Monday , July 23 2018
Home / ہندوستان / بکری کے دودھ میں ڈینگو کو روکنے کی طاقت: رپورٹ

بکری کے دودھ میں ڈینگو کو روکنے کی طاقت: رپورٹ

نئی دہلی، 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بکری کا دودھ ڈینگو اور چکنگنیا کے علاج میں تیر بہدف ثابت ہو سکتا ہے۔ سنٹرل گوٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ مخدوم ، متھرا میں ڈینگو اور چکنگنیا کے امراض کے علاج میں بکری کے دودھ کے فوائد پر تحقیق شروع کی گئی ہے ۔ اس کے پہلے مرحلہ میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ان دونوں بیماریوں میں مبتلا افراد کو چار پانچ دنوں تک صبح اور شام دو – دو سو ملی لیٹر بکری کا دودھ پلایا جائے تو وہ فوری طور صحت مند ہوتے جاتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ایم ایس چوہان نے بتایا کہ دودھ میں متعدد قسم کے پروٹین پائے جاتے ہیں لیکن بکری کے دودھ میں ایک خاص قسم کی پروٹین ‘بائیو پیپٹیز ‘ ہوتی ہے جو گائے یا بھینس کے دودھ میں نہیں ملتی۔ یہ پروٹین ڈینگو اور چکنگنیا کی روک تھام میں موثر کردار ادا کرتا ہے ۔ ان دونوں بیماریوں سے متاثر افراد کے خون میں پلیٹلیٹس گھٹنے لگتی ہے جس سے کئی بار ان کی موت تک ہو جاتی ہے .سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ‘بائیوپیپٹیز ‘ سے پلیٹلیٹس بڑھتی ہے اور بیماری کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔ ڈاکٹر چوہان کے مطابق گائے ، بھینس اور بکری کا دودھ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس کی اہم وجہ ان جانوروں کے خوردونوش کی عادت ہے ۔ گائے یا بھینس کے مقابلہ میں بکری الگ قسم کا چارہ کھاتی ہے ۔ وہ خود کو صحت مند رکھنے کے لئے نیم، پیپل، پاکڑ اور بیری بھی کھاتی ہے جنہیں عام طور پر دوسرے جانور پسند نہیں کرتے۔

TOPPOPULARRECENT