Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / بھیمہ کورے گاؤ ں تشدد۔پاپولر فرنٹ نے ہندوتووادیوں کو ذمہ دار ٹھرایا۔

بھیمہ کورے گاؤ ں تشدد۔پاپولر فرنٹ نے ہندوتووادیوں کو ذمہ دار ٹھرایا۔

ای ابوبکر نے الزام عائد کیاکہ‘ یہ حملے منصوبہ بند طریقے سے انجام دئے گئے ہیں۔
نئی دہلی۔ بھیما کورے گاؤں جنگ کی 200ویں سالگرہ کے موقع پر بھڑکے تشدد اور دلتوں پر حملہ کے لئے ہندوتواوادیوں کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے آر ایس ایس اور بی جے پی پر سخت حملہ کیا۔پی ایف ائی کے چیرمن ای ابوبکر نے آج یہاں ایک بیان جاری کرکے الزام عائد کیاکہ ’ یہ حملے منصوبہ بند طریقے سے انجام دئے گئے ہیں۔یہ ہندوتو طاقتوں کے ذریعہ ریاست میں مراٹھوں اور دلتوں کے خلاف کھڑا کرکے دلتوں کے حقوق چھیننے کی کوشش کا حصہ ہے۔

بھیمہ کور ے گاؤں جنگ کے دوسوسال کی تکمیل کا جشن منانے کے کئے جمع ہوئے لوگوں پر حملے کی تیار کررہے غنڈوں کو روکنے میں ریاستی حکومت اور پولیس کی ناکامی کے سبب ایک معصوم کی جان چلی گئی اور ریاست بھر میں تشدد کی آگ بھڑک اٹھی۔ اب پولیس نہتے لوگوں پر حملہ کرنے والے مجرموں کو پکڑنے کے بجائے ‘ جگنیش میوانی اور عمر خالد جیسے لیڈروں سمیت پروگرام میں ہونے کے لئے ائے بے قصور لوگوں کو غلط طریقے سے پھنسارہی ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ہزاروں سالوں سے جاری برہمنوادی ظلم وزیادتی کے خلاف اپنے وقار اور حقوق کی حفاظت کے لئے لڑرہے دلتوں پر ذات پات کی بنیاد پر ہوئے تشدد کی یہ ایک اور مثال ہے۔سال2014کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ہندوتوا طاقت کے برسراقتدار انے کی وجہہ سے اس قسم کے پر تشدد واقعات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ گجرات میں مردہ گائے کا چمڑہ اتارنے پر دلت مزدور وں کو بری طرح مارا پیٹاگیا اعلی ذات کے لوگوں نے ہریانہ میں دلت بچوں کو زندہ جلادیا مندر میں داخل ہونے کے جرم میںیوپی میں ایک دلت بزرگ کو جلاکر ماردیاگیا‘ اس طرح کے واقعایت کی ایک لمبی فہرست ہے۔

اس کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں پر کالے قانون لگا کر انہیں جیلوں میں ڈال دیاجاتا ہے۔بھیم آرمی کے لیڈر چندرشیکھر آزاد پر این ایس اے جیسا کالا قانون لگادیااور وہ ابھی بھی جیل میں قید ہے۔ہم ریاستی حکومت سے مجرموں کی شناخت کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور مقتول کے ورثاء اور اس حملے میں زخمی دیگر لوگوں کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ساتھ ہی ہم ملک کے شہریوں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ دلت برداری کے وقار او ر حقوق انسانی کی لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں

TOPPOPULARRECENT