Monday , June 25 2018
Home / اداریہ / بھوک ہڑتال کی سیاست

بھوک ہڑتال کی سیاست

حکمراں پارٹی اور اپوزیشن دونوں کو اپنے سیاسی مفادات کی فکر لاحق ہوتی ہے تو وہ عوام کے سامنے اپنی بات رکھنے کے لیے نت نئے ڈرامے بازی پر اتر آتی ہیں ۔ ایک دوسرے کے خلاف بہتان تراشی کے تیر برسائے جاتے ہیں ۔ دہلی میں اس وقت حکمراں پارٹی بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے درمیان یہی کچھ ہورہا ہے ۔ ملک میں عام انتخابات کے لیے جیسے جیسے دن قریب آتے جارہے ہیں سیاستدانوں کا مزاج بھی تلخ ہوتا جارہا ہے ۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے مرکز کی بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت پر ملک کو مذہب ، ذات پات کے خطوط پر منقسم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دلتوں ، قبائیلوں اور مسلمانوں کے خلاف امتیازات برتے جانے کی شکایت کے ساتھ ایک روزہ بھوک ہڑتال کی ۔ اس کے دو دن بعد وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے حالیہ بجٹ سیشن کے مکمل ضائع ہوجانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ جمعرات کو ایک روزہ برت کا اعلان کیا ہے ۔

ان کی حمایت میں صدر بی جے پی امیت شاہ بھی اسمبلی انتخابات والی ریاست کرناٹک میں بھوک ہڑتال کیمپ پر بیٹھ گئے ۔ یہ بھوک ہڑتال کی سیاست نے حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے مد مقابل کردیا ہے تو رائے دہندے ان سیاستدانوں کی نبض بہتر طریقہ سے جان چکے ہیں ۔ سیاستدانوں کی بھوک ہڑتال دراصل اقتدار کی بھوک کا حصہ ہوتی ہے ۔ کانگریس نے دلتوں کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی ۔ کئی جگہ کانگریس کے قائدین کی بھوک ہڑتال کیمپ میں حصہ لینے سے قبل ایک ہوٹل میں ’ چھولے بھتورے ‘ کھاتے ہوئے تصاویر کو سوشیل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے بی جے پی نے کانگریس قائدین کا تمسخر اڑایا ۔ کانگریس کو تعیش پسند اور آرام دہ سیاست کی پارٹی قرار دیا گیا ہے جب کہ وزیراعظم نریندر مودی کو عملی سیاست کا ایک محنت کش سیاستداں بتایا گیا ۔ ہر دو جانب کے سیاستدانوں نے بھوک ہڑتال کو اپنی کامیابی کا ہتھیار بنانے کی کوشش کی مگر وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے کیوں کہ کانگریس قائدین کا ایک ہوٹل میں کھانا کھانا صدر پارٹی کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا جب کہ وزیراعظم مودی کا برت اپوزیشن کی تنقیدوں کا شکار ہوگیا ۔ اسی طرح دونوں قومی پارٹیوں نے برت کی اہمیت و اثر پذیری کو گھٹا کر کام لینے کی کوشش کی ۔ ہندوستان میں برت رکھنے کا مظاہرہ ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے ۔ کسی کاز اور مقصد کے لیے اظہار یگانگت کرنا ہوتا ہے تو قائدین نے برت رکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ۔

مہاتما گاندھی نے ہندوستان میں چھوت چھات کی لعنت کے خلاف برت شروع کیا تھا جس میں وہ صد فیصد کامیاب ہوئے اور انگریزوں نے کاسٹ ہندو اور اچھوت کے درمیان تصفیہ کے اصولی قواعد سے اتفاق کیا تھا ۔ مہاتما گاندھی نے ایروڈا جیل میں 60 دن تک بھوک ہڑتال کی تھی اور 149 گھنٹے کچھ کھائے پیئے بغیر گذارے ، لیکن کانگریس کے موجودہ قائدین نے چند گھنٹوں کی علامتی بھوک ہڑتال شروع کرنے سے قبل جی بھر کر کھانا کھالیا ۔ ان کے اس ڈرامائی برت سے ملک کے دلتوں ، اقلیتوں یا حقوق سے محروم افراد کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ بی جے پی قائدین کو جوابی قدم اٹھانے کی عادت پڑ گئی ہے ۔ اس لیے کانگریس کے برت پروگرام کے جواب میں وزیراعظم مودی نے بھی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ۔ مہاتما گاندھی کے برت اور آج کے قائدین کے برت میں کوئی میل دکھائی نہیں دیتا ۔ مہاتما گاندھی نے آزاد ہند سے قبل انگریزوں پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے 17 مرتبہ بھوک ہڑتال کی تھی ، سب سے طویل بھوک ہڑتال 21 روز کی تھی ۔ ان کی ہندو ۔ مسلم اتحاد کے لیے کی گئی بھوک ہڑتال کے باعث ہی آج ہندوستان میں ایک سیکولر فضا قائم ہے لیکن بی جے پی قائدین نے اپنی سیاسی پالیسیوں کے ذریعہ سیکولر فضا کو مکدر کردیا ہے ۔ برت رکھنے کا مقصد ہی فوت کردیا جارہا ہے ۔ سماج کی بہتری کے لیے دیگر کئی مواقع پر مختلف قائدین اور تنظیموں نے بھوک ہڑتال کا اہتمام کیا اور اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس قائد کے چندر شیکھر راؤ نے بھی تلنگانہ کے قیام کے لیے 9 روزہ بھوک ہڑتال کر کے اپنے حصول تلنگانہ مقصد میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن جب بھوک ہڑتال صرف علامتی مظاہرہ تک سمٹ کر رہ جائے تو اس کے نتائج بھی صفر ہی نکلتے ہیں ۔ ان دنوں بھوک ہڑتال کی سیاست لا حاصل دکھائی دے رہی ہے ۔ سیاستدانوں کے دلوں میں کچھ ہوتا ہے اور ظاہری طور پر ان کا عمل کچھ اور دکھائی دیتا ہے ۔ ایسے میں بھوک ہڑتال کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT