Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ نہ لگانے والے ملک سے چلے جائیں

بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ نہ لگانے والے ملک سے چلے جائیں

ہنومان جینتی پر شوبھا یاترا ، وی ایچ پی لیڈر سریندرکمار جین کا خطاب
حیدرآباد 22 اپریل (سیاست نیوز) ہنومان جینتی کے موقع پر نکالی گئی شوبھا یاترا کا پرامن اختتام عمل میں آیا۔ آج دوپہر 12 بجے گولی گوڑہ ہنومان مندر سے نکالی گئی ریالی دونوں شہروں کے مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی سکندرآباد ایمپریل گارڈن میں جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی۔ شوبھا یاترا کے لئے بجرنگ دل کی جانب سے مدعو کئے گئے مہمان خصوصی وشوا ہندو پریشد کے انٹرنیشنل جوائنٹ سکریٹری سریندر کمار جین نے اپنی تقریر میں کہاکہ بھاگیہ نگر (حیدرآباد) میں ہنومان جینتی کے موقع پر بڑے پیمانہ پر نکالی گئی ریالی ملک بھر میں ایک مثال ہے اور دیگر ریاستوں میں اِسی قسم کی ریالیوں کے انعقاد سے رام مندر کی تعمیر یقینی ہے۔ سریندر کمار جین نے کہاکہ بھارت ماتا کی جئے نعرہ نہیں لگانے والے افراد ہندوستان چھوڑ دیں اور اِس ملک میں اگر رہنا ہے تو وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگانے ہوں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ 250 افراد سے ہنومان جینتی شوبھا یاترا کا آغاز ہوا اور اختتام تک اس ریالی میں ڈھائی لاکھ افراد شامل ہوگئے

اور یہ ریالی اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ ہنومان جینتی ریالی افضل گنج شنکر شیر ہوٹل سے گزرتی ہوئی آندھرا بینک کوٹھی، چادرگھاٹ چوراہا، پتلی باؤلی چوراہا، کاچی گوڑہ چوراہا، اعظم آباد، مشیرآباد، نارائن گوڑہ، حمایت نگر سے ہوتی ہوئی رملا میدان سکندرآباد سے ایمپرئیل گارڈن پر اختتام کو پہونچی۔ شوبھا یاترا کے موقع پر حیدرآباد سٹی پولیس نے سکیورٹی کے وسیع ترین انتظامات کئے تھے اور اِس ریالی پر مکمل نظر رکھنے کے لئے 470 سی سی ٹی وی کمیروں کا استعمال کیا گیا اور کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر ایم مہندر ریڈی نے اِس ریالی کی راست نگرانی کی۔ دونوں شہروں میں کئی مقامات سے چھوٹی چھوٹی ریالیاں نکالی گئیں جو مرکزی ریالی میں شامل ہوگئیں۔ چمپا پیٹ کرمن گھاٹ کے قریب اُس وقت ہلکی سی کشیدگی پیدا ہوگئی جب ہنومان جینتی ریالی میں شامل ہونے کے لئے جانے والے نوجوانوں نے ڈی جے کے استعمال پر پابندی کی مخالفت کی اور دو گھنٹے تک سڑک پر دھرنا منظم کیا۔ حیدرآباد سٹی پولیس نے پرانے شہر اور دیگر حساس علاقوں میں خاردار تار نصب کردیئے تھے تاکہ ناگہانی صورتحال میں حالات پر فوری قابو پایا جاسکے۔ ریالی کے پرامن اختتام پر پولیس نے راحت کی سانس لی۔

TOPPOPULARRECENT