Wednesday , October 17 2018
Home / ہندوستان / بھاگوت کا تبصرہ سپریم کورٹ کو چیلنج ، گجرات انتخابات پیش نظر

بھاگوت کا تبصرہ سپریم کورٹ کو چیلنج ، گجرات انتخابات پیش نظر

لکھنؤ ۔ 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مسلم تنظیموں نے آج آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت کے تبصرہ پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کیلئے راست چیلنج ہے جہاں رام مندر کا مقدمہ زیرالتواء ہے اور مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مسلم تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس کے سرسنچالک آئندہ گجرات انتخابات میں رائے دہندوں کی توجہ حقیقی مسائل کی جانب سے ایسے بیانات کے ذریعہ ہٹا کر بی جے پی کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کو عدلیہ پر یقین ہے اور اس کے رکن پر عمل آوری کی جائے گی۔ ایسا بیان دیتے ہوئے موہن بھاگوت نے قانون اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ حکومت کو ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے جو کھل کر عدالتوں کے عدم احترام کا مظاہرہ کرتے ہیں اور قانون اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور بورڈ کے رکن ظفریاب جیلانی نے الزام عائد کیا کہ ایسے تبصرے سپریم کورٹ اور جمہوریت کیلئے ایک خطرہ ہیں۔ جیلانی نے جو سینئر مشیر بھی ہیں، کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ بھاگوت کی گجرات اسمبلی انتخابات میں ایسے بیانات کے ذریعہ بی جے پی کی مدد کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ موہن بھاگوت نے سپریم کورٹ کو اور دستور ہند کو کھل کر چیلنج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور اس کے احکامات پر ملک میں عمل آوری کی جانی چاہئے۔ اگر اس نے متنازعہ مقام پر جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے تو اس بیان کے ذریعہ بھاگوت نے سپریم کورٹ کو کھل کر چیلنج کیا ہے اور یہ جمہوریت کیلئے ایک خطرہ ہے۔ کل ہند شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ سنگھ کے سرسنچالک سپریم کورٹ سے بالاتر نہیں ہیں۔ انہیں بھی عدالت کا فیصلہ قبول کرنا ہوگا حالانکہ یہ مسئلہ عدالت میں زیردوران ہے۔ موہن بھاگوت نے رائے دہندوں کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کیلئے ایسا بیان جاری کیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا تھا کہ برسوں کی کوشش اور قربانیوں کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہیکہ رام مندر کا خواب اب حقیقت بن جائے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ معاملہ ابھی عدالت میں زیردوران ہے۔ اسی مقام پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا کسی اور جگہ نہیں اور مندر کے سوائے کوئی بھی عمارت اس مقام پر تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے وہی پتھر استعمال کئے جائیں گے جو رام جنم بھومی تحریک کے علمبردار گذشتہ 25 سال سے ایودھیا میں جمع کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ 5 ڈسمبر سے مقدمہ کی قطعی سماعت کا آغاز کرنے والی ہے۔ 2010ء کے الہ آباد ہائیکورٹ کے اس مقدمہ میں فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے کئی اپیلیں داخل کی جاچکی ہیں۔ ہائیکورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ 2.77 ایکڑ اراضی فریقین میں یعنی سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا کے درمیان تقسیم کردی جائے لیکن اس فیصلہ کے خلاف 2010ء سے ہندو تنظیموں اور مسلم تنظیموں دونوں نے درخواستیں پیش کی ہیں جن کی سماعت سپریم کورٹ میں زیردوران ہے۔

TOPPOPULARRECENT