Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / بھوپال فرضی انکاؤنٹر: جمعیت علماء ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی

بھوپال فرضی انکاؤنٹر: جمعیت علماء ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی

ممبئی۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بھوپال میں آٹھ مسلم نوجوانوں کے فرضی انکاؤنٹرکئے جانے کے خلاف آج یہاں جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے بھوپال ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کرنے کا اعلان کیا ہے اور جمعیت کے وکلاء کی ایک ٹیم جس نے بھوپال پہنچ کرحالات کا جائزہ لیا اس نے پولیس کی جانب سے کی جانے والی اس مدبھیڑ کو فرضی انکاؤنٹر قرارد یتے ہوئے اسے قتل سے تعبیر کیا ہے اور پولیس کی اس کارروائی پر درجنوں سوالات اٹھائے ہیں۔ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت اور سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی کی ایماء پر گذشتہ دو دنوں سے جمعیت علماء کے وکلا بھوپال میں موجود تھے اس دوران انہوں نے بھوپال سینٹرل جیل کا اور فرضی انکاؤنٹر کے علاقے کا معائنہ بھی کیا نیز دفاعی وکیل پرویز عالم سے ملاقات کی۔سخت سیکورٹی ہونے کی وجہ سے وفد کو جیل کے اندر ان بیرکوں تک نہیں جانے دیا گیا جہاں قیدی تھے۔ بھوپال سے ممبئی پہنچنے کے بعد ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ بھوپال سینٹرل جیل سے اچاری پور کا فاصلہ تقریباً 6سے 7 کلومیٹر ہے جہاں 31 اکتوبر کی صبح مبینہ سیمی کے آٹھ ارکان کو گولیوں سے بھون دیا گیا جبکہ پولس انہیں زندہ پکڑ سکتی تھی کیونکہ ملزمین پولس پر جوابی کارروائی نہیں کررہے تھے بلکہ وہ تو مدد مانگ رہے تھے نیز یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی بھی شخص آٹھ گھنٹوں میں صرف 7 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا اور وہ بھی ریاستی شاہرہ چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑیوں میں بھاگے گا؟ ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری نے بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہوسکتا کہ قیدی لکڑیوں کی چابیوں سے لوہے کے تالوں کو بیرک کھول کر راہ فرار اختیار کرے۔

TOPPOPULARRECENT