کے باہر ذبح کئے جانے والے مویشیوں کا گوشت درآمد کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ قانون کی دفعہ 5(d) کو جسے چیلنج کیا گیا ہے ، ریاست کے باہر مویشیوں کے ذبیح پر امتناع عائد نہیں ہے ۔ جسٹس کناڈے نے کہا کہ کسی شخص کو بڑے جانور کا گوشت جسے ریاست کے باہر ذبح کیاگیا ہو ، کھانے یا اپنے پاس رکھنے سے کیوں روکا جانا چاہئے ؟ حکومت بالواسطہ ریاست کے باہر بھی جانوروں کے ذبیح پر امتناع عائد کررہی ہے ۔ سینئر وکیل اسپی چنائے نے درخواست گذاروں کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے اس دفعہ کو امتیاز پر مبنی قرار دیا جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ ایڈوکیٹ جنرل منوہر نے اعتراض کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت جب مہاراشٹرا میں مویشیوں کے ذبیح کو ظالمانہ قرار دیتی ہے تو پھر وہ ریاست کے باہر اس ذبیح کو ظالمانہ کیوں قرار نہیں دے گی ۔ اس قانون کے تحت درآمد پر بھی امتناع عائد ہے ۔ بنچ نے حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 20 اپریل کو مقرر کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT