Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / ’بھارت ماتا کی جئے نعرہ نہ لگانے پر لاکھوں سرقلم کردیتا

’بھارت ماتا کی جئے نعرہ نہ لگانے پر لاکھوں سرقلم کردیتا

قانون نے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ رام دیو کی اشتعال انگیزی ‘اپوزیشن کی تنقید
روہتک/ نئی دہلی ۔4اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) آگ پر تیل چھڑکتے ہوئے ’بھارت ماتا کی جئے ‘ تنازعہ میں یوگا گرو رام دیو نے اپنے تبصرہ سے مزید شدت پیدا کردی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ قانون کا احترام نہ کرتے تو نعرہ لگانے سے انکار کرنے والے لاکھوں افراد کا سرقلم کردیتے ۔ انکے تبصرہ کی اپوزیشن پارٹیوں نے شدید مذمت کی ۔ اس تبصرہ کو پُرتشدد کارروائی اور عوام کو دھمکانا قرار دیتے ہوئے کانگریس ترجمان سنجے جھا نے کہا کہ وزیراعظم مودی کو رام دیو کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے ۔ سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ یہ دانستہ توجہ ہٹانے کی چال ہے ‘ تاکہ ان مسائل کی طرف سے جو عوام کو درپیش ہیں توجہ ہٹائی جائے ۔ خاص طور پر کاشتکاروں کو مسائل درپیش ہیں ۔ رام دیو کا یہ تبصرہ صدر مجلس اسد اویسی کے حالیہ تبصرہ کے پیش نظر منظر عام پر آیا ہے کہ وہ اپنے گلے پر چھری رکھ دینے پر بھی بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگائیں گے ۔ رام دیو نے کسی کا نام لئے بغیر کہا ’ کوئی آدمی ٹوپی پہن کر کھڑا ہوجاتا ہے ‘ بولتا ہے بھارت ماتا کی جائے نہیں بولوں گا چاہے میری گردن کاٹ دو ۔ ارے اس دیش میں قانون ہے نہیں تو تیری ایک کی کیا ہم تو لاکھوں کی گردن کاٹ سکتے ہیں ( بعض افراد جو ٹوپی پہنے ہوئے تھے اُٹھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھارت ماتا کی جئے نہیںکہیں گے چاہے انہیں معذور کردیا جائے ‘ اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے ورنہ ایک نہیں ہم لاکھوں کا سرقلم کردیتے ) ‘‘ ۔ رام دیو نے کہا کہ وہ قانون کی حکمرانی اور ملک کے دستور کا احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے قانون اور دستور کا احترام کرتے ہیں نہیں تو کوئی بھارت ماتا کا اپمان کرے ایک نہیں ہزاروں لاکھوں کے شیش قلم کرنے کا سمرتھ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانا ہمارے اس ملک میں شہریوں کے یقین کی توثیق ہے ‘ ان کی مادر وطن کی توثیق ہے اور اگر کوئی مذہب اس کے برعکس تعلیم دیتا ہے تو یہ قومی مفاد کے برعکس ہے ۔ وہ سدبھاونا سمیلن سے روہتک میں خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مادر وطن کے بارے میں نعرہ بازی ہے ۔مذہب کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔انہوں نے کہا کہ نعرہ لگانے کا مطلب پوجا نہیں ہے یہ قومی عزت ‘ فخر اور وقار کا معاملہ ہے ۔ چاہے وہ سکھ ہو ‘ ہندو ہو ‘ مسلم ہو یا عیسائی ہو۔ سب سے پہلے ہم سب ہندوستانی ہیں ۔ نریندر مودی کو کہہ دینا چاہیئے کہ ہندوستان کونسی کارروائی بابا رام دیو اور آر ایس ایس کے خلاف کریگا ‘ جھا نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ رام دیو کی سرقلم کرنے کی دھمکی عوام کو دھمکانے اور پُرتشدد کارروائی کی اپیل ہے ۔ انہوں نے مودی سے کہا کہ ہم آپ کی کارروائی کے منتظر ہیں ۔ سی پی ایم قائد برندا کرت نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے عملی طور پر ہندو توا عناصر کو لائسنس دیا ہے کہ وہ نعرے ملک کو متحد کرنے کی بجائے تقسیم کرنے استعمال کریں ۔ جے ڈی یو قائد پون ورما نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رام دیو کے پاس جو چاہے کہنے کا لائسنس ہے کیونکہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ایما پر ایسا کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT