Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / ’بگ باس‘ ہندوستانیوں کی جاسوسی کرنا پسند کرتے ہیں

’بگ باس‘ ہندوستانیوں کی جاسوسی کرنا پسند کرتے ہیں

’نمو ایپ پر صدر کانگریس کی مودی پرپھر تنقید ، سمرتی ایرانی کا راہول پر ’چھوٹا بھیم ‘ کردار کے ذریعہ جوابی حملہ

نئی دہلی۔ 26مارچ ۔ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس صدر راہول گاندھی نے’نمو ایپ‘سے لوگو ں کے ڈاٹا چوری ہونے کے مبینہ انکشاف کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کو پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’بگ باس‘ ہیں اور کسی کی بھی جاسوسی کرسکتے ہیں۔راہول گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا کہ مودی جی کا نمو ایپ آپ کے دوستوں اور خاندان کے افراد کا آڈیو، ویڈیو خاموشی سے ریکارڈ کررہا ہے اور ساتھ ہی جی پی ایس کے ذریعہ یہ بھی پتالگایا جارہا ہے کہ آپ کہاں ہیں۔ کانگریس صدر یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’بگ باس ‘ہیں جو ہندوستانیوں کی جاسوسی کرنا پسندکرتے ہیں۔ اب وہ ہمارے بچوں کا ڈاٹا بھی لینا چاہتے ہیں اور اسی لئے این سی سی کے 13لاکھ کیڈٹ کو جبراً یہ ایپ ڈاؤن لوڈکرنے کے لئے کہا گیا۔نریندر مودی ایپ سے ڈاٹا لیک ہونے کے تعلق سے راہول گاندھی نے اتوار کو فرانس کے ایک ریسرچرکے مبینہ انکشاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’نمو ایپ‘ کو ڈاؤن لوڈ کرتے ہی ڈاؤن لوڈ کرنے والے کی پوری معلومات امریکی کمپنیوں کو پہنچ جاتی ہیں۔ راہول کی تنقید پر بی جے پی نے شدید ردعمل کر کے کہا تھا کہ کانگریس کو ٹکنالوجی کی سمجھ نہیں ہے ۔ فرانس کے ریسرچر ایلیٹ ایلڈرسن نے ٹویٹ پر لکھا تھا کہ ’نموایپ‘کو و ڈاؤن لوڈ کرتے ہی ڈاؤن لوڈ کرنے والے کی پوری معلومات امریکی کمپنیوں کو پہنچ جاتی ہیں۔ آپ نریندر مودی کی سرکاری ایپ پر جیسے ہی اپنا پروفائیل بناتے ہیں آپ کی ذاتی معلومات نام، ای میل، فوٹو،جنس وغیرہ ساری معلومات امریکہ پہنچ جاتی ہیں۔ دریں اثناء راہول کے ریمارک پر مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات اسمرتی ایرانی نے ’چھوٹا بھیم‘ کارٹون کے ذریعہ راہول پر طنز کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ کانگریس کے ایپ سے ڈاٹا ’سنگاپور سرور‘ کیوں بھیجا جاتا ہے۔راہول گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا کہ مودی جی کا نمو ایپ آپ کے دوستوں اور خاندان کے افراد کا آڈیو، ویڈیو خاموشی سے ریکارڈ کررہا ہے ۔ سمرتی ایرانی نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’’راہول گاندھی، یہاں تک کہ ’چھوٹا بھیم‘تک کو پتہ ہے کہ ایپ پر عام طور سے منظوری لئے جانے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جاسوسی کی جارہی ہے ‘‘۔انہوں نے ایک دیگر ٹویٹ میں لکھا کہ اب ہم ٹکنالوجی کی بات کررہے ہیں تو راہول گاندھی کیا آپ اس بات کا جواب دیں گے کہ کانگریس اپنا ڈاٹا سنگاپور سرور کو کیوں بھیجتی ہے جسے ٹام، ڈک اور انیلی ٹکا سمیت کوئی بھی حاصل کرسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT