Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین ہنوز انصاف سے محروم

بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین ہنوز انصاف سے محروم

l پارلیمنٹ میں ارکان نے دو منٹ کی خاموشی منائی l 30 سال بعد بھی سانحہ کو یاد کرکے لرزہ طاری ہوجاتا ہے : حامد انصاری

l پارلیمنٹ میں ارکان نے دو منٹ کی خاموشی منائی
l 30 سال بعد بھی سانحہ کو یاد کرکے لرزہ طاری ہوجاتا ہے : حامد انصاری
بھوپال ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بھوپال گیس سانحہ کے 30 سال پورے ہونے پر آج احتجاجی ریالیوں اور بین مذاہب دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ اس سانحہ میں 5 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور متاثرین ہنوز انصاف سے محروم ہیں۔ دنیا کے اس بدترین سانحہ کے ہزاروں متاثرین کو خاطرخواہ معاوضہ اور ان کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔ یونین کاربائیڈ جراثیم کش پلانٹ میں 2 اور 3 ڈسمبر کی درمیانی شب 1984ء میں تقریباً 40 ٹن انتہائی مہلک میتھائل آئزو سائنیٹ گیس کا اخراج ہوا جس کے نتیجہ میں یہ سانحہ پیش آیا۔ پارلیمنٹ میں آج 30 سال پرانے سانحہ کو یاد کیا گیا۔ دونوں ایوان کے ارکان نے مہلوکین کے کو خراج پیش کرتے ہوئے دو منٹ کھڑے ہوکر خاموشی منائی۔ راجیہ سبھا میں صدرنشین حامد انصاری نے کہا کہ یہ انسانی سانحہ آج بھی ہمارے جسم میں کپکپی پیدا کردیتا ہے۔

جب بھی اس سانحہ کو یاد کیا جائے اور ذہن میں ان معصوم بچوں و انسانوں کی تکلیف کا تصور کیا جائے تو ہمارے لئے یہ تصور ناقابل برداشت ہوجاتا ہے اور لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ اس سانحہ کے بعد پیدا ہونے والے بچے جسمانی عوارض کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے متاثرین کی ممکنہ مدد کیلئے پارلیمنٹ کی مکمل تائید کا عہد کیا۔ اس سانحہ کی وجہ سے مہلوکین کی تعداد غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق 25 ہزار سے متجاوز ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 5,295 افراد ہلاک ہوئے جنہیں حکومت نے معاوضہ ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں بچ جانے والے متاثرین کینسر، بینائی سے محرومی، تنفسی عوارض اور مدافعتی نظام میں خرابی کے علاوہ اعصاب شکنی کا شکار ہیں۔ بھوپال کے قدیم علاقہ میں متاثرین کے حقوق کیلئے سرگرم این جی اوز نے آج احتجاجی ریالیاں منظم کیں اور علامتی پتلے نذرآتش کئے۔ انہوں نے خاطرخواہ معاوضہ، مؤثر طبی علاج اور ذمہ داران کو سخت سزاء کا مطالبہ کیا۔ ان متاثرین کی نمائندگی کرنے والی 5 تنظیموں نے دنیا بھر کے عوام سے اپیل کی ہیکہ وہ ذمہ دار پارٹیوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ متاثرین کو راحت مل سکے جو 30 سال سے تکالیف اور مصیبتوں کا سامنا کررہے ہیں۔ برکت اللہ بھون میں بین مذاہب دعائیہ اجتماع منعقد کیا گیا جس میں سانحہ کے شکار ہونے والوں کو خراج پیش کیا گیا۔

اس کے علاوہ بھوپال گیس پیڑتھ مہیلا ادیوگ سنگھٹن نے بھی کنوینر عبدالجبار کی قیادت میں شاہجہاں پارک میں علحدہ ایک جلسہ کا اہتمام کیا تھا۔ کل رات بھی ہزاروں افراد مشعلوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے تھے جنہوں نے ڈاؤ کیمیکل اور وارن اینڈرسن کے پتلے نذرآتش کئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مہلوکین کے ورثا کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا۔ ایک این جی او نے بتایا کہ یہ سانحہ گذرے 30 سال ہوچکے ہیں لیکن مہلوکین کی تعداد کے بارے میں قطعی اعداد و شمار اب تک دستیاب نہ ہوسکے۔ اس تنظیم کے مطابق غیرکارکرد یونین کاربائیڈ پلانٹ میں زہریلا فاضل مادہ اب بھی پڑا ہوا ہے اور یہ پلانٹ قدیم بھوپال علاقہ کے گنجان آبادی سے بالکل قریب واقع ہے۔ ایک اور این جی او بھوپال گروپ فار انفارمیشن ایکشن کی رکن رچنا دھنگرا نے دعویٰ کیا ہیکہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مہلوکین کی تعداد 25 ہزار سے متجاوز ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام کو معاوضہ کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن ریاستی حکومت نے صرف 5,295 مہلوکین کے ورثا کو ہی معاوضہ ادا کیا ہے۔ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت پہلے ہی 5.74 لاکھ متاثرہ افراد کو 3,840 کروڑ روپئے معاوضہ دے چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 675 کروڑ روپئے دینے کی تجویز ہے۔

بھوپال گیس سانحہ کے مہلوکین کی تعداد 25 ہزار سے زائد
بھوپال ۔ 3 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین کی بازآبادکاری کیلئے سرگرم ایک رضاکارانہ تنظیم (این جی او) نے آج یہ الزام عائد کیا ہے کہ دنیا کے بدترین صنعتی حادثہ کے مہلوکین کی حقیقی تعداد کے بارے میں ہنوز معلومات دستیاب نہیں ہے ، گو کہ یہ المیہ پیش آئے 30 سال کا طویل عرصہ گزر گیا ۔ تنظیم نے قدیم بھوپال کے گنجان آبادی والے علاقہ میں واقعہ غیر کارکرد یونین کاربائیڈ پلانٹ میں زہریلے مادوں کو چھوڑ دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچیکہ غیر سرکاری اعداد و شمار میں بھوپال گیس سانحہ کے مہلوکین کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار میں مہولکین کا اندازہ 5,215 قائم کیا گیا۔ جن کے ورثاء کو حکومت نے معاوضہ بھی ادا کر رہا ہے ۔ مدھیہ پردیش کے محکمہ امداد و بازآبادکاری برائے گیس سانحہ متاثرین کے سکریٹری مسٹر کے کے دوجے نے بتایا کہ بھوپال گیس المیہ میں 5,295 مہلوکین کے لواحقین کو معاوضہ ادا کردیا گیا ۔ تاہم رضاکارانہ تنظیم بھوپال گروپ فار انفارمیشن ایکشن (BGIA) کا رکن رچنا دھینگرا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دستیاب اطلاعات کے مطابق سانحہ پیش آنے سے اب تک 25 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل ہوگئے ہیں۔

ہم نے تمام مہلوکین کے ورثاء کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا لیکن ریاستی حکومت نے صرف 5,295 افراد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے معاوضہ ادا کیا ہے ۔ انہوں نے سرکاری اعداد و شمار میں تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت مدھیہ پردیش نے سال 2012 ء میں مرکزی وزارتی گروپ سے مطالبہ کیا تھا کہ گیس المیہ میں ہلاک 15,342 افراد کے رشتہ داروں کو فی کس 10 لاکھ روپئے ادا کئے جائیں ۔ یہ اعداد و شمار انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کو پیشکردہ رپورٹ میں بتائے گئے تھے۔ علاوہ ازیں مذکورہ این جی او نے غیر کارکرد کیمیکل پلانٹ سے 350 میٹرک ٹن زہریلے مادوں (Toxic Waste) کی عدم نکاسی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے

جس کی وجہ سے اس علاقہ میں فضائی آلودگی بالخصوص زیر زمین پانی زہریلا ہورہا ہے ۔ مسٹر دھنگرا نے بتایا کہ یونین کاربائیڈ کے خلاف سال 1999 ء سے سدرن ڈسٹرکٹ کورٹ نیویارک میں کیس کی سماعت جاری ہے جس میں بھوپال پلا نٹ سے ناکارہ زہریلے مادوں کو ہٹادینے کیلئے ہدایت کی گزارش کی گئی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پلانٹ کے قریب قیام پذ یر 17 افراد سال 1999 ء میں امریکی عدالت سے رجوع ہوئے تھے لیکن پیشرو مدھیہ پردیش کی حکومت کی سرد مہری کی وجہ سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے لیکن اب موجودہ مدھیہ پردیش حکومت کی ذمہ داری ہے کہ زہریلے مادوں کو ہٹادینے کیلئے امریکی عدالت میں مدافخلت کرے۔

TOPPOPULARRECENT