Wednesday , December 12 2018

بھوک کے مارے شیوسینا ارکان پارلیمان جب حیوان بن گئے

شیوسینا ایم پیز نے روزہ دار مسلم ملازم کے منہ میں زبردستی چپاتی ٹھونسنا جمہوریت پر کلنگ محمد ریاض احمد

شیوسینا ایم پیز نے روزہ دار مسلم ملازم کے منہ میں زبردستی چپاتی ٹھونسنا جمہوریت پر کلنگ
محمد ریاض احمد
کہتے ہیں کہ بھوکا انسان جانور بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھوک کے مارے انسان کا حال اس قدر بُرا ہوجاتا ہے کہ وہ جانوروں جیسی حرکتیں کرنا شروع کردیتا ہے اور اس کے وجود پر حیوانیت سوار ہوجاتی ہے۔ یہ تو رہی بات انسان کی لیکن اس وقت کیا ہوتا ہوگا جب کوئی جانور بھوکا ہو۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب شیوسینا سے تعلق رکھنے والے 11 ارکان پارلیمان نے اپنی ذلیل اور قابل مذمت حرکت کے ذریعہ دیا ہے۔ بھوک نے ان لوگوں کا ایسا حال کیاکہ وہ جانوروں کی طرح رویہ اختیار کرنے لگے۔ آپ کہیں گے کہ اگر یہ جانور ہیں تو پھر پارلیمنٹ میں کیسے پہنچ گئے؟ ارے بھائی ہم شیوسینا کے اُن سیاستدانوں کو جانور نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ اُن کے رویہ کو جانوروں کے رویہ سے تعبیر کررہے ہیں۔ ویسے بھی انصاف پسندوں کے خیال میں شیوسینا کے اُن 11 ارکان پارلیمان کا جانوروں سے تقابل کرنے پر خود جانوروں کی تضحیک ہوگی۔ کسی کو جانوروں سے تعبیر کرنے سے قبل دیکھیں کہ جانور کو جانور کیوں کہا جاتا ہے؟ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ جانور میں انسانیت نہیں ہوتی، وہ انسانوں کی طرح ایک دوسرے کا احترام نہیں کرتے۔ انھیں کسی کے مذہبی جذبات و احساسات کا خیال ہی نہیں ہوتا۔ ہمیشہ خون خرابہ کا بھوت اُن پر سوار رہتا ہے۔ جانور انسانوں کو نقصان پہنچانے کے عادی ہوتے ہیں۔ جانوروں میں انسانوں کے مقدس رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ ماں، بیوی اور بیٹی میں فرق محسوس نہیں کرتے۔ جانور اپنی حیوانیت کے ذریعہ دوسرے جانوروں اور انسانوں کو کترتے رہتے ہیں۔ وقت بے وقت چیختے چلاّتے اور بھونکتے رہتے ہیں۔ ان میں اچھائی بُرائی کی تمیز نہیں ہوتی۔ گندگی میں دم ہلاتے پھرتے رہتے ہیں۔ کھانے پر ٹوٹ پڑنا بھی جانوروں کی خاصیت ہے۔ بہرحال جانوروں کی خصلتیں بیان کرتے جائیں تو صفحات بھرتے جائیں گے۔ اب چلتے ہیں اس قصہ پر جس کے بعد آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہم نے آخر جانوروں کی خصلتیں کیوں بیان کیں۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ نئی دہلی کے مہاراشٹرا سدن میں شیوسینا کے 11 ارکان پارلیمان نے، جن پر بھوک کے باعث حیوانیت طاری ہوگئی تھی، کھانے کا ذائقہ ٹھیک نہ ہونے پر کیٹرنگ کے ایک مسلم سپروائزر کے ساتھ نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ اُسے حالت روزہ میں چپاتی کھانے پر مجبور کردیا۔ اس واقعہ پر عوام اور سیاستدانوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شیوسینا کے ارکان پارلیمان نے جو شاید پیدائشی بھوکے ہوں اس معاملہ میں حیوانوں کو بھی مات دے دی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ مہاراشٹرین ڈشس پیش نہ کئے جانے پر برہم تھے۔ ایسے میں ان لوگوں نے ایک کیٹرنگ سپروائزر ارشد زبیر کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے انہیں حالت روزہ میں چپاتی کھانے پر مجبور کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 15 ارکان پارلیمان کا ایک گروپ مہاراشٹرا سدن میں بہتر خدمات کے فقدان کا رونا روہا تھا۔ انڈین ریلوے کی آئی آر سی ٹی سی نے بطور احتجاج کیٹرنگ سرویس کو فوری معطل کردیا۔ آئی آر سی ٹی سی نے مہاراشٹرا ریسڈینٹ کمشنر کو دی گئی اپنی تحریری شکایت میں بتایا کہ شیوسینا کے ان ارکان راجیہ سبھا کی بیہودگی کے باعث اس کے مسلم ملازم کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے کیونکہ اس واقعہ میں ایک ملازم کے مذہبی حق کو پامال کیا گیا۔ زی نیوز انڈیا نے ایک مقامی روزنامہ کے حوالے سے بتایا کہ ریسڈنٹ کمشنر نے آئی آر سی ٹی سی اور ارشد زبیر سے معذرت خواہی کی ہے۔ دوسری جانب بزدلی کیلئے مشہور مہاراشٹرا کی کانگریس ۔ این سی پی مخلوط حکومت نے اپنی بزدلانہ روایات کی پاسداری کرتے ہوئے مناسب کارروائی کا عہد کیا ہے۔ ویسے بھی کانگریس کی زیرقیادت حکومت مہاراشٹرا شیوسینا ۔ بی جے پی اور دیگر فرقہ پرستوں کے خلاف کارروائی کا متعدد مرتبہ عہد کرچکی ہے لیکن اس ریاست میں ہر سطح پر ظلم و ستم کا شکار صرف اور صرف مسلمانوں کو بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹرا ملک کی اُن ریاستوں میں شامل ہے جہاں کی جیلیں بے قصور مسلم نوجوانوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان جیلوں میں مسلم قیدیوں پر حملے عام بات ہیں۔ بہرحال آئی آر سی ٹی سی نے مہاراشٹرا ریسیڈنٹ کمشنر کو جو مکتوب لکھا اس میں جن 11 شیوسینا ارکان پارلیمان کے نام پیش کئے گئے ہیں ان میں سنجے راوت، آنند راؤ ارسول (امراوتی) ، راجن وچارے (تھانے) ، اروند ساونت (ممبئی ۔ ساؤتھ) ، ہیمنت گوڑسے (ناسک)، کروپال تمانے (رام ٹیک) ، رویندر گائکواڈ (عثمان آباد) ، ونائک راوت (رتناگری ۔ سندھو درگ) ، شیواجی ادھل راؤ پاٹل (شرور) ، راہول شیوالے (ممبئی ۔ ساؤتھ سنٹرل) اور سریکانت شنڈے (کلیان) شامل ہیں۔ روزہ دار مسلم ملازم کو زبردستی کھانے پر مجبور کرنے سے متعلق میڈیا میں رپورٹس کے منظر عام پر آتے ہی سنجے راوت نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔ اُنھوں نے مسلم کیٹرنگ سپروائزر کو کھانے کیلئے مجبور کرنے کی تردید کی لیکن آنند راؤ ادسول نے یہ کہتے ہوئے اس اقدام کی مدافعت کی کہ مہاراشٹرا سدن میں سربراہ کیا جانے والا کھانا معیاری نہیں تھا اس لئے ارکان پارلیمان نے سپروائزر کو دیکھنے اور معیار جانچنے کی ہدایت دی وہ اس کے مذہب کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ مہاراشٹرا سدن کی سہولتوں کی مذمت کرتے ہوئے وچارے کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے۔ دہلی میں پیش آئے مذکورہ بدبختانہ واقعہ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) قائد مجید میمن نے کہاکہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جانی ضروری ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہئے۔ این سی پی کے ایک اور لیڈر طارق انور کے خیال میں شیوسینا ایک ذمہ دار جماعت نہیں ہے بلکہ اس نے ہمیشہ سے ہی غیر سماجی عناصر کے ایک گروپ کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ این سی پی کے سینئر لیڈر نواب ملک کا کہنا ہے کہ ریسڈنٹ کمشنر کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کو دہلی پولیس سے رجوع کرے اور اس کیس میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔ دوسری جانب کانگریس قائدین نے بھوک کے مارے حیوان بن جانے والے ارکان پارلیمان سے برسر عام معذرت خواہی کا مطالبہ کیا اور کہاکہ ہمارے ملک میں اس طرح کے اکثریتی رجحان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ منیش تیواری کے خیال میں شیوسینا ارکان نے جو بھی کیا ہے وہ قابل مذمت ہے اور ہر لحاظ سے اس کی شدید مذمت کی جانی چاہئے۔ سماج وادی پارٹی قائد نریش اگروال نے اس واقعہ کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ جانتے ہیں کہ حکومت اس پر کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ تاہم کارروائی کی جانی ضروری ہے۔ سی پی ایم لیڈر یچوری نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ کو واضح طور پر کہہ دینا چاہئے کہ اس قسم کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ارشد زبیر کا کہنا ہے کہ ارکان پارلیمان، میڈیا نمائندوں کے ساتھ کچن میں داخل ہوئے اور ان کے منہ میں زبردستی چپاتی ٹھونس دی حالانکہ میں آئی آر سی ٹی سی کا یونیفارم زیب تن کئے ہوئے تھا اور نام کا ٹیگ بھی میرے جیب پر لگا ہوا تھا اس کے باوجود ان لوگوں نے زبردستی میرے منہ میں چپاتی ٹھونس دی۔ اس طرح میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ اس سے میرے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

TOPPOPULARRECENT