Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / بھگونت مان ویڈیو تنازعہ پر پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

بھگونت مان ویڈیو تنازعہ پر پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

نئی دہلی،25جولائی،(سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا نے عام آدمی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ بھگونت مان کی طرف سے کی گئی پارلیمنٹ کی سیکورٹی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملے کی جانچ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن کت سومیا کی سربراہی میں ایوان کی ایک 9 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے اور کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے تک انھیں ایوان کے اجلاس میں شرکت سے روک دیا ہے ۔ واضح رہے کہ بھگونت مان نے فیس بک پر پارلیمنٹ کے اندر بنایا گیا ویڈیو پوسٹ کیا تھا جو پارلیمنٹ کے ضابطوں اور اسکی سیکورٹی کے لحاظ سے غلط تھا۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے آج ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہیں کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ اسپیکر نے کہا کہ یہ کمیٹی تمام معاملات کی تیزی سے جانچ کریگی اور 3 اگست تک اپنی رپورٹ پیش کردیگی۔ مسٹر سومیا کے علاوہ کمیٹی میں دیگر آٹھ ا رکان ہوں گے – ان میں شیوسینا کے آنندراؤ وٹھوبا اڈسل، بی جے پی کی میناکشی لیکھی اور ستپال سنگھ، بیجو جنتا دل کے بھرتروھری مھتاب، ترنمول کانگریس کی رتنا ڈے ، تیلگودیشم پارٹی کے تھوٹا نرسمہن، کانگریس کے کے سی وینو گوپال اور انا ڈی ایم کے کے پی وینو گوپال شامل ہیں ۔ محترمہ مہاجن نے کہا کہ جانچ کمیٹی ویڈیو پوسٹ کئے جانے کے پیش نظر پارلیمنٹ کے باہر اور اندر کی سیکورٹی کے نظام کو درپیش خطرات کی سنجیدگی اور اس سے پیدا ہوئے دوسرے پہلوؤں کا بھی جائزہ لے گی۔ کمیٹی مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی معاملے پر روک لگانے کے تعلق سے بھی تجویز پیش کریگی۔ اسپیکر نے کہا کہ پارلیمنٹ پر 2001 میں دہشت گرد انہ حملے ہو چکے ہیں اور مسٹر مان کی طرف سے آڈیو اور ویڈیو پوسٹ کئے جانے سے سیکورٹی کو سخت خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 22 جولائی کے اس واقعہ کے بعد اس ایوان میں مختلف جماعتوں کے ارکان نے ان سے ملاقات کی تھی اور اس بارے میں کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے ان اراکین کو یقین دلایا تھا کہ میں اس معاملے میں ضروری فیصلے کروں گی اور میں نے کریٹ سومیا کی قیادت میں نو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے ۔‘‘

TOPPOPULARRECENT