Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بھینسہ وقف اراضیات پر میونسپل کونسل کا غیرقانونی قبضہ

بھینسہ وقف اراضیات پر میونسپل کونسل کا غیرقانونی قبضہ

حیدرآباد کی مقامی سیاسی جماعت سے دوستی کا فائدہ اٹھا کر وقف جائیدادوں کو سرکاری ملکیت بنانے کی کوشش
حیدرآباد۔/11اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سرکاری اداروں کی جانب سے وقف اراضیات پر قبضوں اور انہیں اپنی اراضی قراردیتے ہوئے خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کی یوں تو کئی مثالیں موجود ہیں لیکن بھینسہ میونسپل کونسل نے وقف بورڈ کی اراضی پر غیر قانونی طور پر نہ صرف قبضہ کیا بلکہ اس کی 40 ملگیات کو لیز پر دینے کیلئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ وقف کونسل پر حیدرآباد کی مقامی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد فائز ہیں اور انہوں نے اس سرپرستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وقف بورڈ کے احکامات کو ماننے سے انکار کردیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وقف انسپکٹر نے اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کرتے ہوئے اس اراضی کا سروے کیا اور اسے وقف قرار دیا لیکن میونسپل کونسل کے صدرنشین نے وقف انسپکٹر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ عادل آباد کے بھینسہ میں وقف کی کئی قیمتی اراضیات موجود ہیں اور ان کے تحفظ کے بجائے مقامی جماعت کے قائدین ان کا تحفظ کرنے والوں کے خلاف کام کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ نے جب اراضیات کا معائنہ کرنے کیلئے بھینسہ کا دورہ کیا تو ان پر دباؤ بنایا گیا کہ وہ مقامی جماعت کے قائدین کے مکان پہنچیں لیکن چیف ایکزیکیٹو آفیسر اسد اللہ نے کسی دباؤ کو قبول نہ کرتے ہوئے اپنی تحقیقات کی تکمیل کی۔ اوقافی اراضی کا مکمل ثبوت وقف بورڈ میں موجود ہے اور سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے 6 اگسٹ کو ضلع کلکٹر عادل آباد کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کی خواہش کی تھی اس کے باوجود سکریٹری کے احکامات پر عمل نہیں کیا گیا اور میونسپل کونسل نے 40 ملگیات کو لیز پر دینے کی کارروائی شروع کردی ہے۔ بھینسہ سے تعلق رکھنے والے افراد میں سعید احمد ایڈوکیٹ اور صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی عثمان بن محمد الہاجری کے ہمراہ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی اور تمام تفصیلات پیش کی۔ جناب زاہد علی خاں نے اس جائیداد کے تحفظ کیلئے حکومت کی سطح پر نمائندگی کا تیقن دیا۔ وفد اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بھی نمائندگی کرے گا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو یادداشت روانہ کردی گئی ہے۔ بھینسہ ٹاؤن میں قبرستان عبداللہ خاں تکیہ کی اراضی گزٹ نمبر 1A مورخہ 4 جنوری1990 میں درج ہے جس کے تحت 40 ملگیات ہیں۔ سروے نمبر 330/2 کے تحت 3111.1 مربع گز زمین موجود ہے۔ بھینسہ میونسپل کونسل نے بعض اخبارات میں 29 ستمبر کو اعلامیہ جاری کرتے ہوئے 40 ملگیات کی لیز کے سلسلہ میں درخواستیں طلب کی ہیں جس میں 13 اکٹوبر درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ دی گئی ہے جبکہ 15اکٹوبر کو ہراج کرنے کا منصوبہ ہے۔ میونسپل کونسل کا یہ اقدام غیر قانونی ہے اور حکومت کو فوری اس سلسلہ میں مداخلت کرتے ہوئے لیز کی کارروائی روکنے کی ضرورت ہے۔ اوقافی اراضی سے متعلق 15 اکٹوبر اور اس سے قبل 6 اگسٹ کو سکریٹری کی جانب سے ضلع کلکٹر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مکتوبات روانہ کئے گئے لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ لیز کا عمل مکمل ہونے کی صورت میں وقف بورڈ بھینسہ میں قیمتی اراضی سے محروم ہوجائے گا۔ تلنگانہ حکومت اور بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور حکومت کے قبضہ میں موجود اراضیات وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا تیقن دے چکے ہیں لیکن میونسپل کونسل بھینسہ کے اس غیرقانونی اقدام اور اوقافی اراضی پر قبضہ پر خاموشی باعث حیرت ہے۔ بھینسہ کے عوام نے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے۔ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کو چاہیئے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے ضلع کلکٹر کو ہدایت دیں کہ ملگیات کی لیز کو فوری روک دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT