Saturday , November 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / بھینسہ میں ہندو واہنی کا بند اور احتجاجی ریالی

بھینسہ میں ہندو واہنی کا بند اور احتجاجی ریالی

اشتعالی انگیز نعرے ، دہشت گردوں کا علامتی پتلہ نذرآتش ، ہندو کارکنان پر مقدمات درج

بھینسہ /14 جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) بھینسہ شہر میں ہندو واہنی تنظیم کے اعلان بند کے پیش نظر اکثریتی طبقہ کے تمام کاروباری و تجارتی ادارے مکمل طور پر بند کرتے ہوئے پولیس کے خلاف ایک زبردست احتجاجی ریالی کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ یہ بند اور ریالی پولیس بھینسہ کے خلاف نکالی گئی ۔ کیونکہ گذشتہ دو روز قبل شہر میں پولیس 30 ایکٹ نفاذ کے باوجود ہندو واہنی کارکنان نے امرناتھ یاتریوں کے حملہ کے خلاف ریالی نکالی اور دہشت گردوں کا علامتی پتلہ نذر آتش کیا گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے بھینسہ پولیس نے 10 ہندو واہنی کارکنان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ اسی کے پیش نظر شہر میں ہندو واہنی کی جانب سے بند مناتے ہوئے مختلف ہندو تنظیموں کے ہزاروں نوجوانوں نے ایک زبردست احتجاجی ریالی نکالی ۔ ریالی کا آغاز شہر کے پانڈری گلی پر واقع مہادیو مندر سے ریالی نکالی ۔ ہندو واہنی کے بند اور ریالی کے پیش نظر صبح کی اولین ساعتوں سے ہی مہا دیو مندر میں ہندو نوجوانوں کی کثیر تعداد جمع ہونا شروع ہوگئی اور کچھ وقت میں ہزاروں ہندو نوجوان جمع ہوگئے ۔ بھینسہ میں ہندو واہنی کے بند ، پولیس مخالف ریالی اور جمعہ کے پیش نظر پولیس کی جانب سے وسیع تر صیانتی انتظامات کرتے ہوئے ضلع نرمل کے پولیس عہدیداران اور نیم فوجی دستوں کے علاوہ وجرا گاڑی کو بھینسہ طلب کرتے ہوئے شہر کے مذہبی مقامات اور حساس چوراہوں پر کثیر تعداد میں پولیس جوانوں کو متعین کیا گیا اور پولیس عہدیداران صبح سے ہی شہر میں طلایہ گردی میں شدت کے ساتھ دیکھے گئے ۔ ہندو واہنی کی پولیس مخالف ریالی کا آغاز مہادیومندر سے کیا گیا جس کی قیادت ہندو واہنی ریاستی نائب صدر سرکنڈہ سرینواس ، ضلعی صدر گالی روی ، ٹاون صدر ایم لنگوجی کے علاوہ سنتوش وینو گوپال سیٹھ ، راماکرشنا ، پروین پی راجو ، کپل سندے و دیگر نے کی ۔ یہ احتجاجی ریالی پانڈری گلی ، بارہ امام گلی ، مارکٹ ایریا ، کپڑا مارکٹ ، مولانا آزاد چوک سے ٹیپو سلطان چوک کے قریب HDFC بنک پہونچنے پر ہلکی سی کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ جس کے پیش نظر پولیس کافی متحرک ہوتے ہوئے حالات کو بے قابو ہونے سے بچالیا ۔ہلکی سی کشیدگی کے پیش نظر شہر میں افواہوں کا بازار گرام ہوگیا ۔ جس کی وجہ سے اقلیتی طبقہ کے نوجوان بھی مختلف مقامات پر جمع ہونا شروع ہوگئے ۔ لیکن پولیس نے ریالی کو آگے بڑھاتے ہوئے متحرک دیکھی گئی ۔ یہ جوس بس ساٹانڈ سے ہوتئے ہوئے بھینسہ تحصیل دفتر کی جانب برہمی کے عالم میں بھینسہ DSP اندے راملو و پولیس عہدیداران کے خلاف نعرے بازی و برخواست کرنے کا مطالبہ اور اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوئے بھینسہ آئی بی گیسٹ ہاوز پہونچکر ایک جلسہ میں تبدیل ہوگیا ۔ جہاں مقامی ہندو واہنی قائدین کے علاوہ بی جے پی قائدین جن میں راہولہ رام ناتھ ، روی پانڈے ، بھومیا ، گوپال ساڑا کے علاوہ نرمل و دیگر مقامات کے ہندو قائدین احتجاج میں شامل ہوگئے ۔ مذکورہ ہندو قائدین نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امرناتھ یاتریوں کے حملہ کے بعد ملک کے ہر مقامات پر دہشت گردوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے پیش کئے جارہے ہیں ۔ لیکن بھینسہ دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے پر ڈی ایس پی اندے راملو و بھینسہ پولیس 30 پولیس ایکٹ کا بہانے بناتے ہوئے ہندو واہنی کارکنان پر مقدمات درج کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے پولیس کی یہ کارروائی دہشت گردوں کاساتھ دینے کا مترادف ہے ۔ مذکورہ ہندو قائدین نے ہندو واہنی کے نوجوانوں کو کہا کہ اس طرح کے پولیس مقدمات سے نہ گھبرائے اور متحد ہوجائے ۔ انہوں نے بھینسہ ڈی ایس پی اندے راملو اور بھینسہ پولیس عہدیداران پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور پولیس عہدیداران کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا اور ہندو واہنی کارکنان پر درج مقدمات سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا ۔ بعد ازاں بھینسہ آر ڈی او راجو کو ایک تحریری یادداشت اس ضمن میں پیش کی گئی ۔ واضح رہے کہ بھینسہ پولیس کی جانب سے ڈیویژن اور شہر میں پولیس 30 ایکٹ نافذ کرنے کے باوجود کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں ہندو واہنی کارکنان نے پولیس مخالف ریالی نکالی گئی ۔ اور ریالی کے دوران کچھ وقت کیلئے ہلکی سی کشیدگی دیکھی گئی جس کی وجہ سے شہر کی پرامن فضاء مکدر ہوسکتی تھی ۔ لیکن پولیس کی بروقت کارروائی نے حالات کو بے قابو ہونے سے بچالیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT