Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بھولکپور کے چمڑے کے کارخانوں اور گوداموں کی منتقلی کی ہدایت

بھولکپور کے چمڑے کے کارخانوں اور گوداموں کی منتقلی کی ہدایت

کمشنر جی ایس ایم سی ڈاکٹر جناردھن ریڈی کا دورہ مشیر آباد
حیدرآباد۔ 26 اگسٹ (سیاست نیوز) بھولکپور سے چمڑے کے کارخانے اور گودام کو فوری منتقل کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبادڈاکٹر جناردھن ریڈی نے آج حلقۂ اسمبلی مشیرآباد کے علاقہ بھولکپور کا دورہ کرتے ہوئے اس علاقہ میں موجود کارخانوں کی عاجلانہ منتقلی کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔انہوں نے اس اچانک معائنے کے فوری بعد بلدی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلہ میں اقدامات کو مزید تیز تر کرتے ہوئے تمام 533کارخانوں کی منتقلی کو یقینی بنائیں۔ ڈاکٹر جناردھن ریڈی نے بتایا کہ بھولکپور میں موجود ان کارخانوں کو بلدیہ کی جانب سے تجارتی لائسنس کی اجرائی 2003-04میں ہی روک دی گئی تھی اور انہیں فوری منتقلی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی تھی لیکن انسانی حقوق کمیشن کی مداخلت کے بعد بتدریج منتقلی اور شہر کے باہر بازآبادکاری کو یقینی بنانے کی ہدایت پر عمل آوری کے تحت اراضی کی تخصیص کی درخواست کی گئی تھی جس پر ضلع کلکٹر رنگا ریڈی نے کیسرا منڈل میں 44.06ایکڑ اراضی برائے پلاسٹک‘ لوہا اور چمڑے کی منڈی والوں کیلئے مختص کرنے کے احکام جاری کر دیئے تھے لیکن GAILنے اسی اراضی کے قریب سے گذر رہی ایل پی جی گیس پائپ لائن کو بنیاد بناتے ہوئے اس پر اعتراض کیا تھا جس کے سبب یہ منتقلی عارضی طور پر ملتوی ہو گئی تھی ۔ 2015میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے ضلع کلکٹر رنگا ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے گھٹکیسر منڈل میں سروے نمبر255میں موجود 38.10ایکڑ اراضی حوالے کرنے کی درخواست کی تھی جس پر تلنگانہ اسٹیٹ لینڈ منیجمنٹ اتھاریٹی میں غور کیا جا رہا ہے۔ کمشنر بلدیہ نے بتایا کہ بھولکپور میںلوہے اور اسکراپ کی 120منڈیاں ہیں جبکہ پلاسٹک اور اسکراپ کی 123منڈیاں ہیں۔ اسی طرح لوہے اور پلاسٹک دونوں کا کاروبار کرنے والی 183منڈیاں ہیں۔ چمڑے کے کاروبار کی 107منڈیاں ریکارڈ میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں رہائشی آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور متعدد شکایات کے بعد یہ کاروائی کی جا رہی ہے اور حکومت کے متعلقہ محکمۂ جات سے خواہش کی جائے گی کہ متعلقہ فائل کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقہ کے عوام کو راحت پہنچائی جا سکے۔ ڈاکٹر جناردھن ریڈی کے ہمراہ اس موقعہ پر مسٹر روی کرن اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT