Wednesday , December 12 2018

بھیونڈی میں یکجہتی کا مظاہرہ : مسلمان سنکرانتی میں شریک

تھانے ۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) فرقہ وارانہ طور پر حساس شہر بھیونڈی میں پہلی مرتبہ ہندوؤں اور مسلمانوں نے بظاہر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک ساتھ سنکرانتی تہوار منایا جہاں دونوں طبقے کے افراد ایک ساتھ پتنگیں اُڑائیں اور آپس میں مٹھائیوں کا تبادلہ بھی کیا۔ واضح رہے کہ بھیونڈی میں جہاں مسلمانوں کی آبادی کم ہے، اور پاورلوم انڈسٹری کیلئے مشہور ہے، 1970ء اور 1984ء میں بدترین ہندو مسلم فساد کا سامنا کیا ہے ، تاہم گزشتہ روز پہلی مرتبہ دونوں فرقوں کے افراد خصوصاً خواتین کو تل گل کو تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ مہاراشٹرا میں سنکرانتی کے روایتی تہوار کے موقع پر ’’تل گل‘‘ کو ایک اہم رسم سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر 78 سالہ عباس قریشی نے کہا کہ ہماری نئی نسل اس قسم کے اقدام کررہی ہے اور دونوں مذاہب کے نوجوان ایک ساتھ تہوار منانے کا رواج شروع کیا ہے، تاہم یہ مرتبہ ہے کہ جب سنکرانتی تہوار دونوں طبقے کے افراد ایک ساتھ منا رہے ہیں۔ دونوں فرقوں کے افراد ساتھ میں پتنگیں اڑائیں گے اور مٹھائیوں کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں بھیونڈی کے مسلمانوں نے گنیش فیسٹیول، گوکل لکشمی اور شیو جینتی کے موقع پر بھی حصہ لیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT